الجزیرہ ویب سائٹ 10

پاکستان میں‌الجزیرہ ویب سائٹ پر پابندی عائد

پاکستان میں بین الاقوامی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی اچانک بند کر دی گئی ہے۔ ملک بھر کے صارفین اب الجزیرہ کی ویب سائٹ نہیں کھول پا رہے، جس کے بعد سوشل میڈیا، صحافتی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں اس اقدام پر شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب الجزیرہ نے آزاد کشمیر (پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر) میں ہونے والے احتجاج، انتخابی تنازع، مبینہ دھاندلی، سکیورٹی کارروائیوں اور شہری ہلاکتوں پر تفصیلی رپورٹنگ کی تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کوریج کے بعد ہی پاکستان میں الجزیرہ کی ویب سائٹ بلاک کی گئی۔

 

اسرائیل کے بعد پاکستان بھی اسی فہرست میں شامل

 

پاکستان کا الجزیرہ ویب سائٹ یہ اقدام اس لیے بھی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل اسرائیل بھی الجزیرہ پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

مئی 2024 میں اسرائیلی حکومت نے قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے الجزیرہ کے دفاتر بند کر دیے، نشریاتی آلات ضبط کیے، اس کی نشریات روک دیں اور ویب سائٹ تک رسائی بھی محدود کر دی۔ اسرائیل نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ الجزیرہ کی رپورٹنگ جنگی حالات میں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہے، جبکہ الجزیرہ نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں آزاد صحافت کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا تھا۔

اب پاکستان میں بھی الجزیرہ کی ویب سائٹ بند ہونے کے بعد دونوں ممالک کا نام ایک ہی بحث میں لیا جا رہا ہے، اگرچہ دونوں حکومتوں نے اپنے اقدامات کے لیے مختلف وجوہات پیش کی ہیں۔

 

الجزیرہ ویب سائٹ پر پابندی کی ممکنہ وجہ کیا ہے؟

 

تجزیہ کاروں کے مطابق الجزیرہ کی حالیہ رپورٹنگ میں درج ذیل موضوعات کو نمایاں جگہ دی گئی تھی:

  • آزاد کشمیر میں احتجاجی مظاہرے
  • انتخابی عمل پر اٹھنے والے اعتراضات
  • مبینہ ووٹ دھاندلی کے الزامات
  • سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں
  • شہری ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات
  • انٹرنیٹ اور مواصلاتی پابندیاں
  • اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مؤقف

مبصرین کا خیال ہے کہ انہی رپورٹس کے بعد پاکستانی صارفین کے لیے الجزیرہ کی ویب سائٹ تک رسائی محدود کر دی گئی۔

صحافتی آزادی پر سوالات

 

صحافتی آزادی کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی میڈیا ادارے تک رسائی روکنا آزادیٔ اظہار اور عوام کے حقِ معلومات سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

ان تنظیموں کے مطابق اگر کسی خبر یا رپورٹ پر اعتراض موجود ہو تو اس کا جواب حقائق، وضاحت یا قانونی طریقۂ کار کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ پورے ادارے کی ویب سائٹ تک عوام کی رسائی بند کر کے۔

دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف عموماً یہ رہا ہے کہ قومی سلامتی، عوامی امن اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اسی تناظر میں بعض اوقات ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

 

پاکستان میں انٹرنیٹ پابندیوں کی نئی مثال؟

 

گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ویب سائٹس اور آن لائن سروسز مختلف اوقات میں جزوی یا مکمل طور پر محدود کی جا چکی ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بارہا پاکستان میں انٹرنیٹ سینسرشپ اور ڈیجیٹل آزادیوں سے متعلق خدشات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

الجزیرہ کی ویب سائٹ پر حالیہ پابندی نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا قومی سلامتی اور آزادیٔ صحافت کے درمیان توازن کس طرح قائم کیا جانا چاہیے۔

قطر کے ساتھ تعلقات پر بھی سوال

 

الجزیرہ قطر سے تعلق رکھنے والا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ ہے، جبکہ پاکستان اور قطر کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات نہایت قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے میں بعض ماہرین کا خیال ہے کہ الجزیرہ پر پابندی مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث آ سکتی ہے، اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کسی بھی حکومت کی جانب سے باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

 

پاکستان الجزیرہ کی بندش کے بعد ہیڈ لائن بن گیا

 

الجزیرہ کی ویب سائٹ پر پاکستان میں عائد پابندی نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر آزادیٔ صحافت، ریاستی اختیارات اور عوام کے حقِ معلومات کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اسرائیل کے بعد پاکستان کا بھی الجزیرہ تک رسائی محدود کرنا اس معاملے کو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا حکومت اس فیصلے کے قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر مزید وضاحت جاری کرتی ہے یا نہیں، اور کیا یہ پابندی مستقل نوعیت اختیار کرتی ہے یا مستقبل میں ختم کر دی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں