
کبھی وہ دور تھا جب کلائی پر گھڑی باندھنا محض وقت کی پابندی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پھر ٹیکنالوجی کا انقلاب آیا اور گھڑی نے ہمارے دل کی دھڑکن، قدموں کی گنتی، بلڈ آکسیجن اور نیند کا حساب رکھنا شروع کر دیا۔
ہم سمجھے کہ "ڈیجیٹل پاکستان” کے خواب میں ہم عوام بھی شامل ہو گئے ہیں، لیکن ٹھہریے! فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو یہ ڈیجیٹل اور صحت مند طرزِ زندگی کچھ زیادہ ہضم نہیں ہوا۔
حال ہی میں، ایف بی آر نے درآمدی سمارٹ واچز اور فٹنس بینڈز اور سمارٹ رنگز (Smart Rings) کی کسٹم ویلیوز کو باقاعدہ طور پر ریوائز (Revise) کر دیا ہے۔ کسٹمز ویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ کی نئی رولنگ (نمبر 2076/2026) کے تحت اب ان گیجٹس پر ڈیوٹی اور ٹیکسز نئے، اور ظاہری بات ہے کہ کڑے پیمانوں کے تحت وصول کیے جائیں گے۔
نئے کسٹم ریٹس: کس پر کتنا بوجھ؟
ایف بی آر نے سمارٹ ویری ایبلز (Wearables) کو تین بنیادی کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے، جبکہ پریمیم برانڈز کے لیے ایک الگ ہی وی آئی پی (VIP) لیگ رکھی گئی ہے:
کیٹیگری A (درمیانے درجے کے مشہور برانڈز): اس میں Xiaomi، Amazfit، Realme، Oppo، Vivo، Honor اور Infinix جیسے 30 سے زائد برانڈز شامل ہیں۔ ان کی نان جی ایس ایم (Non-GSM) سمارٹ واچ کی کسٹم ویلیو $5 فی پیس جبکہ بینڈ اور رنگ کی ویلیو $4.5 فی پیس مقرر کی گئی ہے۔
کیٹیگری B (لوکل یا درمیانے درجے کے امپورٹڈ برانڈز): Dany، Ronin، Faster اور Zero جیسے برانڈز اس کیٹیگری کا حصہ ہیں۔ ان کی واچ کی ویلیو $3 اور بینڈ کی $2.5 فی پیس رکھی گئی ہے۔
کیٹیگری C (سستے اور غیر معروف برانڈز): ان کے لیے واچ کی ویلیو $1.5 اور بینڈ/رنگ کی ویلیو $1.25 مقرر کی گئی ہے۔
امیروں کے کھلونے (Apple, Samsung, Garmin وغیرہ): ان پریمیم برانڈز کو اس رولنگ سے باہر رکھا گیا ہے۔ ان کی اسیسمنٹ کسٹم ایکٹ کے سیکشن 25 کے تحت الگ سے کی جائے گی، جس کی ویلیو کیٹیگری اے سے کہیں زیادہ ہوگی۔
تنقیدی جائزہ: انڈر انوائسنگ کا بہانہ اور عوام کی جیب کا صفایا
ایف بی آر کا سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ قدم "انڈر انوائسنگ” (درآمد کنندگان کی جانب سے جان بوجھ کر سامان کی قیمت کم دکھا کر ٹیکس چوری کرنا) کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ بے شک، قومی خزانے کو نقصان سے بچانا ایک احسن اور ضروری قدم ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کا حتمی بوجھ کس کی کمر توڑے گا؟ جی ہاں، ہمیشہ کی طرح اختتامِ سفر پر کھڑے عام صارف کی!
1. صحت مند رہنے پر "جرمانہ”
آج کل سمارٹ بینڈ یا واچ محض فیشن یا دکھاوے کی چیز نہیں رہی۔ شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے امراض میں گھرے اس معاشرے میں ایک عام آدمی اپنے قدم گننے اور ہارٹ ریٹ مانیٹر کرنے کے لیے 5 سے 10 ہزار روپے والا شیاؤمی یا ایمیزفٹ کا بینڈ لیتا ہے۔ ان مصنوعات کی کسٹم ویلیو کو فکس کرکے اور ان پر ڈیوٹیز لگا کر حکومت نے بالواسطہ طور پر عوام کی "صحت مند رہنے کی کوشش” پر بھی ٹیکس لگا دیا ہے۔
2. مڈل کلاس پھر نشانے پر
پریمیم برانڈز (جیسے ایپل یا سام سنگ) خریدنے والا طبقہ تو پہلے سمارٹ واچز اور فٹنس بینڈز پر لاکھوں روپے خرچ کر رہا ہے، اسے مزید چند ہزار کے ٹیکس سے شاید رتی برابر فرق نہ پڑے۔ لیکن اصل مار اس مڈل کلاس، نوکری پیشہ نوجوان یا طالب علم پر پڑے گی جو بمشکل پیسے جوڑ کر ایک درمیانے درجے (کیٹیگری اے یا بی) کی سمارٹ واچ خریدنے کا خواب دیکھتا ہے۔
3. ہوائی راستے کی سزا
رولنگ میں ایک اور دلچسپ شق یہ ہے کہ اگر یہ گیجٹس بذریعہ ہوائی جہاز (Air Shipments) درآمد کیے گئے، تو کسٹم حکام ان کی ویلیو میں ہوائی اور سمندری کرائے کا فرق بھی شامل کریں گے۔ یعنی تاجر اگر مارکیٹ میں مال جلدی لانے کی کوشش کرے گا، تو اسے ڈبل مار پڑے گی، اور یہ ڈبل مار بھی گھوم پھر کر صارف کی رسید میں ہی شامل ہوگی۔
حرفِ آخر
حکومت کو چاہیے کہ وہ "لگژری اشیاء” اور "جدید دور کی بنیادی ضرورت” کے درمیان فرق کرنا سیکھے۔ ایک طرف ہم آئی ٹی ایکسپورٹس اور ڈیجیٹل اکانومی کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی پہنچ میں آنے والے بیسک ہیلتھ اور ڈیجیٹل گیجٹس کو ٹیکس کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں۔
ایف بی آر انڈر انوائسنگ مافیا کو ضرور نکیل ڈالے، مگر اس اندھی لاٹھی سے عام صارف کی جیب کو نہ پیٹے۔ فی الحال تو صورتحال یہ لگ رہی ہے کہ وہ دن دور نہیں جب ہمیں اپنے دل کی دھڑکن تیز ہونے پر بھی حکومت کو ٹیکس دینا پڑے گا۔
ویسے بھی، ملک میں وقت اور حالات دونوں ہی کچھ خاص اچھے نہیں چل رہے۔ ایسے خراب وقت کو دیکھنے کے لیے بھاری بھرکم ٹیکسوں والی سمارٹ واچ کی کیا ضرورت ہے؟
بہتر ہے کہ اب ہم پرانے وقتوں کی طرح آسمان کی طرف دیکھ کر سورج کے سائے سے وقت کا اندازہ لگانا شروع کر دیں، کیونکہ خدا کا شکر ہے کہ فی الحال، کم از کم دھوپ پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں لگی۔



