قومی اسمبلی کے حالیہ بجٹ اجلاس میں ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور سیاسی تلخی کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ غیر معمولی بات یہ تھی کہ اس بار بحث بجٹ سے نکل کر سیاسی یادداشت اور بدلتے ہوئے بیانیوں تک جا پہنچی۔
کئی روز سے اپوزیشن جماعتیں یہ شکایت کرتی رہی ہیں کہ ان کی تقاریر یا تو براہ راست نشریات میں مکمل نہیں دکھائی جاتیں یا ان کے بعض حصے نشر نہیں ہوتے۔ بجٹ اجلاس کے دوران بھی ایسے اعتراضات سامنے آئے۔ لیکن اصل سیاسی گرما گرمی اس وقت پیدا ہوئی جب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ ایوان میں افواج پاکستان کے خلاف گفتگو کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کو اس معاملے پر کھری کھری سنائیں۔
بظاہر یہ ایک معمول کا پارلیمانی فیصلہ تھا، مگر اگلے ہی روز محمود خان اچکزئی نے اسی بیان کو موضوع بنا کر پورے ایوان کا رخ ماضی کی طرف موڑ دیا۔
"آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی؟”
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی جب بولنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان کا ہدف بجٹ کم اور حکمران اتحاد کا بدلتا ہوا بیانیہ زیادہ تھا۔
انہوں نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے یاد دلایا کہ یہی ایاز صادق تھے جنہوں نے ایک وقت میں قومی اسمبلی کے فلور پر آرمی چیف کے بارے میں "ٹانگیں کانپ رہی تھیں” والا بیان دیا تھا۔ پھر انہوں نے وہ سوال داغا جو سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں سب سے زیادہ زیر بحث آیا:
"آپ کی فوج سے محبت کب سے جاگی؟”
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ گزشتہ ایک دہائی کی پاکستانی سیاست پر ایک سوالیہ نشان تھا۔
کل کے ناقد، آج کے محافظ
پاکستانی سیاست کی شاید سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ یہاں اصولوں سے زیادہ کردار بدلتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب مسلم لیگ (ن) کی قیادت جلسوں، پریس کانفرنسوں اور پارلیمنٹ کے اندر ریاستی اداروں پر سخت تنقید کرتی تھی۔ پاناما کیس کے بعد عدلیہ پر سوالات اٹھائے گئے۔ فوجی قیادت کے کردار پر اعتراضات کیے گئے۔ "ووٹ کو عزت دو” کا بیانیہ دراصل اسی کشمکش سے جنم لیا تھا۔
اس دور میں اداروں پر تنقید کو جمہوری حق قرار دیا جاتا تھا۔
آج منظر نامہ بدل چکا ہے۔
وہی سیاسی جماعتیں جو کبھی ریاستی اداروں پر شدید تنقید کرتی تھیں، اب انہی اداروں کے دفاع میں سب سے آگے دکھائی دیتی ہیں۔ دوسری جانب وہ جماعتیں جو ماضی میں اداروں کی حمایت کرتی تھیں، اب سوال اٹھا رہی ہیں۔
محمود اچکزئی نے دراصل اسی تضاد کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔
مسئلہ تنقید نہیں، دوہرا معیار ہے
یہ بحث دراصل فوج، عدلیہ یا کسی ایک ادارے کی نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی بات اپوزیشن میں رہ کر جائز اور اقتدار میں آ کر ناجائز ہو جاتی ہے؟
اگر کل اداروں پر تنقید جمہوری آزادی تھی تو آج وہی بات ریاست دشمنی کیسے بن گئی؟
اور اگر آج اداروں پر تنقید ناقابل قبول ہے تو پھر ماضی میں ایسی سیاست کرنے والوں کا احتساب کس پیمانے پر ہوگا؟
اچکزئی کی تقریر کا بنیادی نکتہ یہی تھا۔
کٹی ہوئی تقاریر اور بڑھتے ہوئے سوالات
بجٹ اجلاس کے دوران ایک اور پہلو بھی زیر بحث رہا۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ ان کی تقاریر کو مکمل طور پر عوام تک نہیں پہنچنے دیا جا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی متنازع تقریر سامنے آتی ہے تو پارلیمنٹ کی کارروائی سے زیادہ اس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگتی ہیں۔
یہ ایک دلچسپ تضاد ہے۔
جس تقریر کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اکثر وہی تقریر زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔
محمود اچکزئی کی حالیہ تقریر بھی اسی زمرے میں شامل ہو گئی۔
سیاست میں حافظہ کمزور نہیں ہوتا
سیاست دان اکثر سمجھتے ہیں کہ عوام سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاسی بیانات محفوظ رہتے ہیں۔ ویڈیوز محفوظ رہتی ہیں۔ تقاریر محفوظ رہتی ہیں۔
وقت بدل جاتا ہے مگر الفاظ نہیں بدلتے۔
شاید اسی لیے محمود اچکزئی کی تقریر نے حکومتی بنچوں کو اتنا بے چین کیا۔ انہوں نے کوئی نئی کہانی نہیں سنائی بلکہ پرانی کہانی کے کرداروں کو ان کے اپنے مکالمے یاد دلائے۔