اہم خبریں

ماؤں کا عالمی دن، پنجاب کی "سب کی ماں” کے نام

پنجاب کے عوام کو اپنی اس نئی "سیاسی ماں" کی یاد بھی شدت سے ستا رہی ہے، جس نے مسندِ اقتدار سنبھالتے ہی خود کو "سب کی ماں" قرار دیا تھا۔

آج دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ماں—ایک ایسا رشتہ جس کا نام سنتے ہی ذہن میں قربانی، بے لوث محبت اور تحفظ کا احساس ابھرتا ہے۔

وہ ہستی جو خود گیلے میں سوتی ہے مگر بچے کو سوکھے میں سلاتی ہے، جو خود بھوکی رہ کر اپنے بچوں کا پیٹ بھرتی ہے۔

لیکن آج، جب ہم اس روایتی اور سچی ممتا کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں، تو پنجاب کے عوام کو اپنی اس نئی "سیاسی ماں” کی یاد بھی شدت سے ستا رہی ہے، جس نے مسندِ اقتدار سنبھالتے ہی خود کو "سب کی ماں” قرار دیا تھا۔

مگر افسوس، جب سے اس "سب کی ماں” کا سایہ پنجاب پر پڑا ہے، عوام نے سکھ کا ایک سانس نہیں لیا۔ ممتا کی اس انوکھی داستان نے صوبے کے باسیوں کو وہ دن دکھائے ہیں کہ اب وہ دہائیاں دیتے نظر آتے ہیں۔

نوکریاں نگلتی ممتا اور مہنگائی کا طوفان

 

سنا تھا مائیں بچوں کا مستقبل بناتی اور سنوارتی ہیں۔ مگر پنجاب کی اس "ماں” کا اندازِ شفقت ذرا مختلف ہے۔ انہوں نے آتے ہی ڈیڑھ لاکھ سرکاری نوکریوں پر کفایت شعاری کا ایسا ظالمانہ قلم پھیرا کہ لاکھوں بے روزگار نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔

وہ مائیں جو اپنے بچوں کے برسرِ روزگار ہونے کی دعائیں مانگتی تھیں، آج اس "سیاسی ماں” کے فیصلوں پر ماتم کر رہی ہیں۔

مہنگائی ختم کرنے کے دعوے اور وعدے تو ایسے تھے جیسے بس کوئی جادو کی چھڑی گھومنے والی ہو۔ کہا گیا تھا کہ اب کوئی بچہ بھوکا نہیں سوئے گا۔

لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس وقت صوبے میں مہنگائی کی جو بدترین لہر چل رہی ہے، اس نے غریب کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا ہے۔ بازاروں میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہ "ماں” صرف دعووں کی لوریاں سنا رہی ہے۔

تعلیم اور صحت کی نجکاری: پیسے دو یا مر جاؤ

 

ایک عام ماں اپنے بیمار بچے کے سرہانے راتیں کاٹ دیتی ہے، اس کی تعلیم کے لیے اپنے زیور تک بیچ دیتی ہے۔ مگر ہماری اس "جدید ماں” نے تو صحت اور تعلیم جیسے بنیادی حقوق کا ہی سودا کرنا شروع کر دیا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں اور سکولوں کی نجکاری (Privatization) کا عمل جس تیزی سے جاری ہے، اس نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ اب غریب کا بچہ نہ تو مفت اور معیاری علاج کا حقدار رہا اور نہ ہی سستی تعلیم کا۔ یعنی اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو آپ اس "ماں” کے لاڈلے ہیں، وگرنہ آپ کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔

چھوٹا سا ریلیف، کروڑوں کا ڈھنڈورا

 

اور اگر کبھی اس ممتا میں ابال آ بھی جائے، اور آٹے، روٹی یا بجلی پر کوئی چند روپوں کی چھوٹی موٹی سبسڈی دے دی جائے، تو اس کا احسان جتانے کا انداز بھی نرالا ہے۔

ماؤں کی تو یہ شان ہوتی ہے کہ وہ ایک ہاتھ سے دیتی ہیں تو دوسرے ہاتھ کو خبر نہیں ہوتی۔ مگر یہاں چند ٹکوں کا ریلیف دے کر اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر کروڑوں روپے کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں۔

عوام کی جیب سے ہی نکالا گیا پیسہ عوام کو یہ بتانے پر خرچ کر دیا جاتا ہے کہ "دیکھو، تمہاری ماں نے تم پر کتنا بڑا احسان کیا ہے”۔

عوام کے لیے سادگی، اپنے لیے شاہانہ پروازیں

 

اس ساری کہانی کا سب سے دلچسپ اور افسوسناک پہلو وہ تضاد ہے جو اس حکومت کی ترجیحات میں نظر آتا ہے۔ جب عوام کو ریلیف دینے، ہسپتالوں میں دوائیاں فراہم کرنے یا نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی بات آتی ہے تو خزانہ خالی ہونے کا رونا رویا جاتا ہے۔

مگر جب اپنی ذات اور پروٹوکول کی باری آتی ہے، تو اربوں روپے کے نئے پرتعیش جہاز اور ہیلی کاپٹر خریدتے وقت یہ "مادرانہ سادگی” نجانے کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ اس شاہ خرچی پر ایسی پراسرار خاموشی چھا جاتی ہے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

ماؤں کا عالمی دن اور پنجاب کی عوام کی دعا

 

آج ماں کے اس عالمی دن پر پنجاب کے عوام ہاتھ اٹھا کر بس یہی دعا کر رہے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان سچی ماؤں کا سایہ نصیب کر جو ہمارے لیے دعائیں کرتی ہیں، جو ہمارے دکھ میں روتی ہیں اور ہماری خوشی میں مسکراتی ہیں۔

اور خدارا! ایسی "سیاسی ماؤں” کے قہر سے ہمیں محفوظ رکھ، کیونکہ اس ظالمانہ ممتا کا بوجھ اب ہمارے کمزور کندھے مزید نہیں اٹھا سکتے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button