سہیل آفریدی اور جنید اکبر 2

ایک ہی دن میں معافی تلافی؟ سہیل آفریدی اور جنید اکبر سے متعلق تہلکہ خیز دعویٰ

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو تحویل میں لیے جانے کے بعد اینکرپرسن اور تجزیہ کار منیب فاروق نے دعویٰ کیا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر مشکل حالات کا سامنا ہوتے ہی معافی تلافی کی طرف آ گئے ہیں۔ ان کے بقول، دونوں رہنما یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے اقدامات علیمہ خان کے دباؤ میں کیے۔

 

منیب فاروق کا دعویٰ کیا ہے؟

 

میڈیا رپورٹس کے مطابق، منیب فاروق نے کہا کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر کو ایسے مشکل حالات میں رکھا گیا ہے کہ ایک ہی دن میں ان کے رویے میں تبدیلی آ گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دونوں رہنما اب اپنے فیصلوں کی ذمہ داری علیمہ خان کے دباؤ پر ڈال رہے ہیں۔

منیب فاروق نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کو پہلے بھی متعدد بار خبردار کیا گیا تھا اور بیرسٹر گوہر کے گھر پر بھی انہیں تنبیہ کی گئی تھی۔ ان کے مطابق، صوبے میں حالیہ اقدامات کا پس منظر پہلے سے موجود تھا۔

 

دونوں رہنماؤں کو  کب تحویل میں لیا گیا؟

 

11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ پارٹی ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت منتخب صوبائی قیادت کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب، پولیس نے 12 اکتوبر کو سہیل آفریدی سمیت آٹھ پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں لینے کی تصدیق کی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امن و امان کی صورتِ حال کے پیشِ نظر کیا گیا اور اُس وقت تک کسی سیاسی رہنما کو کسی مقدمے میں باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

 

وفاق اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

 

یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئیں جب پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور سکیورٹی معاملات پر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ وفاق نے بگڑتی سکیورٹی صورتِ حال اور صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مبینہ کوتاہیوں کو اپنے فیصلے کی بنیاد قرار دیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس فیصلے کو سنگین سیاسی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔

 

کیا صوبے میں موجودہ انتظام طویل عرصہ چلے گا؟

 

منیب فاروق نے اپنے تجزیے میں یہ پیش گوئی بھی کی کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ انتظام طویل عرصے تک چل سکتا ہے اور انہیں 2029 تک تحریک انصاف کی حکومت کی واپسی نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے 2013 سے 2026 تک کے معاملات کے احتساب کا عمل شروع ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اس پر پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف ملے گا؟ اس پر کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

دوسری جانب حکومت نے بھی ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قرارداد کی منظوری کے ذریعے ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں