اہم خبریں

9 مئی: گرفتاری ایک، مقدمات سینکڑوں اور فیصلہ آج بھی ادھورا

پاکستان کی اعلیٰ عدالت بعد میں اس گرفتاری کو “غیر قانونی” اور “غیر آئینی انداز” میں انجام دیا گیا اقدام قرار دے چکی ہے۔ 

9 مئی 2023 پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا دن ثابت ہوا جس کے اثرات آج 9 مئی 2026 تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اس دن سابق وزیر اعظم عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطہ سے رینجرز اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

گرفتاری کا انداز، عدالت کے اندر کارروائی، اور بعد میں ملک بھر میں پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستان میں آئین، جمہوریت، عدلیہ اور سیاسی آزادیوں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔

پاکستان کی اعلیٰ عدالت بعد میں اس گرفتاری کو “غیر قانونی” اور “غیر آئینی انداز” میں انجام دیا گیا اقدام قرار دے چکی ہے۔

عدالت کے احاطہ سے گرفتاری — ایک غیر معمولی واقعہ

 

9 مئی کو عمران خان اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے لیے موجود تھے جب رینجرز اہلکاروں نے انہیں احاطہ عدالت کے اندر سے گرفتار کیا۔ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ سابق وزیر اعظم کو طاقت کے استعمال کے ساتھ حراست میں لیا گیا، جس پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے واضح الفاظ میں کہا کہ عدالت کے احاطہ سے اس طرح گرفتاری کرنا قانون اور عدالتی تقدس کے خلاف تھا۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالت کے اندر سے کسی کو اس انداز میں گرفتار کیا جائے تو پھر عدالت کا وقار باقی نہیں رہتا۔

احتجاج، ہنگامے اور ریاستی ردعمل

 

عمران خان کی گرفتاری کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ کئی شہروں میں جلاؤ گھیراؤ، سرکاری عمارتوں اور عسکری تنصیبات پر حملوں کے واقعات پیش آئے۔

حکومت اور ریاستی اداروں نے ان واقعات کی ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف پر عائد کی، جبکہ پارٹی مسلسل یہ مؤقف دیتی رہی کہ احتجاج میں شامل کئی عناصر نامعلوم تھے اور پوری جماعت کو اجتماعی سزا دی گئی۔

ان واقعات کے بعد ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے، سینکڑوں رہنماؤں پر مقدمات قائم کیے گئے اور متعدد افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں ٹرائلز شروع کیے گئے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور قانونی ماہرین نے ان کارروائیوں پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ سیاسی کارکنوں کے خلاف غیر معمولی طاقت استعمال کی گئی۔

“9 مئی” — ایک سیاسی بیانیہ یا انصاف کا سوال؟

 

وقت گزرنے کے ساتھ 9 مئی صرف ایک واقعہ نہیں رہا بلکہ پاکستان کی سیاست کا مستقل بیانیہ بن گیا۔ حکومت اور مخالف سیاسی جماعتیں اسے “ریاست پر حملہ” قرار دیتی رہیں، جبکہ  پی ٹی آئی  اور اس کے حامی اسے “سیاسی انتقام” اور “مینڈیٹ چوری” سے جوڑتے رہے۔

PTI کا مؤقف رہا کہ اگر شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہوں تو کئی دعوے ثابت نہیں ہو سکیں گے۔ پارٹی رہنماؤں نے بارہا جوڈیشل کمیشن اور اوپن ٹرائل کا مطالبہ کیا، جبکہ دوسری جانب ریاستی ادارے کہتے رہے کہ شواہد اور ویڈیوز کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 9 مئی کو بعد کی سیاست میں ایک “سیاسی ہتھیار” کے طور پر استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے ایک پوری جماعت کو دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان کی سیاست میں “9 مئی” ایک نعرہ، ایک الزام اور ایک دفاع — تینوں شکلوں میں موجود ہے۔

عمران خان کے مقدمات اور قانونی جنگ

 

9 مئی کے بعد عمران خان کے خلاف مختلف نوعیت کے متعدد مقدمات قائم ہوئے۔ بعض مقدمات میں سزائیں سنائی گئیں، بعض میں ریلیف ملا، جبکہ کئی کیسز اب بھی زیر سماعت ہیں۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے، جبکہ مخالفین کا مؤقف ہے کہ قانون اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ خود سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کے طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا تھا، لیکن اس کے باوجود بعد کے برسوں میں یہی واقعہ ملکی سیاست میں سب سے بڑی بنیاد بنتا چلا گیا۔

9 مئی سے جڑے سوالات آج بھی حل طلب

 

9 مئی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا محض ایک دن نہیں بلکہ ایک ایسا موڑ بن چکا ہے جس نے ریاست، سیاست، عدلیہ اور عوام کے تعلقات کو نئی شکل دی۔

ایک طرف ریاستی ادارے اسے قومی سلامتی پر حملہ قرار دیتے ہیں، تو دوسری طرف لاکھوں پاکستانی اسے سیاسی انتقام اور جمہوری حقِ رائے دہی دبانے کی علامت سمجھتے ہیں۔

تاریخ کا فیصلہ وقت کرتا ہے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ 9 مئی نے پاکستان کو پہلے جیسا نہیں رہنے دیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button