
حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ کا اعلان کیا۔ پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد اسے 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کو 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا ہے۔
وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ یہ اقدام ایران–امریکہ–اسرائیل تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے ناگزیر ہو گیا تھا۔
حکومتی موقف
وزیرِ پیٹرولیم نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کی جنگ کی وجہ سے عالمی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز خطرے میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس پیٹرول کے کافی ذخائر موجود ہیں، لیکن بحران کے خاتمے کی مدت نامعلوم ہونے کے باعث ان ذخائر کو طول دینا پڑے گا۔
حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ ہفتہ وار لیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو فوری طور پر قیمتوں میں شامل کیا جا سکے۔
دیگر سرکاری حکام کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے ہرمز کی بندرگاہ کے باہر سے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی درآمدات کے لیے ٹینڈرز جاری کیے ہیں، حالانکہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے 5 لاکھ ٹن سے زائد ذخائر موجود ہیں جو 25 یا 26 دن کی کھپت کے لیے کافی ہیں۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور تیل کمپنیوں نے اعتراف کیا ہے کہ محدود سپلائی کے باوجود کہیں بھی پیٹرول یا ڈیزل کی قلت نہیں اور عوام سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
عوام کی شدید تنقید
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رات گئے برا اضافہ کرنے پر عوام کی جانب سے شدید رد عمل دیا جارہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ پیٹرول کا سٹاک پہلے سے موجود ہے تو اس میں اضافہ کا کیا جواز ہے؟ کیا نیا پیٹرول عالمی منڈی سے لایا جا چکا ہے اور سیل ہورہا ہے؟
اگر پیٹرول کے ذخیرے سے ہی فروخت ہو رہی ہے تو حکومت کا فوری قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ ظالمانہ ہے۔
سوشل میڈیا پر احتجاج ریکاڑد کراتےہوئے شہری حکومتی اراکین کی پرانی ویڈیوز سامنے لا رہے ہیں جس میں وہ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے سے کم اضافے کو بھی عوام کی جیب پر ڈاکہ اور پیٹرول مہنگا ہونے پر وزیراعظم کے چور ہونے کی دلیل دیا کرتے تھے۔
نواز شریف بھی چپ نہ رہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر بول پڑے. pic.twitter.com/2VEInTpPwN
— Muhammad Zeeshan Awan (@surrakimuhammad) March 7, 2026
سوالات جن کا جواب حکومت نہیں دے رہی
حکومت کی جانب سے اضافے کا جواز عالمی بحران اور بڑھتی ہوئی درآمدی لاگت بتایا جا رہا ہے، لیکن مخالفین کا مؤقف ہے کہ ذخائر موجود ہونے کے باوجود 55 روپے فی لیٹر اضافہ غیر منصفانہ ہے۔ اوگرا کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر کافی ہیں اور کہیں بھی قلت نہیں، پھر بھی عوام کو عالمی منڈی کے ہر اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
معیشت دانوں کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے مہنگائی اور کرایوں میں فوری اضافہ ہوگا، جس سے متوسط اور غریب طبقہ مزید متاثر ہوگا۔
حکومت نے پٹرولیم لیوی میں ردو بدل کرکے بظاہر قیمتوں کو اور زیادہ بڑھنے سے روکا ہے، لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ لگژری اخراجات اور سرکاری پروٹوکول میں کمی کرکے بھی عوام کو ریلیف دیا جا سکتا تھا۔
پیٹرول کی قیمت پاکستان میں کم ہونے کے کتنے چانسز ہیں؟
اسرائیل امریکہ اور ایران کی اس جنگ میں آئے روز شدت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اگر یہ معاملہ جلد تھم جاتا ہے تو حکومت کے اعلان کردہ ہر ہفتے کی پالیسی کے مطابق جلد ہی قیمت میں کمی متوقع ہو گی۔
تاہم اگر یہ معاملہ مزید بگڑتا ہے تو متبادل انتظامات کرنا ہوں گے کیونکہ ابتدائی طور پر حکومت کا 55 روپے تک کا اضافہ اتنا بڑا جھٹکا ہے جس کے بعد مزید مہنگائی عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوگی۔
نتیجہ
پاکستانی حکومت نے خلیجی جنگ کے اثرات اور بین الاقوامی منڈی میں تیزی کے تناظر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔
اگرچہ حکام کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ذخائر موجود ہیں اور قیمتوں میں اضافہ صرف بحران کے تسلسل کے خوف سے کیا گیا ہے، مگر عوام اور اپوزیشن کا سوال اپنی جگہ ہے کہ جب ذخائر دستیاب ہیں تو عوام پر مہنگائی کا بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟



