اہم خبریںپاکستانسیاست

ملک میں کم بیرون ملک زیادہ رہنے والے وزیراعظم شہباز شریف کی کہانی

عوام یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہیں کہ جس ملک کے اپنے مسائل کا پہاڑ کھڑا ہو، وہاں کا چیف ایگزیکٹو اپنا زیادہ تر وقت بیرونِ ملک کیوں گزار رہا ہے؟

اس وقت جبکہ ملک کو شدید ترین معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا ہے، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف ایک بار پھر غیر ملکی دورے پر روانہ ہو چکے ہیں۔

سرکاری سطح پر موجودہ دورہِ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا مقصد خطے میں امن و استحکام کے لیے کردار ادا کرنا، دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینا اور بالخصوص غیر ملکی سرمایہ کاری کو ملک میں لانا بتایا گیا ہے۔ تاہم، ملکی سطح پر ان کثرتِ غیر ملکی دوروں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تنقید کرنے والے اس حد تک تنقید کرتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے دورے پر آتے ہیں اور رہتے بقیہ ممالک میں ہیں۔

حالیہ دنوں میں جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے فلائٹس کا شیڈول متاثر ہوا تو مزاح نگاروں نے لکھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کیلئے مشکل وقت ہے کہ انہیں پاکستان میں رہنا پڑ رہا ہے۔

سفارتی مصروفیات اور عوامی تحفظات

 

سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث عوامی اور عوامی حلقوں میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ ملک کے اندرونی اور سنگین معاشی مسائل پر مستقل اور سنجیدہ توجہ مرکوز کرنے کے بجائے، حکومتی ترجیحات محض بین الاقوامی دوروں اور سفارتی مصروفیات تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔

عوام یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہیں کہ جس ملک کے اپنے مسائل کا پہاڑ کھڑا ہو، وہاں کا چیف ایگزیکٹو اپنا زیادہ تر وقت بیرونِ ملک کیوں گزار رہا ہے؟

مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) کی زمینی حقیقت

 

حکومت کی جانب سے ہر غیر ملکی دورے کے بعد ایک بیانیہ پوری شدت سے پیش کیا جاتا ہے کہ دوست ممالک (بالخصوص خلیجی ریاستوں) کے ساتھ مختلف شعبوں میں اربوں ڈالر کی مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں۔

چاہے وہ توانائی کے منصوبے ہوں، زراعت کا شعبہ ہو یا آئی ٹی سیکٹر، حکومتی اعلانات ہمیشہ طویل اور خوش کن ہوتے ہیں۔

لیکن اگر ملکی معیشت کے زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے بیشتر مفاہمت کی یادداشتیں تاحال عملی جامہ نہیں پہن سکیں۔

معاشی ماہرین یہ بخوبی جانتے ہیں کہ ‘ایم او یو’ محض باہمی ارادے کا ایک ابتدائی اظہار ہوتا ہے، یہ کوئی حتمی معاہدہ یا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی حتمی ضمانت نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کاغذوں پر ہونے والے ان کھربوں روپے کے معاہدوں کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ پاتے۔

مہنگائی کا طوفان اور حکومتی ترجیحات

 

ایک جانب حکومت کا مسلسل یہ دعویٰ ہے کہ ان دوروں کے نتیجے میں پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی، تو دوسری جانب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی و گیس کے ہوشربا بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

غریب عوام آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی چکی میں پسنے پر مجبور ہے اور روزمرہ کی اشیائے خردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔ ایسے میں وزیر اعظم کے آئے روز کے غیر ملکی دورے عوام کو اپنے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف لگتے ہیں۔

داخلی استحکام: بیرونی سرمایہ کاری کی بنیادی شرط

 

اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں سفارت کاری اور خلیجی ممالک (جیسے سعودی عرب اور قطر) کے ساتھ تعلقات کی تجدید انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

تاہم، ایک مسلمہ سفارتی اور معاشی حقیقت یہ ہے کہ کامیاب خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ ایک مستحکم داخلی پالیسی پر استوار ہوتی ہے۔

جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام، شفاف اور سازگار کاروباری ماحول، اور توانائی کے سستے ذرائع میسر نہیں ہوں گے، کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار محض حکومتی یقین دہانیوں اور اخباری بیانات کی بنیاد پر اپنا سرمایہ خطرے میں نہیں ڈالے گا۔

حرفِ آخر

 

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض ایم او یوز پر دستخط کرنے اور ان کی تشہیر کو اپنی کامیابی گرداننے کے بجائے ملک کے اندر وہ بنیادی ڈھانچہ اور ٹھوس معاشی اصلاحات نافذ کرے جو حقیقی سرمایہ کاری کو راغب کر سکیں۔

حکومت کو خارجہ محاذ اور داخلی بحرانوں کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ توازن قائم کرنا ہوگا، تاکہ قوم کو یہ احساس ہو کہ ملکی قیادت وزیراعظم شہباز شریف  ان کے مسائل کے حل کے لیے ان کے درمیان موجود ہے، نہ کہ محض بین الاقوامی دارالحکومتوں کے چکر کاٹ رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button