پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر ہونے والے سانحہ کارساز کو آج 19 برس مکمل ہوگئے۔ استقبال کے لیے جمع ہونے والے کارکنوں کی خوشیاں دو دھماکوں نے ماتم میں بدل دی تھیں۔
بے نظیر بھٹو حملے میں محفوظ رہیں، لیکن بڑی تعداد میں کارکن اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔ انیسویں برسی پر جہاں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، وہیں تحقیقات اور انصاف سے متعلق سوالات بھی دوبارہ سامنے آگئے۔
18 اکتوبر 2007: کراچی میں کیا ہورہا تھا؟
18 اکتوبر 2007، جمعرات کا دن تھا۔ بے نظیر بھٹو تقریباً آٹھ برس کی خودساختہ جلاوطنی کے بعد دبئی سے کراچی پہنچی تھیں۔ ان کی واپسی پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے لیے ایک بڑی سیاسی پیش رفت تھی۔ استقبال کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود تھی اور ان کا قافلہ ایئرپورٹ سے مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ہجوم کے باعث سفر انتہائی سست رفتاری سے جاری تھا۔
بے نظیر بھٹو ایک خصوصی حفاظتی ٹرک پر سوار تھیں، جہاں سے وہ استقبال کرنے والوں کو جواب دے رہی تھیں۔ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود کارکن قافلے کے ساتھ چل رہے تھے۔ یہی استقبال رات گئے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک خونیں واقعے میں بدل گیا۔
پہلا دھماکا، پھر زیادہ تباہ کن حملہ
شاہراہِ فیصل پر کارساز کے قریب قافلے کو دو دھماکوں نے نشانہ بنایا۔ پہلے دھماکے کے بعد کارکنوں اور حفاظتی رضاکاروں کی توجہ بے نظیر بھٹو کے ٹرک کی طرف گئی، پھر دوسرا زیادہ تباہ کن دھماکا ہوا۔ ابتدائی پولیس بیان میں پہلے دھماکے کو دستی بم اور دوسرے کو خودکش حملہ قرار دیا گیا تھا۔
اس واقعے کو عموماً 18 اکتوبر کا سانحہ کہا جاتا ہے، کیونکہ بے نظیر اسی روز وطن پہنچی تھیں اور استقبالی جلوس بھی اسی دن شروع ہوا تھا۔ تاہم، معاصر بین الاقوامی رپورٹوں میں حملے کا وقت نصف شب کے بعد، یعنی 19 اکتوبر کے ابتدائی گھنٹوں میں درج ہے۔ اسی لیے تاریخی ریکارڈ میں دونوں تاریخیں ملتی ہیں۔
کتنے لوگ جان سے گئے؟
سانحہ کارساز میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف رپورٹوں میں مختلف ملتی ہے۔ آج کی دنیا نیوز رپورٹ میں 150 سے زائد افراد کی ہلاکت اور سینکڑوں کے زخمی ہونے کا ذکر ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ برس کے سرکاری طور پر رپورٹ شدہ پیغام میں 180 کارکنوں کی شہادت بیان کی گئی تھی۔ اس لیے کسی ایک عدد کو تمام ذرائع کا متفقہ حتمی شمار قرار دینا درست نہیں۔
جانی نقصان کے علاوہ متعدد زخمیوں کی زندگی مستقل طور پر بدل گئی۔ کسی گھر کا کفیل چلا گیا، کسی کارکن کو عمر بھر کی معذوری ملی، اور کسی خاندان کا استقبال کے لیے جانے والا فرد واپس نہ آیا۔
بے نظیر بھٹو کیسے محفوظ رہیں؟
حملے کے وقت بے نظیر بھٹو کے خصوصی ٹرک کے اندرونی حصے میں ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ دفاعی و سلامتی کے تحقیقی ادارے رُوسی کی اس وقت کی تحلیل کے مطابق، وہ ٹرک کے بالائی حصے سے نیچے آچکی تھیں، جس نے ان کے محفوظ رہنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دھماکوں کے بعد انہیں بلاول ہاؤس منتقل کردیا گیا۔
ان کے گرد موجود غیرمسلح رضاکار، جنہیں ’’جانثارانِ بے نظیر‘‘ کہا جاتا تھا، مشکوک افراد پر نظر رکھنے اور لوگوں کو ٹرک کے قریب آنے سے روکنے کی ذمہ داری ادا کررہے تھے۔ زندہ بچ جانے والے رضاکاروں کی یادداشتوں میں پہلے دھماکے کے بعد اپنی قائد کی طرف بڑھنے اور پھر دوسرے دھماکے کی زد میں آنے کا ذکر ملتا ہے۔
سانحہ ختم ہوا، متاثرین کی مشکلات نہیں
عرب نیوز نے 2019 میں زخمی رضاکار ارشاد حسین کی زندگی پر رپورٹ شائع کی تھی۔ وہ حملے کے وقت تقریباً 20 برس کے تھے اور دھماکے میں ریڑھ کی ہڈی کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث معذور ہوگئے۔
اس وقت انہوں نے علاج، بچوں کی تعلیم اور مالی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔ ان کی کہانی واضح کرتی ہے کہ ایسے حملوں کا انسانی نقصان صرف ہلاکتوں کے شمار تک محدود نہیں رہتا؛ زندہ بچ جانے والوں اور ان کے خاندانوں کو بھی برسوں مدد درکار ہوتی ہے۔ یہ تفصیلات 2019 کی رپورٹ سے متعلق ہیں، ان کی موجودہ حالت کی تازہ تصدیق دستیاب نہیں۔
تحقیقات کہاں پہنچیں؟
سانحے کے بعد مختلف ادوار میں تحقیقاتی اقدامات اور نئی کمیٹیوں کے اعلانات ہوئے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 2013 کی رپورٹ نے ایک سال پہلے بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم کی پیش رفت پر سوالات اٹھائے تھے۔ جیو کی 2018 کی رپورٹ میں بھی متعدد تحقیقاتی مراحل کے باوجود معاملہ آگے نہ بڑھنے کی نشاندہی کی گئی۔
آج انیسویں برسی کی کوریج میں بھی انصاف اور ذمہ داروں کے تعین کے سوالات برقرار ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ایسی مصدقہ تازہ اطلاع نہیں ملی جس سے حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے خلاف کسی حتمی عدالتی نتیجے کی تصدیق ہوسکے۔
برسی سے ایک روز پہلے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم اور سابق مشیرِ داخلہ وسیم اختر کو تحقیقات میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ کھوڑو کا مطالبہ ہے؛ اسے ان افراد کے خلاف جرم ثابت ہونے یا عدالتی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
کارساز اور بے نظیر کا قتل دو الگ واقعات ہیں
بے نظیر بھٹو کارساز حملے میں محفوظ رہی تھیں۔ تقریباً دو ماہ بعد، 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں انتخابی جلسے کے بعد ایک الگ حملے میں ان کا قتل ہوا۔ دونوں واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم سانحات ہیں، لیکن ان کی جائے وقوعہ، مقدمات اور تحقیقاتی تفصیلات الگ ہیں۔
انیسویں برسی پر قیادت کے پیغامات
صدر آصف علی زرداری نے آج سانحہ کارساز کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو قومی تاریخ کا روشن باب قرار دیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ دہشت گردی اور تشدد جمہوری جدوجہد کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کے موقع پر جان دینے والے کارکنوں کو یاد کیا اور جمہوری اداروں کے استحکام کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
یادگاروں کے ساتھ جواب دہی بھی ضروری
سانحہ کارساز کی برسی شہدا کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ اس سوال کا موقع بھی ہے کہ تحقیقات کی مکمل اور قابلِ تصدیق صورتِ حال عوام کے سامنے کب آئے گی۔ متعلقہ اداروں اور مختلف ادوار کی حکومتوں سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ کون سے شواہد ملے، کن رکاوٹوں نے کارروائی متاثر کی اور متاثرین کی مدد کے لیے کیا مستقل انتظام موجود ہے۔
انیس برس پہلے کراچی آنے والے کارکن ایک سیاسی رہنما کے استقبال کے لیے نکلے تھے۔ ان کی یاد کا حق صرف پھول اور تقاریر نہیں؛ حقائق کی تلاش، متاثرہ خاندانوں کی نگہداشت اور انصاف کی قابلِ اعتماد پیش رفت بھی ہے۔
