
حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں تاجر برادری سے خطاب کرتے ہوئے ایک حیران کن بیان دیا کہ پچھلے تین چار برسوں میں پاکستان سے تقریباً 100 ارب کا سرمایہ ملک سے باہر منتقل ہوا۔
انہوں نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ اس سرمائے کا 20 سے 30 فیصد روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے واپس لے آئیں اور آئندہ بجٹ سے پہلے کم از کم 10 ارب ملک میں لائے جائیں کیونکہ ان کے بقول "یہ کوئی مشکل کام نہیں”۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان جتنا منافع دنیا میں کہیں نہیں ملتا۔
یہ خبر اور حکومتی اپیل سن کر ایک عام پاکستانی اور کاروباری طبقے کے ذہن میں جو پہلا اور سب سے بنیادی سوال ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ: سرمایہ واپس تو لے آئیں، لیکن یہاں اس کی اور کاروبار کی حفاظت کہاں ہے؟ آئیے اس صورتحال کا ایک ریسرچ بیسڈ اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کرتے ہیں کہ آخر سرمایہ کار اپنا پیسہ پاکستان لانے سے کیوں گریزاں ہیں:
1. امن و امان کا برا حال اور عدم تحفظ
وزیر داخلہ ایک طرف سرمایہ کاروں کو سرمایہ واپس لانے کی اپیل کر رہے ہیں، لیکن دوسری طرف ملک، خصوصاً ہمارے معاشی حب کراچی میں، امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتیاں اور بھتہ خوری جیسی وارداتوں نے عام تاجروں کا جینا محال کر رکھا ہے۔ جب ریاست ایک عام دکاندار یا صنعت کار کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو، تو کوئی بھی اپنا کروڑوں یا اربوں کا سرمایہ ایک ایسے ماحول میں کیوں لائے گا جہاں اس کی اپنی جان بھی محفوظ نہ ہو؟
2. سرمایہ کاروں ٹیکس پر ٹیکس کی بھرمار
حکومت کی جانب سے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو سہولیات یا مراعات دینے کے بجائے صرف ریونیو اکٹھا کرنے پر زور ہے۔ ہر بجٹ اور منی بجٹ میں عوام اور کاروباری طبقے پر بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔
ایک ایسا نظام جہاں دیانت داری سے ٹیکس دینے والے کو مزید نچوڑا جائے اور ٹیکس چوری کرنے والوں کو کھلی چھوٹ ہو، وہاں قانونی ذرائع سے سرمایہ کاری کرنا اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔
3. بنیادی سہولیات کا فقدان: نہ بجلی، نہ گیس، پیٹرول پر آگ
کاروبار اور صنعتیں چلانے کے لیے توانائی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہماری صورتحال یہ ہے کہ:
بجلی اور گیس: فیکٹریاں چلانے کے لیے نہ بجلی پوری طرح دستیاب ہے اور نہ گیس۔ اور جو دستیاب ہے، اس کے ٹیرف اتنے زیادہ ہیں کہ پیداواری لاگت (Cost of Production) خطے کے دیگر ممالک سے بہت بڑھ گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات: پیٹرول اور ڈیزل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات میں آگ لگا دی ہے۔ ایسے میں جب ایک فیکٹری چلانا ہی معاشی طور پر ناممکن ہوتا جا رہا ہو، تو کوئی بھی ہوشمند سرمایہ کار اپنا پیسہ باہر سے لا کر یہاں کیوں پھنسائے گا؟
4. سیاسی و معاشی غیریقینی کی صورتحال
سرمایہ کاری کے لیے سب سے اہم جزو "استحکام” ہوتا ہے۔ پاکستان میں پالیسیوں کا کوئی تسلسل نہیں ہے۔ آج ایک پالیسی بنتی ہے، کل حکومت یا وزیر بدلتا ہے تو پالیسیاں تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اس مستقل غیر یقینی صورتحال میں کوئی بھی بزنس مین طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا۔ سرمایہ کار کو ہر وقت یہ ڈر رہتا ہے کہ اس کی لگائی گئی رقم کسی اچانک ریگولیٹری تبدیلی یا روپے کی قدر میں اچانک گراوٹ کی نذر نہ ہو جائے۔
5. روزانہ کے حکومتی دعوے: وہ "سرمایہ کاری” کہاں گئی؟
اس تمام صورتحال میں ایک انتہائی چبھتا ہوا سوال یہ بھی ہے کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال سے ہم روزانہ کی بنیاد پر سن رہے ہیں کہ "سرمایہ کاری آ رہی ہے”۔ کبھی دوست ممالک کی جانب سے اربوں ڈالرز کے وعدے کیے جاتے ہیں، تو کبھی ہر ہفتے نئے ایم او یوز (MoUs) سائن ہونے کی خبریں بریک ہوتی ہیں۔
اگر واقعی وہ سب سرمایہ کاری آ رہی ہے، تو اس کا زمین پر کیا اثر ہوا؟ معیشت ابھی تک آئی ایم ایف کی کڑی شرائط اور چند ارب ڈالرز کے رول اوورز کی محتاج کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ محض اعلانات سے سرمایہ کاری نہیں آتی؛ اس کے لیے ایک سازگار اور محفوظ ماحول چاہیے ہوتا ہے، جو فی الحال ناپید ہے۔



