اہم خبریںپاکستانعوام

ایچ ای سی کا طلبہ کے لیے ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز متعارف کروانے کا فیصلہ

ایچ ای سی کی جانب سے پاکستان میں پہلی مرتبہ "ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز" کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، جس نے طلبہ کے لیے بیک وقت دو مختلف ڈگریوں میں تعلیم حاصل کرنے کے دروازے کھول دیے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے ملکی اعلیٰ تعلیم کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم فیصلہ کیا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے پاکستان میں پہلی مرتبہ "ڈوئل، ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز” کی باقاعدہ منظوری دے دی گئی ہے، جس نے طلبہ کے لیے بیک وقت دو مختلف ڈگریوں میں تعلیم حاصل کرنے کے دروازے کھول دیے ہیں۔

نئے پروگرامز کا تعارف اور طریقہ کار

1. ڈوئل اور ڈبل ڈگری پروگرامز (Dual & Double Degree)

 

اس نئی پالیسی کے تحت، طلبہ اب ایک ہی وقت میں دو مختلف ڈگری پروگرامز میں داخلہ لے سکیں گے۔ اس سے قبل یہ پابندی تھی کہ کوئی بھی طالب علم بیک وقت صرف ایک ہی ریگولر ڈگری پروگرام کا حصہ بن سکتا ہے۔

اس پالیسی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ دونوں پروگرامز کا ایک ہی ڈیپارٹمنٹ سے ہونا ضروری نہیں ہے۔ یعنی طلبہ اب اپنی دلچسپی کے دو بالکل مختلف مضامین (مثال کے طور پر BS Computer Science کے ساتھ BBA، یا BS Islamic Studies کے ساتھ BS Political Science) کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔

2. ملکی اور غیر ملکی جامعات کے ساتھ جوائنٹ ڈگری (Joint Degree Programs)

 

اس تعلیمی پالیسی کا دوسرا شاندار پہلو جوائنٹ ڈگری پروگرامز کی شروعات ہے۔ اس فریم ورک کے تحت، طلبہ اپنی ڈگری کا کچھ حصہ پاکستان کی کسی ایک یونیورسٹی میں اور بقیہ حصہ کسی دوسری ملکی یا ایچ ای سی سے منظور شدہ غیر ملکی یونیورسٹی (Foreign University) میں مکمل کر سکیں گے۔

اس اقدام سے پاکستانی طلبہ کو بین الاقوامی جامعات کے ساتھ مشترکہ ڈگری حاصل کرنے کا سنہری موقع ملے گا۔

طلبہ کے لیے اس پالیسی کے شاندار فوائد

 

ایچ ای سی کے اس اقدام سے طلبہ کو درج ذیل بڑے فوائد حاصل ہوں گے:

  • وقت اور اخراجات کی شاندار بچت: دو الگ الگ ڈگریاں یکے بعد دیگرے کرنے کے بجائے، بیک وقت دو پروگرامز مکمل کرنے سے طلبہ کے قیمتی سال اور فیسوں کی مد میں بڑی بچت ہوگی۔

  • متعدد مہارتوں کا حصول (Multidisciplinary Skills): دو مختلف مضامین کی تعلیم طلبہ کی ذہنی استعداد کو بڑھائے گی اور انہیں متنوع مہارتیں (Skills) فراہم کرے گی۔

  • بین الاقوامی تعلیمی تجربہ (Global Exposure): غیر ملکی جامعات کے ساتھ اشتراک (Foreign Collaboration) سے طلبہ کو بین الاقوامی تعلیمی ماحول اور ریسرچ کے جدید طریقوں تک رسائی ملے گی۔

  • جدید جاب مارکیٹ کے لیے بہترین تیاری: موجودہ دور کی ملکی و بین الاقوامی انڈسٹری ایسے افراد کو ترجیح دیتی ہے جو ایک سے زائد شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں۔ یہ ڈگریاں طلبہ کے روزگار کے مواقع (Employability) میں بے پناہ اضافہ کریں گی۔

جامعات کے لیے ایچ ای سی کی سخت شرائط اور ضوابط

 

یہ پروگرامز شروع کرنے کے لیے ایچ ای سی نے جامعات پر کچھ کڑی شرائط بھی عائد کی ہیں تاکہ تعلیمی معیار برقرار رہے:

  • باقاعدہ معاہدہ (MoU) اور NOC: جوائنٹ ڈگری آفر کرنے والی جامعات کو آپس میں مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کرنا ہوں گے اور پروگرام شروع کرنے سے قبل ایچ ای سی سے باقاعدہ عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (NOC) لینا لازمی ہوگا۔

  • واضح اور شفاف پالیسی: ہر یونیورسٹی کو ان پروگرامز کے لیے داخلے کی شرائط (Admission Criteria)، فیس کا ڈھانچہ، کریڈٹ میپنگ (Credit Mapping) اور ایگزٹ پالیسی واضح کرنا ہوگی۔

  • طلبہ کا تحفظ: جامعات اس بات کی پابند ہوں گی کہ کسی بھی قسم کی تعلیمی شراکت داری میں طلبہ کا تعلیمی یا مالی نقصان نہ ہو۔

حرفِ آخر

 

ایچ ای سی کا یہ فیصلہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے نہ صرف جامعات کی سطح پر تعلیمی لچک (Academic Flexibility) میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستانی طلبہ کو جدید علوم سے آراستہ ہو کر عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین پلیٹ فارم بھی میسر آئے گا۔

طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنی متعلقہ جامعات کی جانب سے جاری ہونے والی نئی پالیسیوں پر نظر رکھیں تاکہ اس جدید تعلیمی سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button