گلگت بلتستان 18

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان: دو حساس خطے دو نئی حکومتیں

کبھی سوچا ہے کہ پاکستان کے نقشے پر موجود دو خطے، جو رقبے یا آبادی سے کہیں زیادہ اپنی تاریخی، جغرافیائی اور قومی حساسیت کی وجہ سے اہم ہیں، وہاں بار بار سیاسی حکومتیں کیسے بدلتی ہیں؟

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں آج جو کچھ ہو رہا ہے، اسے محض دو علاقائی انتخابات کا نتیجہ سمجھنا شاید بہت بڑی غلطی ہوگی۔

یہ دراصل پاکستان کی سیاست، جمہوری نمائندگی، عوامی مینڈیٹ اور ریاستی بیانیے کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔

 

ایک وقت میں دونوں خطوں میں پی ٹی آئی  مضبوط تھی

 

2020 میں گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی  نے 24 جنرل نشستوں میں سے 16 نشستیں جیت کر ایسی پوزیشن بنائی کہ بعد میں مخصوص نشستوں سمیت اسے دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی۔ خالد خورشید وزیراعلیٰ بنے۔

2021 میں آزاد کشمیر میں بھی PTI نے واضح کامیابی حاصل کی اور حکومت بنائی۔ یہ وہ وقت تھا جب دونوں خطوں میں تحریک انصاف ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی۔

لیکن پھر دونوں جگہ سیاسی منظرنامہ بدلتا چلا گیا۔

گلگت بلتستان میں خالد خورشید کو 2023 میں عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد PTI حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد PTI ہی سے تعلق رکھنے والے گلبر خان نے ایسی سیاسی صف بندی کے نتیجے میں وزارتِ اعلیٰ سنبھالی جس میں PML-N، PPP اور دیگر ارکان کی حمایت شامل تھی۔

آزاد کشمیر میں بھی PTI کی منتخب حکومت اپنی اصل شکل میں برقرار نہ رہ سکی۔ 2023 میں PTI کے فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے چوہدری انوار الحق وزیراعظم بنے۔

یعنی دونوں خطوں میں ایک دلچسپ مماثلت ضرور پیدا ہوئی:

عوام نے ایک سیاسی قوت کو مینڈیٹ دیا، لیکن اسمبلیوں کے اندر سیاسی صف بندی نے بعد میں اقتدار کا نقشہ تبدیل کردیا۔

 

اور اب 2026 میں منظرنامہ تقریباً مکمل طور پر بدل چکا ہے

 

گلگت بلتستان میں PPP سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر سامنے آئی، جبکہ آزاد کشمیر میں PML-N حکومت بنانے کی پوزیشن میں پہنچ چکی ہے۔بلیکن یہاں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون جیتا؟

اصل سوال یہ ہے کہ:

کیا عوامی سیاست میں PTI کی جگہ واقعی ختم ہوگئی ہے، یا اسے انتخابی میدان سے باہر کرکے اس کے ووٹر کو ایک نئے سیاسی تجربے کی طرف دھکیلا گیا ہے؟

یہ دونوں چیزیں ایک نہیں ہیں۔

پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور اس کے امیدواروں نے انتخابی عمل میں جماعتی حیثیت سے حصہ نہیں لیا۔ پارٹی نے انتخابی عمل میں دھاندلی اور غیر مساوی میدان کے خدشات ظاہر کیے۔ Reuters کے مطابق PTI کا بائیکاٹ اسی نوعیت کے الزامات کے پس منظر میں ہوا، جبکہ PPP نے بھی بعض حلقوں میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اس لیے اگر کوئی یہ کہے کہ: "پی ٹی آئی  ہار گئی” تو یہ تصویر کا صرف ایک حصہ ہوگا۔

کیونکہ جس جماعت نے باقاعدہ انتخابی مقابلے میں حصہ ہی نہ لیا ہو، اس کے ووٹ بینک کی حقیقی موجودہ طاقت کا اندازہ صرف جیتنے اور ہارنے والی نشستوں سے نہیں لگایا جاسکتا۔

 

لیکن یہاں ریاست کے لیے اصل خطرہ کیا ہے؟

 

اصل خطرہ کسی ایک جماعت کا جیتنا یا ہارنا نہیں۔

اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کے پاس اپنی سیاسی پسند کو جمہوری طریقے سے ظاہر کرنے کا مؤثر راستہ نہیں رہا، تو وہ سیاسی نظام سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

