دنیا

جنگی حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کیسے بچا جائے؟

جنگ نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا ہے جہاں سے دنیا کے پانچویں حصے سے زیادہ خام تیل اور مائع گیس گزرتی ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ امریکا‑اسرائیل کی ایران پر جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اگر دوبارہ شروع ہوئی تو ایران کو زیادہ سخت ضرب لگے گی۔

اُن کے بیان  کے بعد سے  ایشیا کی حصص منڈیوں نے استحکام  دیکھا اور بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمتیں 11 فیصد تک گر کر 88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، بعد میں یہ کمی 6.6 فیصد رہ گئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے تبصروں نے ٹوکیو اور سیول کی مارکیٹوں میں بھاری کمی کے بعد تیزی کا رجحان پیدا کیا اور تیل کی قیمتیں تقریباً پانچ فیصد نیچے آئیں۔

عالمی مارکیٹوں پر اثرات اور اس کے خطرات

 

جنگ نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا ہے جہاں سے دنیا کے پانچویں حصے سے زیادہ خام تیل اور مائع گیس گزرتی ہے۔

کاروباری ریکارڈ کے مطابق تیل اور ایل این جی کے 20 فیصد عالمی بہاؤ کے اس راستے کی بندش اور جہاز رانی کے بیمہ کی معطلی نے پاکستان کے لئے رسد کی سنگین رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔

عالمی سطح پر حفاظتی اقدامات

 

جی‑7 نے بیان دیا ہے کہ وہ جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہیں اور حالات کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا اشارہ تو دیا لیکن فوری فیصلہ نہیں کیا۔

جی‑7 کا کہنا تھا کہ مستحکم تجارت کے راستے اور توانائی کی عالمی رسد کو محفوظ رکھنے کی اہمیت ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ کم از کم 90 دن کی خالص درآمدات کے برابر تیل کے ذخائر رکھیں اور عالمی منڈی میں شدید سپلائی رکاوٹوں کی صورت میں مشترکہ کارروائی کے لئے تیار رہیں۔

اس کے تحت رکن ممالک ضرورت کے مطابق اپنے ملک یا دیگر ممالک میں ہنگامی ذخائر رکھ سکتے ہیں اور ان کا طریقہ کار اپنی ضروریات کے مطابق متعین کر سکتے ہیں۔ پاکستان IEA کا رکن نہیں ہے، مگر یہ ماڈل ترقی پذیر ممالک کے لئے مثال ہے کہ وہ علاقائی یا عالمی سطح پر ذخائر کے نظام کو اپنائیں۔

جی‑7 نے واضح کیا کہ یورپی یونین کے ممالک پر بھی لازم ہے کہ وہ 90 دن کی کھپت کے برابر تیل کے ذخائر رکھیں اور IEA کے مطابق 32 ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 1.2 بلین بیرل کا ہنگامی ذخیرہ موجود ہے، جس میں سے 300–400 ملین بیرل جاری کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ذخائر 1974 کے عرب تیل بائیکاٹ کے بعد قائم کیے گئے تھے اور تب سے کئی بار بحرانوں میں استعمال ہو چکے ہیں۔

ان اقدامات کو وسیع کرکے ترقی پذیر ممالک بھی آپس میں اتحاد بنا کر مشترکہ ذخائر قائم کر سکتے ہیں، جیسا کہ آسیان یا او آئی سی ممالک کے بیچ، تاکہ بحران کے وقت ایک دوسرے کی مدد کی جا سکے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کے اقدامات

توانائی پالیسی اور ساختی اصلاحات

 

جدید ڈپلومیسی کے مطابق پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ توانائی کے شعبے کی پرانی ساختی خامیوں کا بھی شاخسانہ ہے۔

ملک کی زیادہ تر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات درآمدی ہیں، اور یہ درآمدات اربوں ڈالر سالانہ خرچ ہوتی ہیں۔ اس انحصار کی وجہ سے عالمی تیل کے جھٹکے براہِ راست گھریلو معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

مضمون میں فوری، درمیانی اور طویل مدتی حکمت عملیوں کی تجاویز دی گئی ہیں۔

  • شفافیت اور نظم و ضبط: حکومت کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں، ٹیکسوں اور سپلائی کی لاگت سے متعلق معلومات عوام کے سامنے رکھ کر قیمتوں میں اضافے کے وقت شفافیت بڑھانی چاہیے۔ اس سے اعتماد بڑھے گا اور بے جا افواہوں میں کمی آئے گی۔

  • اسٹریٹجک ذخائر: پاکستان کو ہنگامی تیل ذخائر بڑھانے چاہئیں تاکہ سپلائی میں خلل یا قیمتوں میں اچانک اضافے کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

  • فراہمیاں اور ذخیرہ اندوزی پر نظر: حکومت کو قیمتوں میں تبدیلی کے وقت خوف کے تحت خریداری اور ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے سپلائی کی نگرانی بڑھانی چاہیے۔

  • ریفائنری کی صلاحیت اور انفراسٹرکچر: پرانی ریفائنریوں کی جگہ جدید ٹیکنالوجی لائی جائے تاکہ ملک خام تیل کو خود ریفائن کر سکے اور درآمدی پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم ہو۔ ساتھ ہی شہروں میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنایا جائے تاکہ نجی گاڑیوں کے استعمال سے ایندھن کی کھپت کم ہو۔

  • علاقائی رابطے اور توانائی سفارت کاری: وسطی ایشیا، ایران اور چین کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون اور متنوع سپلائی راستوں کا قیام پاکستان کی کمزوری کو کم کر سکتا ہے۔ ایران‑پاکستان گیس پائپ لائن اور CASA‑1000 جیسے منصوبوں کی تکمیل کیلئے سفارتی راہ ہموار کرنا ضروری ہے۔

مالیاتی اور سفارتی حکمت عملیاں

 

پاکستان کے بزنس رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان کے ورکرز کی حفاظت اور تجارتی چینلوں کو جاری رکھنے کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی توانائی سکیورٹی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے دور میں پاکستان کو خود انحصاری اور مستقبل بینی پر زور دینا ہوگا۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کے ذریعے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

بین الاقوامی سطح پر ایسی منڈیاں بھی ہیں جہاں سرمایہ کار تیل کی قیمتوں کے خطرات کو سنبھالنے کیلئے ہیجنگ اور مالیاتی آلات استعمال کرتے ہیں، اور سونے جیسی متبادل محفوظ اثاثے اختیار کرتے ہیں۔

حالیہ مطالعات کے مطابق سونا تیل کی قیمتوں کی اتار چڑھاؤ کے دوران سرمایہ کاروں کے لئے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوتا ہے اور تیل کے جھٹکوں کے اثرات سے تحفظ دیتا ہے۔ پاکستان میں سٹیٹ  بینک اور سرمایہ کاروں کو بھی ایسی حکمت عملیاں اپنانے پر غور کرنا چاہیے تاکہ کرنسی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک تبدیلیوں سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button