
جہلم کے محمد شفیع نے جون 2012ء میں جوبلی لائف انشورنس سے "حفاظت پلان” پالیسی خریدی۔ اگلے دو سال پچاس ہزار سالانہ کے حساب سے ایک لاکھ روپے پریمیم بھی ادا کیا۔
اگست 2013ء میں پالیسی ہولڈر شفیع کی ہارٹ اٹیک سے اچانک موت ہوگئی، جس پر شفیع کے ورثاء نے انشورنس کمپنی میں "ڈیتھ کلیم” داخل کر دیا۔
کمپنی کے نمائندے نے ورثاء سے خالی کاغذات پر دستخط کروائے اور بعد میں ان کاغذات پر ورثاء کی طرف سے بیان تیار کر لیے کہ متوفی شفیع بوقتِ موت شوگر اور ہائی بلڈ پریشر جیسی دائمی بیماریوں میں مبتلا تھا۔
کمپنی نے کہا کہ متوفی نے پالیسی خریدتے وقت یہ بیماریاں چھپائی تھیں، لہٰذا کلیم نہیں بنتا۔ ورثاء نے کمپنی کو دو لیگل نوٹس بھجوائے اور پھر انشورنس محتسب کو بھی شکایت کی۔ محتسب نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے رجوع کرنے کا کہا۔
جوبلی انشورنس ڈیتھ کلیم کیلئے عدالتی جنگ
دسمبر 2017ء میں متوفی شفیع کے ورثاء نے ڈیتھ کلیم کے 9 لاکھ 50 ہزار روپے کے حصول کے لیے ڈسٹرکٹ کورٹ میں کیس کر دیا، جو عدالت نے فروری 2022ء میں ورثاء کے حق میں ڈگری کر دیا۔
کمپنی نے اس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کر دی، جس کی سماعت دو رکنی بینچ نے گزشتہ سال ستمبر میں کی اور جسٹس ملک اویس خالد نے فیصلہ تحریر کیا۔
ہائیکورٹ کا فیصلہ اور انشورنس معاہدے کے حقائق
ہائیکورٹ میں کمپنی نے موقف لیا کہ انشورنس معاہدے میں تمام حقائق بتانا لازمی ہوتے ہیں، متوفی نے اپنی دائمی بیماریاں چھپائیں جس سے یہ معاہدہ کالعدم ہو جاتا ہے۔
جبکہ ورثاء کا موقف تھا کہ متوفی شفیع کسی دائمی بیماری میں مبتلا نہ تھا، موت اچانک ہوئی اور کمپنی نے خالی کاغذات پر دستخط کروا کر دھوکے سے دائمی بیماری کا الزام لگایا، ڈسٹرکٹ کورٹ نے درست فیصلہ دیا ہے۔
ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ کمپنی کو چاہیے تھا کہ وہ پالیسی جاری کرنے سے قبل متوفی کا طبی معائنہ کرواتے۔
کمپنی دو سال تک پریمیم لیتی رہی مگر پالیسی ہولڈر کا کوئی میڈیکل نہیں کروایا۔
دورانِ جرح کمپنی کے گواہ نے خود متوفی کے کسی بیماری میں مبتلا نہ ہونے کا اعتراف کیا۔ محض دائمی بیماری کا دعویٰ کر کے کمپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتی؛ قانونِ شہادت کے تحت یہ ثابت کرنا کمپنی کی ذمہ داری تھی کہ متوفی نے بیماری چھپائی، جس میں وہ ناکام رہی۔
متوفی کے ہارٹ اٹیک سے فوت ہونے کی تصدیق اس کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے بھی ہوتی ہے، کمپنی نے اس سرٹیفکیٹ کو چیلنج نہیں کیا۔ کمپنی نے اپنے دستاویزی ثبوت گواہ کے بجائے وکیل کے بیان میں جمع کروائے جن پر قانوناً انحصار نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے، ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کے مطابق ورثاء کو ڈیتھ کلیم کی اصل رقم، عدالتی اخراجات اور متوفی شفیع کی وفات سے لے کر رقم کی ادائیگی تک 10 فیصد سالانہ کے حساب سے مارک اپ (ہرجانہ) بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔
نوٹ:- یہ کورٹ کہانی ایڈوکیت محمد رضوان کی فیس بک پروفائل سے لی گئی ہے۔



