اہم خبریںپاکستانسیاست

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ جو ہر پاکستانی شہری کو صحافی بناتا ہے

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ 3 مئی (آزادی صحافت کا عالمی دن) صرف کیمرہ اور مائیک پکڑنے والے چند صحافیوں کا دن ہے، تو آپ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ آج کا دن دراصل آپ کا دن ہے۔

ایک دانا آدمی کا قول ہے کہ "غلامی کی سب سے بدترین شکل یہ ہے کہ آپ کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ آپ آزاد ہیں، جبکہ آپ کی آنکھوں پر پٹی اور کانوں پر پہرے بٹھا دیے گئے ہوں۔”

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے بجلی کے بلوں میں شامل ٹیکس کا پیسہ کن حکمرانوں کی اللے تللوں پر اڑایا جاتا ہے؟ سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں کیوں غائب ہیں؟ اور سڑکیں بننے کے ایک ماہ بعد ہی کیوں ٹوٹ جاتی ہیں؟

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ 3 مئی (آزادی صحافت کا عالمی دن) صرف کیمرہ اور مائیک پکڑنے والے چند صحافیوں کا دن ہے، تو آپ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ آج کا دن دراصل آپ کا دن ہے۔

یہ دن آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19-A اور ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ (Right to Information – RTI) یعنی ‘معلومات تک رسائی کے قانون’ کا دن ہے—وہ قانون جو آپ کو بادشاہ اور حکمرانوں کو آپ کا جوابدہ بناتا ہے!

آئیے اس سنسنی خیز حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ آخر پاکستان میں آزادیِ صحافت کا گلا کیوں گھونٹا جاتا ہے اور اس کا سیدھا نقصان آپ کی جیب اور آپ کے مستقبل کو کیسے ہوتا ہے۔

آرٹیکل 19-A: آپ کی وہ ‘سپر پاور’ جس سے کرپٹ اشرافیہ خوفزدہ ہے

 

پاکستان کے آئین میں 18ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 19-A شامل کیا گیا، جس نے ہر پاکستانی شہری کو یہ بنیادی حق دیا کہ وہ کسی بھی سرکاری محکمے، وزارت یا ادارے سے معلومات مانگ سکتا ہے۔ اسی حق کے تحت وفاق، پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) ایکٹ منظور کیے گئے۔

اس قانون کے تحت آپ ایک سادہ سی درخواست دے کر پوچھ سکتے ہیں کہ:

  • وزیرِ اعلیٰ کے دورے پر کتنا خرچ آیا؟

  • میرے علاقے کے فنڈز کس ٹھیکیدار کو دیے گئے؟

  • توہشہ خانہ سے کس نے، کتنے میں، کون سا تحفہ لیا؟

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ. عام شہری کو اس قانون کا نہ تو علم ہے اور نہ ہی وہ روزمرہ کی چکی میں پسنے کے بعد سرکاری دفتروں کے چکر کاٹ سکتا ہے۔ یہیں سے ایک آزاد صحافی کا کردار شروع ہوتا ہے۔

صحافی کی موت اور آپ کے ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ کا قتل

 

ایک کھوجی (Investigative) صحافی دراصل آپ کے اس ‘رائٹ ٹو انفارمیشن’ کا نمائندہ ہوتا ہے۔ وہ RTI قوانین کا استعمال کرتے ہوئے سرکاری فائلوں کی خاک چھانتا ہے، کرپشن کے ثبوت نکالتا ہے، اور وہ معلومات آپ کی ٹی وی سکرین اور موبائل تک پہنچاتا ہے جو ریاست آپ سے چھپانا چاہتی ہے۔

ذرا اس خوفناک گٹھ جوڑ کو سمجھیں:

  1. جب کوئی طاقتور مافیا نہیں چاہتا کہ ان کی چوری پکڑی جائے، تو وہ سب سے پہلے معلومات تک رسائی (RTI) کے راستے بند کرتے ہیں۔

  2. جب صحافی پھر بھی سچ نکال لاتا ہے، تو اس پر سنسرشپ لگائی جاتی ہے۔

  3. جب سنسرشپ ناکام ہوتی ہے، تو صحافی کو غائب کر دیا جاتا ہے یا اس کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کر دی جاتی ہے۔

لہٰذا، جب پاکستان میں کسی صحافی پر پابندی لگتی ہے یا چینل بند ہوتا ہے، تو دراصل وہ صحافی نہیں ہارتا، بلکہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19-A ہارتا ہے۔ آپ کے جاننے کا حق (RTI) ہارتا ہے۔

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ جو ہرپاکستانی کو صحافی بناتا ہے

 

رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ ہر شہری کو صحافی بناتا ہے۔ حکومتوں کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ ‘رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ’ کو کمزور سے کمزور تر رکھا جائے۔

انفارمیشن کمیشنز میں جان بوجھ کر بھرتیاں نہیں کی جاتیں، درخواستوں کو مہینوں لٹکایا جاتا ہے، اور بیوروکریسی معلومات دینے سے ایسے کتراتی ہے جیسے ان سے ان کی جائیداد مانگ لی گئی ہو۔

ایک آزاد پریس کے بغیر، RTI کا قانون صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر صحافی آزاد نہیں ہوں گے، تو آپ کو صرف وہی سچ بتایا جائے گا جو حکمرانوں کے حق میں بہتر ہے۔ آپ کو کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ پردے کے پیچھے آپ کے مستقبل کے ساتھ کیا سودے بازی ہو رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button