ہم دن میں کئی بار آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ کبھی بال سنوارتے ہیں، کبھی داڑھی بناتے ہیں، کبھی میک اپ کرتے ہیں اور کبھی چہرے پر نمودار ہونے والے کسی دانے یا داغ کو غور سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ آئینہ ہمارے چہرے کی ہر حقیقت ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔
اگر ایک طاقتور خوردبین آپ کے چہرے کی جلد کو دیکھے تو اسے ایک ایسی دنیا نظر آئے گی، جس کے بارے میں شاید آپ نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ یہ دنیا ایسے ننھے جانداروں کی ہے جو ہماری جلد کے مساموں میں رہتے ہیں، رات کے وقت حرکت کرتے ہیں اور ہماری زندگی کا حصہ ہونے کے باوجود ہماری نظروں سے ہمیشہ اوجھل رہتے ہیں۔
ان ننھے جانداروں کو ڈیموڈیکس مائٹس (Demodex Mites) کہا جاتا ہے، اور سائنس دانوں کے مطابق یہ تقریباً ہر بالغ انسان کی جلد پر موجود ہوتے ہیں۔
ڈیموڈیکس مائٹس آخر ہیں کیا؟
ڈیموڈیکس مائٹس نہ تو کیڑے ہیں اور نہ ہی جراثیم، بلکہ یہ انتہائی باریک جاندار ہیں جن کا تعلق مائٹس (Mites) سے ہے، جو مکڑی اور ٹِک کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
ان کی لمبائی تقریباً 0.2 سے 0.4 ملی میٹر ہوتی ہے، یعنی اتنی کم کہ انہیں ننگی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں۔ صرف طاقتور خوردبین ہی ان کی موجودگی ظاہر کر سکتی ہے۔
یہ زیادہ تر چہرے کے ان حصوں میں رہتے ہیں جہاں جلد قدرتی تیل زیادہ پیدا کرتی ہے، مثلاً پیشانی ، ناک، گال، ٹھوڑی، بھنویں اور پلکوں کے بال وغیرہ۔
یہ ہماری جلد پر کیسے آتے ہیں؟
سائنس دانوں کے مطابق انسان پیدائش کے وقت عموماً ان مائٹس سے پاک ہوتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ والدین، بہن بھائیوں اور قریبی افراد سے جلد کے معمول کے رابطے کے ذریعے یہ آہستہ آہستہ ہماری جلد پر منتقل ہو جاتے ہیں۔
اسی لیے عمر بڑھنے کے ساتھ تقریباً ہر انسان کی جلد پر ان کی موجودگی عام ہو جاتی ہے۔
رات کے وقت یہ کیا کرتے ہیں؟
یہ حقیقت شاید آپ کو حیران کر دے۔
ڈیموڈیکس مائٹس دن کے وقت جلد کے مساموں کے اندر رہتے ہیں، لیکن رات کے وقت نسبتاً زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس دوران وہ جلد کی سطح پر حرکت کرتے ہیں، خوراک حاصل کرتے ہیں اور اپنی افزائشِ نسل کا عمل بھی انجام دیتے ہیں۔
ان کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے، اس لیے انسان کو ان کی موجودگی یا حرکت کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔
یہ ہماری جلد پر زندہ کیسے رہتے ہیں؟
یہ مائٹس ہماری جلد کو نقصان پہنچا کر نہیں بلکہ اس پر موجود قدرتی تیل (Sebum) اور مردہ جلدی خلیات سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔
یعنی وہ ہمارے جسم سے وہی چیزیں استعمال کرتے ہیں جو ویسے بھی قدرتی طور پر بنتی اور ختم ہوتی رہتی ہیں۔
کیا یہ انسان کے لیے نقصان دہ ہیں؟
یہ سوال اکثر لوگوں کے ذہن میں آتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ زیادہ تر افراد کے لیے ڈیموڈیکس مائٹس مکمل طور پر بے ضرر ہوتے ہیں۔ لاکھوں لوگ پوری زندگی ان کے ساتھ گزارتے ہیں اور انہیں کبھی کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔
البتہ بعض افراد میں اگر ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جائے یا مدافعتی نظام کمزور ہو تو جلد کے چند مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جیسے:
1– جلد کی سوزش
2– روزیشیا (Rosacea)
3– پلکوں کی سوزش (Blepharitis)
4– آنکھوں میں جلن
5– مسلسل خارش
ایسی صورت میں ماہرِ امراضِ جلد مناسب علاج تجویز کرتے ہیں۔
جلد پر صرف یہی جاندار نہیں رہتے
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری جلد صرف ڈیموڈیکس مائٹس کا گھر نہیں۔
جدید تحقیق کے مطابق انسانی جلد پر اربوں بیکٹیریا، فنگس اور دوسرے خردبینی جاندار بھی موجود ہوتے ہیں، جنہیں مجموعی طور پر اسکن مائیکروبایوم (Skin Microbiome) کہا جاتا ہے۔
یہ تمام جاندار ایک متوازن نظام کے تحت زندگی گزارتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ہماری جلد کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کیا انہیں ختم کرنا ضروری ہے؟
اکثر لوگ یہ سن کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ ان کے چہرے پر ایسے جاندار موجود ہیں۔
لیکن ماہرین کے مطابق اگر جلد بالکل صحت مند ہے تو انہیں ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عام فیس واش یا صابن بھی انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ جلد کے اندر موجود باریک مساموں میں رہتے ہیں۔
علاج صرف اسی وقت کیا جاتا ہے جب ان کی تعداد بیماری کا سبب بننے لگے۔
جدید سائنس کے لیے بھی ایک معمہ
اگرچہ ڈیموڈیکس مائٹس پر کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے، لیکن سائنس دان اب بھی ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مثلاً:
1– یہ جلد کے دوسرے جراثیم کے ساتھ کیسے رہتے ہیں؟
2– جلد کی صحت میں ان کا اصل کردار کیا ہے؟
3– بعض لوگوں میں یہ نقصان دہ کیوں بن جاتے ہیں جبکہ دوسروں میں نہیں؟
یہ سوالات آج بھی تحقیق کا موضوع ہیں۔
سائنس بھی خالق کی کاریگری پر حیران
جدید سائنس جتنا انسانی جسم کے رازوں سے پردہ اٹھاتی جا رہی ہے، اتنا ہی یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ انسان کی تخلیق نہایت پیچیدہ، منظم اور حیرت انگیز ہے۔ ایک ایسا نظام، جس میں ننگی آنکھ سے نہ دکھائی دینے والے جاندار بھی ایک مخصوص توازن کے ساتھ موجود ہیں۔
یہ دریافتیں انسان کو دعوت دیتی ہیں کہ وہ اپنے وجود پر غور کرے، علم حاصل کرے اور اس عظیم نظامِ تخلیق کو سمجھے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک معمولی سا مسام بھی ایسی حقیقت اپنے اندر چھپائے ہوتا ہے، جس تک پہنچنے کے لیے سائنس کو طاقتور ترین خوردبینوں کی ضرورت پڑتی ہے۔
واقعی، آئینہ ہمیں صرف چہرہ دکھاتا ہے، لیکن علم ہمیں اس چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی پوری دنیا سے روشناس کراتا ہے۔