اور یہ معاملہ پنجاب، سندھ یا کسی عام صوبائی انتخاب سے مختلف ہے۔

آزاد کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعِ کشمیر کے تناظر میں غیر معمولی حساس حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ انتخابات بھی ایسے وقت میں ہوئے جب علاقے میں احتجاج، تشدد، سڑکوں کی بندش اور سیاسی بے چینی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ Reuters کے مطابق متعدد حلقوں میں ووٹنگ بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث مؤخر ہوئی۔

ایسے ماحول میں انتخابات صرف حکومت بنانے کا ذریعہ نہیں ہوتے۔ وہ ریاستی ساکھ کا امتحان بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ دنیا، بالخصوص بھارت، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والی ہر سیاسی پیش رفت کو غور سے دیکھتا ہے۔

ہم بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جمہوری عمل، سیاسی آزادی اور عوامی نمائندگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

تو پھر ہمارے لیے یہ اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ ہمارے زیر انتظام خطوں میں عوام کو یہ یقین ہو کہ ان کا ووٹ، ان کی سیاسی پسند اور ان کی آواز واقعی اہم ہے۔

 

PML-N یا PPP کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے

 

PML-N اگر آزاد کشمیر میں حکومت بناتی ہے تو اسے اسے صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔

اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک ایسے خطے کی حکومت سنبھال رہی ہے جہاں حالیہ دنوں میں شدید احتجاج، جانی نقصان اور سیاسی کشیدگی سامنے آچکی ہے۔

اسی طرح گلگت بلتستان میں PPP کے لیے بھی سب سے بڑا چیلنج صرف حکومت بنانا نہیں بلکہ عوامی اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔

کیونکہ حکومت اسمبلی میں اکثریت سے بنتی ہے، لیکن سیاسی legitimacy صرف اسمبلی کی نشستوں سے نہیں آتی۔

وہ عوام کے اعتماد سے آتی ہے۔

 

PTI کے لیے بھی ایک بڑا سوال موجود ہے

 

یہ بحث صرف حکومت یا الیکشن کمیشن سے نہیں ہونی چاہیے۔ PTI کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر وہ سیاسی میدان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہے تو صرف بائیکاٹ اور احتجاج کافی ہوگا یا اسے مستقبل میں کوئی ایسا سیاسی راستہ اختیار کرنا ہوگا جس کے ذریعے اس کے ووٹر کی نمائندگی پارلیمنٹ کے اندر بھی ہوسکے۔

کیونکہ جمہوریت کا بنیادی اصول یہی ہے:

میدان میں رہیں، مقابلہ کریں، ہاریں تو دوبارہ لڑیں، اور جیتیں تو عوام کے سامنے جواب دہ رہیں۔

اگر کوئی بڑی سیاسی جماعت مسلسل انتخابی عمل سے باہر ہوجائے تو نقصان صرف اس جماعت کا نہیں ہوتا۔

نقصان پورے سیاسی نظام کا ہوتا ہے۔

 

اور شاید سب سے اہم بات

 

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کی سیاست میں صرف اس وقت یاد نہیں کرنا چاہیے جب وہاں انتخابات ہوں۔

یہ دونوں خطے پاکستان کے لیے جغرافیہ نہیں، قومی ذمہ داری ہیں۔ یہاں حکومتیں بدل سکتی ہیں، پارٹیاں بدل سکتی ہیں،

وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ بدل سکتے ہیں۔ لیکن ایک چیز نہیں بدلنی چاہیے: عوام کا یہ یقین کہ ان کے ووٹ کی قدر ہے۔

کیونکہ اگر عوام کو یہ یقین ہو کہ اقتدار پہلے طے ہوتا ہے اور ووٹ بعد میں صرف اسے قانونی شکل دینے آتا ہے، تو پھر جمہوریت کا سب سے قیمتی سرمایہ یعنی اعتماد ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔

اور کشمیر جیسے حساس خطے میں اعتماد کا بحران صرف سیاسی بحران نہیں ہوتا۔ یہ ریاستی بحران بن سکتا ہے۔

اسی لیے آج اصل کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ آزاد کشمیر میں PML-N حکومت بنا لے یا گلگت بلتستان میں PPP حکومت چلا لے۔

اصل کامیابی تب ہوگی جب دونوں حکومتیں اپنے سیاسی مخالفین کو بھی سیاسی عمل کا حصہ سمجھیں، عوامی شکایات کو سنیں، شفافیت قائم کریں اور یہ ثابت کریں کہ حکومت جیتنے سے زیادہ اہم عوام کا اعتماد جیتنا ہے۔

کیونکہ حکومتیں پانچ سال کے لیے آتی ہیں۔ لیکن ریاست اور عوام کا رشتہ نسلوں تک قائم رہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں