خیبرپختونخوا میں‌ معدنیات 9

خیبرپختونخوا میں‌معدنیات کی بات طول پکڑ گئی

خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو امن و امان کی سنگین صورتِ حال کے پس منظر میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوا۔ چھ دن بعد، 17 اکتوبر کو گورنر فیصل کریم کنڈی معدنی وسائل نکالنے اور فروخت کرنے کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔

ان دونوں پیش رفتوں کو سامنے رکھیں تو ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: ان چھ دنوں میں سکیورٹی کی صورتِ حال میں کتنی تبدیلی آئی، اور سرمایہ کاروں کو کس بنیاد پر اعتماد دلایا جا رہا ہے؟

 

فیصل کریم کنڈی نے کیا کہا؟

 

گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی نے معدنی وسائل سے استفادے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نکالا اور فروخت کیا جائے گا۔ انہوں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خیبرپختونخوا میں معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے کا بھی ذکر ہے۔ کنڈی کا مؤقف تھا کہ اس سرگرمی سے روزگار اور خوشحالی کے مواقع پیدا ہوں گے۔

اسی روز کی رپورٹ میں انہوں نے معدنیات نکالنے کی مخالفت کو سیاسی تنقید کا موضوع بھی بنایا اور دعویٰ کیا کہ خوشحالی آنے سے لوگوں کی سیاسی حمایت تبدیل ہو گی۔ تاہم کسی منصوبے کی مخالفت کا جواب مخالفین کی نیت پر سوال اٹھانے سے زیادہ، اس منصوبے کی شرائط اور عوامی فوائد سامنے لا کر دیا جا سکتا ہے۔

 

چھ دن پہلے حکومت کا مقدمہ کیا تھا؟

 

11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں بگڑتے امن و امان کا جائزہ لیا اور صوبائی حکومت پر انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں سے دانستہ لاتعلقی کا الزام لگایا۔ اسی سنگینی کو بنیاد بناتے ہوئے ہنگامی اقدامات کی سفارش کی گئی اور گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

کنڈی نے مشاورتی کونسل کے پہلے اجلاس میں بھی دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کو ترجیح قرار دیا تھا۔ یوں نئی انتظامیہ کے اپنے بیان کے مطابق مسئلہ وسیع اور کئی سطحوں پر موجود تھا۔

اس پس منظر میں عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر صورتِ حال غیرمعمولی اقدامات کی متقاضی تھی تو اب کاروباری اعتماد بحال کرنے کے لیے کون سے قابلِ پیمائش نتائج حاصل ہوئے ہیں؟ کیا محفوظ قرار دیے گئے علاقوں، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور مقامی آبادی کی سلامتی کا کوئی واضح خاکہ موجود ہے؟

 

کیا دہشت گردی ختم ہو گئی ہے؟

 

یہاں سوال یہ اٹھایا جارہا ہے کہ گزشتہ 5 دنوں میں ایسی کونسی سہولت دے دی گئی کہ دہشت گردی ختم ہو گئی اور بیرونی ملک کے سرمایہ کاروں کو سفارش کی جارہی ہے کہ وہ آئیں اور معدنیات کے شعبہ میں سرمایہ کاری کریں۔

کیا دہشتگردی ختم ہو گئی؟ یا حکومت پر کی جانے والی تنقید کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کا حصول

 

سرمایہ کاری کی دعوت نئی نہیں، جواب دہی کا تقاضا نیا ہے

 

اس بحث میں ایک اہم حقیقت نظرانداز نہیں ہونی چاہیے: کنڈی کی جانب سے معدنی شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کی حمایت گورنر راج کے بعد شروع نہیں ہوئی۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق 20 مئی 2026 کو بھی انہوں نے چینی کان کنی کمپنیوں کے وفد سے ملاقات میں تعاون اور سہولتوں کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وفد میں Zhuzhou Jinzheng Mining، Tuny Pak Mining اور Vulcan Resources کے نمائندے شامل تھے، جنہوں نے اپنے مسائل بھی پیش کیے تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ معدنیات کا معاملہ پہلی مرتبہ گزشتہ چھ دنوں میں سامنے آیا۔

البتہ ہنگامی انتظام کے دوران اس موضوع پر زور دینے سے جواب دہی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ زیرِ بحث بات عمومی سرمایہ کاری کی دعوت ہے، کسی کمپنی کی تجویز ہے یا کسی باقاعدہ معاہدے کی طرف پیش رفت۔ دستیاب مذکورہ رپورٹس کسی نئے مخصوص معاہدے کی مکمل شرائط فراہم نہیں کرتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں