ای پاسپورٹ 19

ای پاسپورٹ کیا ہے؟ پاکستانی مسافروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

پاکستان میں ای پاسپورٹ کے اجرا سے متعلق نئی پالیسی کے بعد شہریوں کے ذہنوں میں کئی سوالات ہیں: یہ پاسپورٹ عام پاسپورٹ سے کیسے مختلف ہے؟ کیا اس سے بیرونِ ملک سفر آسان ہوجائے گا؟ اور کیا موجودہ پاسپورٹ فوری تبدیل کروانا ضروری ہے؟

ای پاسپورٹ ایک چِپ رکھنے والی سفری دستاویز ہے، جس کا مقصد مسافر کی شناخت کی تصدیق کو زیادہ محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔ یہ موبائل میں محفوظ ہونے والا پاسپورٹ یا صرف آن لائن درخواست دینے کا نام نہیں، بلکہ روایتی پاسپورٹ کی طرح ایک باقاعدہ کتابچہ ہوتا ہے۔

 

ای پاسپورٹ میں کیا خاص ہے؟

 

پاکستان کے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے مطابق، ای پاسپورٹ میں ایک الیکٹرانک چِپ نصب ہوتی ہے۔ اس میں پاسپورٹ ہولڈر کی ذاتی اور بایومیٹرک معلومات، منفرد شناختی نمبر اور ڈیجیٹل دستخط محفوظ ہوتے ہیں۔ متعلقہ آلات ان معلومات کو الیکٹرانک طریقے سے پڑھ سکتے ہیں۔

عام مشین ریڈایبل پاسپورٹ کی معلومات بھی مشین سے پڑھی جاسکتی ہیں، لیکن ای پاسپورٹ میں شامل چِپ شناخت کی تصدیق کے لیے ایک اضافی ذریعہ فراہم کرتی ہے۔

پاکستانی مسافروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

 

ای   پاسپورٹ کا بنیادی فائدہ سکیورٹی ہے۔ چِپ میں محفوظ معلومات اور ڈیجیٹل تصدیق پاسپورٹ کی اصلیت جانچنے اور معلومات میں ردوبدل کی نشاندہی میں مدد دیتی ہے۔

اس کے ساتھ، موزوں نظام رکھنے والے ہوائی اڈوں پر شناختی معلومات کی جانچ زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔ پاکستانی محکمہ پاسپورٹ نے ای گیٹ کی سہولت اور ہوائی اڈوں پر معلومات کے فوری ملاپ کو بھی اس کی خصوصیات میں شامل کیا ہے۔ تاہم، ای گیٹ استعمال کرنے کی اجازت متعلقہ ملک اور ایئرپورٹ کی شرائط پر منحصر ہوتی ہے۔

پاکستان میں نئی پالیسی کیا ہے؟

بزنس ریکارڈر کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس نے صرف ای پاسپورٹ جاری کرنے کے نظام پر منتقلی کے لیے 23 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کی تھی۔ اس تبدیلی کا مقصد سفری دستاویزات کی سکیورٹی بہتر بنانا اور پاسپورٹ خدمات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

ای پاسپورٹ پاکستان میں پہلی مرتبہ متعارف نہیں ہورہا۔ محکمہ پاسپورٹ کے مطابق، اس کا افتتاح مارچ 2022 میں ہوا تھا، جبکہ 16 اگست 2023 سے ملک بھر کے فیلڈ دفاتر میں اس کے اجرا کی سہولت دستیاب کردی گئی تھی۔ حالیہ تبدیلی کا تعلق صرف ای پاسپورٹ جاری کرنے کے نظام کی جانب منتقلی سے ہے۔

 

کیا پرانا پاسپورٹ فوری تبدیل کروانا ہوگا؟

 

موجودہ مشین ریڈایبل پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے اہم بات یہ ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ان کے پاسپورٹ فوری طور پر منسوخ نہیں ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق، 23 اکتوبر سے پہلے جاری ہونے والے مشین ریڈایبل پاسپورٹ اپنی درج شدہ میعاد تک کارآمد رہیں گے۔ جن شہریوں کے پاسپورٹ ابھی مؤثر ہیں، انہیں صرف اس تبدیلی کی وجہ سے قبل از وقت نیا پاسپورٹ بنوانے کی ضرورت نہیں۔ البتہ سفر کے وقت منزل کے ملک کی پاسپورٹ کی باقی میعاد اور دیگر داخلہ شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔

 

کیا ای پاسپورٹ سے ویزا حاصل کرنا ضروری نہیں رہے گا؟

 

ای

پاسپورٹ رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک میں ویزا کے بغیر داخلہ مل جائے گا۔ پاسپورٹ کی ٹیکنالوجی اور کسی ملک کی ویزا پالیسی الگ معاملات ہیں۔ جہاں پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا ضروری ہے، وہاں ای پاسپورٹ کے ساتھ بھی متعلقہ شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

اسی طرح ای پاسپورٹ کو ہر ہوائی اڈے پر فوری امیگریشن یا قطار سے استثنا کی ضمانت سمجھنا بھی درست نہیں۔ اس کا اصل فائدہ محفوظ دستاویز، بہتر شناختی تصدیق اور موزوں نظام کی موجودگی میں سفری کارروائی کی سہولت ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں