
خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں منگل کے روز ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے صوبے کی سیاسی و مذہبی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔
نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی سرپرست اور ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس شہید ہو گئے، جبکہ ان کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے۔ یہ حملہ محض ایک فرد کا قتل نہیں بلکہ خطے میں قیامِ امن کی کوششوں پر ایک کاری ضرب ہے۔
صحافی افتخار فردوس کے مطابق اسلامک اسٹیٹ خراسان (ISKP) نے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں شیخ ادریس کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
The Islamic State in Khorasan [ISKP] has claimed the attack that assassinated Sheikh Idrees in Charsadda, Khyber Pakhtunkhwa province. https://t.co/9sQxzqfJBo
— Iftikhar Firdous (@IftikharFirdous) May 5, 2026
ابتدائی زندگی اور دارالعلوم حقانیہ کا تاریخی کردار
1961 میں چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہونے والے مولانا ادریس نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی اور بعد ازاں خطے کی مشہور دینی درسگاہ ’جامعہ دارالعلوم حقانیہ‘ نوشہرہ کا رخ کیا۔
دارالعلوم حقانیہ کی تاریخ پاک افغان خطے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جسے اکثر عالمی سطح پر افغان طالبان کی اولین تربیت گاہ ( بھی سمجھا جاتا ہے۔
مولانا ادریس نے اسی مدرسے میں تدریس کے فرائض انجام دیے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ افغان حکومت کے کئی اہم رہنما اور وزراء ان کے شاگرد رہے ہیں۔
ان کا علمی فیض صرف پاکستان یا افغانستان تک محدود نہیں تھا، بلکہ ان کے شاگرد جاپان، انڈونیشیا، سعودی عرب اور قطر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے آبائی علاقے میں ‘جامعہ نعمانیہ’ کے نام سے بھی ایک مدرسہ چلا رہے تھے۔
علما کی ٹارگٹ کلنگ کا تسلسل اور مولانا حسن جان کی وراثت
خیبرپختونخوا میں اعتدال پسند اور امن کی بات کرنے والے علما کو نشانہ بنانے کی ایک طویل اور خونریز تاریخ رہی ہے۔ یاد رہے کہ مولانا محمد ادریس، ممتاز عالمِ دین اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا حسن جان کے داماد تھے۔
مولانا حسن جان کو بھی 2007 میں پشاور کے علاقے وزیر باغ میں اسی طرح دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مولانا حسن جان کا "قصور” یہ تھا کہ انہوں نے خودکش حملوں اور بے گناہوں کے قتلِ عام کے خلاف دوٹوک فتویٰ دیا تھا۔
مولانا ادریس کی شہادت اسی خونریز تسلسل کی ایک کڑی نظر آتی ہے، جہاں انتہا پسندی کی مخالفت کرنے والی آوازوں کو گولی سے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاک افغان امن مذاکرات (2022) میں کلیدی سفارتی کردار
مولانا ادریس محض ایک روایتی عالم یا سیاستدان نہیں تھے، بلکہ انہوں نے ریاستِ پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات میں ایک پل کا کردار ادا کیا۔
جولائی 2022 میں جب مفتی تقی عثمانی کی سربراہی میں پاکستانی علما کا ایک اعلیٰ سطحی وفد کابل گیا، تو مولانا ادریس اس کا ایک انتہائی اہم حصہ تھے۔ ان کی شمولیت ناگزیر تھی کیونکہ افغان طالبان کی اعلیٰ قیادت میں ان کے کئی شاگرد موجود تھے۔
ریاستی ردعمل اور موجودہ چیلنجز
اس بزدلانہ حملے کی صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت تمام اہم سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شدید مذمت کی ہے۔
پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اہم شخصیات کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو تاحال سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
امن کا علمبردار شہید
مولانا محمد ادریس کی شہادت نے ثابت کیا ہے کہ اس خطے میں امن کا علمبردار ہونا کس قدر کٹھن اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا سیاسی، مذہبی اور سفارتی خلا شاید ایک طویل عرصے تک پر نہ ہو سکے۔



