پاکستانی زائرین 37

عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی شرط عائد کر دی

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبر کہ "50 سال سے کم عمر پاکستانی مرد اگر اکیلے عراق جائیں تو انہیں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی” بظاہر ایک سادہ سی پابندی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ عراق اور پاکستان دونوں کی جانب سے زیارتی سفر کو منظم بنانے کے لیے شروع کی گئی ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہے۔

وزارتِ مذہبی امور نے اس نئی ہدایت کی تصدیق کی ہے اور عراقی حکام نے بھی اس کے اطلاق کا عندیہ دیا ہے۔

آخر یہ پابندی کیوں لگائی گئی؟

 

کربلا، نجف، کاظمین اور سامرہ کے مقدس مقامات پر ہر سال لاکھوں زائرین آتے ہیں۔ پاکستانی زائرین کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران عراق اور پاکستان کے درمیان زائرین کے انتظام، ویزا کے غلط استعمال، غیر قانونی قیام اور بعض افراد کی جانب سے زیارت کے نام پر روزگار تلاش کرنے کے معاملات پر متعدد بار بات چیت ہوئی۔ اسی تناظر میں نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔

حکام کا مؤقف ہے کہ بعض افراد زیارتی ویزے پر عراق پہنچنے کے بعد مقررہ مدت ختم ہونے پر واپس نہیں آتے تھے، جس سے امیگریشن اور سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے تھے۔ نئی پالیسی کے ذریعے ایسے معاملات کی روک تھام اور زائرین کی بہتر نگرانی مقصود ہے۔

کن افراد پر پابندی لاگو ہوگی؟

نئی ہدایات کے مطابق: 50 سال سے کم عمر مرد اگر تنہا سفر کریں گے تو زیارتی ویزا حاصل نہیں کر سکیں گے۔ 50 سال سے کم عمر مرد اگر اپنے خاندان کے ساتھ سفر کریں تو ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔ 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مردوں پر یہ شرط لاگو نہیں ہوگی۔ خواتین اور خاندانی گروپس کے لیے عمومی زیارتی سہولتیں برقرار رہیں گی۔

پاکستان بھی زیارتی نظام تبدیل کر رہا ہے

یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ عراق کی نئی شرط کے ساتھ ساتھ پاکستانی زائرین  کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ عراق جانے والے زائرین کو رجسٹرڈ "زائرین گروپ آرگنائزرز” کے ذریعے سفر کرنا ہوگا تاکہ پورے سفر کا ریکارڈ، نگرانی اور سہولت کاری بہتر بنائی جا سکے۔

اس نظام کے تحت غیر رجسٹرڈ ٹور آپریٹرز کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جبکہ سرکاری طور پر منظور شدہ گروپس کو ترجیح دی جائے گی۔

اربعین کے زائرین پر کیا اثر پڑے گا؟

ہر سال اربعین کے موقع پر پاکستان سے ہزاروں افراد عراق کا رخ کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئی پالیسی کے باعث اکیلے سفر کرنے والے نوجوان زائرین کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ خاندانی اور منظم گروپوں کے ذریعے جانے والے افراد کے لیے حالات تقریباً معمول کے مطابق رہیں گے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ لوگ اسے زائرین کی سہولت اور سکیورٹی کے لیے ضروری قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ عقیدت مند افراد کے لیے عمر کی بنیاد پر ایسی پابندی مناسب نہیں۔ تاہم حکام کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی مذہبی آزادی محدود کرنے کے لیے نہیں بلکہ زیارتی نظام کو منظم کرنے کے لیے لگائی گئی ہے۔

ایک اہم حقیقت

یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے ماضی میں متعدد سہولتیں بھی فراہم کی ہیں، جن میں ویزا سہولتوں میں نرمی، اربعین کے دوران خصوصی انتظامات اور زائرین کے لیے اضافی سہولیات شامل رہی ہیں۔ اس لیے موجودہ پابندی کو مکمل بندش کے بجائے ایک انتظامی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں