تصور کریں ایک ایسی خاتون جو تقریباً دس سال سے الزائمر کے مرض میں مبتلا ہے۔ پانچ سال سے وہ تقریباً بول نہیں پاتی۔ اس کی گفتگو چند آوازوں یا ایک آدھ لفظ تک محدود ہو چکی ہے۔ چلنے پھرنے میں مشکل ہے، روزمرہ کے کاموں کے لیے دوسروں کی مدد درکار ہے اور اسے پیشاب پر بھی قابو نہیں رہتا۔
اب تصور کریں کہ ایک دن اچانک وہ خاتون دوبارہ باتیں کرنا شروع کر دے۔
وہ اپنے ماضی کے واقعات یاد کرے، لوگوں سے گفتگو کرے، مذاق کرے، خود کپڑے پہننے لگے، بہتر انداز میں چلنے پھرنے لگے اور یہاں تک کہ پیشاب پر قابو بھی واپس آ جائے۔
یہ کسی فلم کا منظر نہیں بلکہ 2026 میں شائع ہونے والی ایک طبی رپورٹ میں بیان کیا گیا ایک حقیقی واقعہ ہے۔
اور اس واقعے نے ایک انتہائی دلچسپ سوال کو جنم دیا ہے:
کیا الزائمر کے مریض میں کچھ یادیں اور صلاحیتیں حقیقت میں مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، بلکہ دماغ صرف ان تک رسائی کھو دیتا ہے؟
دس سال سے الزائمر کی مریضہ
رپورٹ میں ایک 80 سال سے زائد عمر کی جاپانی نژاد امریکی خاتون کا ذکر ہے جو تقریباً ایک دہائی سے الزائمر کے ساتھ زندگی گزار رہی تھیں۔
ان کی بیماری اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ تقریباً پانچ سال سے ان کی گفتگو بہت محدود تھی۔ وہ زیادہ تر صرف ایک لفظ یا مختصر آوازوں کے ذریعے اظہار کرتی تھیں۔
ان کی جسمانی حالت بھی کمزور ہو چکی تھی۔ چلنے پھرنے اور روزمرہ کے کاموں میں مدد درکار تھی جبکہ پیشاب پر قابو نہ رہنے کا مسئلہ بھی موجود تھا۔
ایسے مریض کے بارے میں عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ بیماری نے ان کی یادداشت اور کئی بنیادی صلاحیتوں کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔لیکن پھر ایک غیر معمولی تجربہ ہوا۔
مشرومز کے استعمال کے بعد کیا ہوا؟
خاتون کو ایسی مشرومز دی گئیں جن میں psilocybin نامی ایک مادہ موجود ہوتا ہے۔ یہ وہی مادہ ہے جو بعض مخصوص psychedelic یا “magic mushrooms” میں پایا جاتا ہے۔
یہ کوئی عام یا منظور شدہ طبی علاج نہیں تھا۔ انہیں تقریباً پانچ گرام مشرومز دی گئیں، جو ایک غیر معمولی اور نسبتاً زیادہ مقدار تھی۔
شروع میں ان پر اس کا شدید اثر ہوا۔ انہیں بہت زیادہ پسینہ آیا، جسم کا درجہ حرارت بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا اور وہ کافی دیر تک ایسی حالت میں رہیں جیسے گہری نیند میں ہوں۔
لیکن تقریباً 19 گھنٹے بعد کچھ ایسا ہوا جس نے سب کو حیران کر دیا۔
اچانک گفتگو شروع ہو گئی
خاتون نے خود سے بات کرنا شروع کر دی۔صرف ایک آدھ لفظ نہیں، بلکہ اپنی زندگی کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔ اگلے دنوں میں ان کی دیکھ بھال کرنے والوں نے مزید تبدیلیاں محسوس کیں۔
وہ زیادہ گفتگو کرنے لگیں۔ انہیں اپنی زندگی کے کچھ پرانے واقعات یاد آنے لگے۔ وہ جذبات کا بہتر اظہار کرنے لگیں۔ ان کی جسمانی حرکت میں بہتری آئی اور وہ کچھ کام خود کرنے لگیں۔
رپورٹ کے مطابق وہ دوبارہ خود کپڑے پہننے لگیں۔ ان کا پیشاب پر قابو بھی واپس آ گیا۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ لوگوں کے ساتھ زیادہ گھلنے ملنے لگیں اور ان کے رویے میں مزاح بھی واپس آ گیا۔
ایک ماہ بعد انہیں دوبارہ یہ تجربہ کروایا گیا۔ اس مرتبہ مقدار کم، تقریباً تین گرام تھی۔ اس کے بعد بھی گفتگو اور جسمانی چستی میں مزید بہتری دیکھی گئی۔
یہ سب کچھ واقعی حیران کن ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت اہم سوال ہے۔
کیا واقعی ان کی یادداشت واپس آ گئی تھی؟
ضروری نہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں جذبات سے ہٹ کر سائنس کو سمجھنا ہوگا۔
الزائمر میں دماغ کو پہنچنے والا نقصان حقیقی ہوتا ہے۔ بیماری کے ساتھ دماغ کے وہ حصے متاثر ہوتے ہیں جو یادداشت، زبان اور دوسرے کاموں میں کردار ادا کرتے ہیں۔
لیکن انسانی دماغ کمپیوٹر کی طرح نہیں کہ ایک فائل ڈیلیٹ ہوئی اور ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔
