اہم خبریں

اسلام کی ترویج کیلئے انگلینڈ میں ڈاکٹر طاہر القادری کا بڑا کارنامہ

ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ قرآن مجید امن، بین المذاہب ہم آہنگی ، اقلیتوں کے حقوق، روداری اور اعلیٰ انسانی اخلاقیات کا مکمل ضابطہ حیات ہے۔

مشہور مبلغ اور عالم دین ڈاکٹر طاہر القادری کا برطانیہ میں ترویج اسلام کیلئے بڑا کارنامہ، انگریزی زبان میں قرآن کا ترجمہ مکمل کر لیا۔  اس اعزاز کے حصول کے بعد برطانیہ میں تقریب رونمائی ہوئی جس نے سماں باندھ دیا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا انگریزی ترجمتہ القران:

 

تحریک منہاج القرآن کے سرپرست اعلیٰ اور معروف عالم دین ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے انگریزی ترجمہ قرآن The Manifest Quran کی تقریب رونمائی برطانیہ کے مشہور ہیرو گیٹ کنونشن سنٹر میں منعقد کی گئی ۔

تقریب میں پاکستان ، برطانیہ ، گلف ، امریکہ اور کنیڈا سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد افراد ، علمائےکرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس تقریب نے برطانیہ میں قرآن کے موضوع پر ہونے والی سب سے بڑی تقریب کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔

قرآن مجید کے انگریزی ترجمے The Manifest Quran کی اس تالیف کو شرکاء نے دین اسلام کی اہم خدمت قرار دیتے ہوئے ، سربراہ منہاج القرآن ڈاکٹر محمدطاہر القادری کو خراج تحسین پیش کیا۔

طاہر القادری کا خطاب

 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمدطاہر القادری کا کہنا تھا کہ انگریزی دنیا کے علمی حلقوں بالخصوص نوجوان طبقے کے رحجانات اور سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمدطاہر القادری کی جانب سے لکھے گئے اس ترجمے میں آسان تدریسی انگریزی زبان میں تالیف کیا گیا ہے تا کہ انگریزی بول چال کا حامل طبقہ اسے بآسانی سمجھ سکے۔ ڈاکٹر محمدطاہر القادری کا مزید کہنا تھا کہ ترجمے میں اس امر کو یقینی بنایا گیا ہے کہ زندگی کے مختلف شعبہ جات جیسا کہ عقائد ، معاشرتی و سماجی مسائل کے متعلق اللہ رب العزت نے جو احکامات بیان کیے ہیں انہیں اس روح کے مطابق ابلاغ یقینی بنایا جا سکے۔

سربراہ تحریک منہاج القرآن کا مزید کہنا تھا کہ قرآن مجید کو حقیقی معنوں سے ہٹ کر پیش کرنے کی وجہ سے عام آدمی اور مغربی دنیا کے ذہنوں میں جو اشکالات پیدا ہوئے ہیں یقینی بنایا گیا ہے کہ اس ترجمے سے انکا ازالہ ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید امن، بین المذاہب ہم آہنگی ، اقلیتوں کے حقوق، روداری اور اعلیٰ انسانی اخلاقیات کا مکمل ضابطہ حیات ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button