
اسلام آباد — محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ایک اور بارش سپیل کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ محکمے کے مطابق ایک طاقتور ویسٹرلی ویو (مغربی ہوائی نظام) 16 اپریل کی شام ملک کے شمال مغربی علاقوں میں داخل ہوگی اور 19 اپریل تک بالائی علاقوں میں سرگرم رہے گی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کہاں بارش کہاں ژالہ باری
محکمہ موسمیات کے مطابق درج ذیل علاقوں میں موسلادھار بارشوں، آندھی اور ژالہ باری کی توقع ہے:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیرپنجاب اسلام آبادبلوچستان سندھ (بالائی)
پنجاب میں مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ اور نارووال میں 16 سے 18 اپریل تک بارش اور ژالہ باری کا امکان ہے۔ ڈیرہ غازی خان، ملتان، خانیوال اور لیہ میں آندھی اور گرج چمک کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
فصل کٹائی کا موسم اور بارشوں کا ٹکراؤ
اپریل کا مہینہ پاکستان میں روایتی طور پر گندم کی کٹائی کا اہم ترین مہینہ ہوتا ہے جسے پنجاب میں "بیساکھ” کہا جاتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں گندم کی فصل پختگی کے آخری مرحلے میں ہے اور کسان کٹائی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
حکومت نے رواں سیزن میں گندم کی پیداوار کا ہدف تقریباً 32 ملین ٹن مقرر کیا ہے۔ لیکن اس شدید موسمی نظام کی آمد نے کسانوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
کٹائی کے موسم میں بارش کے نقصانات
فصل کا خراب ہونا
تیز بارش اور آندھی گندم کے کھڑے پودوں کو زمین پر گرا دیتی ہے۔ گری ہوئی فصل کو مشینی کٹائی سے نکالنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، اور نقصان میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
اناج کا معیار خراب ہونا
بارش میں بھیگنے سے گندم کے دانے سُکڑ جاتے ہیں، رنگ کالا پڑ جاتا ہے اور فنگل انفیکشن (پھپھوندی) لگ جاتی ہے جس سے آٹے کا معیار متاثر ہوتا ہے اور منڈی میں قیمت کم ملتی ہے۔
تھریشنگ میں تاخیر
بھیگی ہوئی فصل کو تھریشر مشین سے نہیں نکالا جا سکتا۔ دھوپ میں سوکھنے کے لیے کم از کم ایک دن درکار ہوتا ہے، اور اگر بارش جاری رہے تو تاخیر مزید بڑھتی جاتی ہے جس سے اناج کا قدرتی نمی والا تناسب بھی بگڑ جاتا ہے۔
کھیتوں میں پانی کھڑا ہونا
پانی جمع ہونے سے ہارویسٹر مشینیں کھیتوں میں داخل نہیں ہو سکتیں جس سے کئی کئی دن تک کٹائی کا عمل معطل ہو جاتا ہے اور فصل کے خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
پھلوں کی فصلیں بھی متاثر
بالائی پنجاب اور خیبر پختونخوا میں آم، مکئی اور باغات کی دیگر فصلیں بھی ژالہ باری اور آندھی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمی صورتحال مزید خراب ہوئی تو نقصانات 10 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتے ہیں۔
کسانوں کی فریاد
کسان اس وقت دہری اذیت میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف بارشوں کی وجہ سے فصل متاثر ہوئی تو دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تھریشر سیزن میں بڑھنا باعث پریشانی ہے۔
پنجاب حکومت کی حکمت عملی
پنجاب حکومت نے 15 اپریل سے گندم کی سرکاری خریداری کا آغاز کیا ہے اور30 لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ تمام ضلعی سطح پر کٹائی کی لاگت کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے۔ تاہم ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان غیر معمولی موسمی حالات کے پیش نظر نقصان زدہ کسانوں کو ہنگامی امداد فراہم کی جائے اور فصل نقصان کا فوری سروے کیا جائے۔