ہماری یادیں اور صلاحیتیں دماغ کے مختلف حصوں میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔
اس لیے ایک امکان یہ ہے کہ بعض معلومات مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ان تک پہنچنے کی صلاحیت متاثر ہو گئی ہو۔
سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں:
آپ کے موبائل میں کوئی تصویر موجود ہے، لیکن فون میں خرابی کی وجہ سے آپ اسے کھول نہیں پا رہے۔
تصویر موجود ہے، مگر اس تک رسائی نہیں ہو رہی۔ کیا اس خاتون کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا؟ممکن ہے۔ لیکن ابھی ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے۔
کیا سائلو سائِبن نے دماغ کو ٹھیک کر دیا؟
یہ کہنا بہت جلدی ہوگا۔
اس واقعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ psilocybin نے الزائمر کو ختم کر دیا یا دماغ کے تباہ شدہ حصوں کو دوبارہ ٹھیک کر دیا۔
یہ صرف ایک مریض کا واقعہ ہے۔
نہ اس کے ساتھ درجنوں دوسرے مریضوں کا موازنہ کیا گیا، نہ ایسا تفصیلی ٹیسٹ ہوا جس سے یہ ثابت کیا جا سکے کہ یادداشت میں واقعی مستقل بہتری آئی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ مریض کی حالت میں قدرتی طور پر کچھ اتار چڑھاؤ آیا ہو یا دوسرے عوامل نے کردار ادا کیا ہو۔
اسی لیے سائنس دان اس واقعے کو ایک دلچسپ مشاہدہ سمجھتے ہیں، حتمی علاج نہیں۔
پھر اس واقعے کی اہمیت کیا ہے؟
اصل اہمیت شاید مشرومز میں نہیں بلکہ اس سوال میں ہے جو اس واقعے نے اٹھایا ہے۔
ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ جب الزائمر کا مریض بولنا چھوڑ دے یا ماضی کی باتیں یاد نہ کر سکے تو شاید وہ صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
لیکن اگر مستقبل کی تحقیق یہ ثابت کر دے کہ بیماری کے شدید مرحلے میں بھی کچھ صلاحیتیں دماغ میں باقی رہ سکتی ہیں اور کسی خاص طریقے سے عارضی طور پر دوبارہ سامنے آ سکتی ہیں تو یہ بہت بڑی دریافت ہوگی۔
اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں الزائمر کے بارے میں اپنی موجودہ سمجھ پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ شاید کچھ صلاحیتیں ختم ہونے سے پہلے چھپ جاتی ہیں۔
لیکن ایک خطرناک غلط فہمی سے بچنا ضروری ہے
اس خبر کو پڑھ کر کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ الزائمر کے مریض کو گھر پر magic mushrooms دے کر اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
ایسا کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
اس کیس میں بھی ابتدائی ردعمل شدید تھا۔ اس کے علاوہ مشرومز میں موجود فعال مادے کی مقدار ہر مشروم میں ایک جیسی نہیں ہوتی۔ یعنی پانچ گرام مشروم کا مطلب ہر بار ایک جیسی مقدار کی دوا نہیں ہوتا۔
اس لیے یہ ایک باقاعدہ طبی علاج نہیں بلکہ ایک غیر معمولی طبی مشاہدہ تھا۔
اصل جواب ابھی باقی ہے
اس ایک واقعے نے ایک دروازہ ضرور کھولا ہے، لیکن اس کے پیچھے کیا ہے، یہ ابھی معلوم نہیں۔
سائنس دانوں کو اب زیادہ مریضوں پر باقاعدہ تحقیق کرنا ہوگی۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہی تبدیلی دوسرے الزائمر کے مریضوں میں بھی آتی ہے؟ اگر آتی ہے تو کتنی دیر رہتی ہے؟ کیا واقعی یادداشت بہتر ہوتی ہے یا صرف گفتگو اور رویے میں تبدیلی آتی ہے؟ اور کیا دماغ میں بھی اس دوران کوئی تبدیلی نظر آتی ہے؟
ان سوالات کے جواب ہی یہ بتا سکیں گے کہ یہ واقعہ ایک غیر معمولی اتفاق تھا یا کسی نئی سائنسی دریافت کی پہلی جھلک۔
فی الحال اتنا کہنا ہی درست ہوگا: یہ الزائمر کا معجزاتی علاج نہیں، لیکن یہ ایک ایسا حیران کن واقعہ ضرور ہے جس نے سائنس دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ شاید شدید الزائمر میں بھی انسانی دماغ کے اندر ہماری توقع سے زیادہ کچھ باقی رہ سکتا ہے۔
اور شاید آنے والے برسوں میں تحقیق ہمیں یہ بتا دے کہ جو یادیں ہمیں ہمیشہ کے لیے کھوئی ہوئی نظر آتی ہیں، ان میں سے کچھ واقعی ختم ہو چکی ہیں—اور کچھ شاید کہیں نہ کہیں اب بھی موجود ہیں، صرف ان تک پہنچنے کا راستہ بند ہے۔
