
اپریل 2018 میں گلوکارہ میشا شفیع نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے معروف گلوکار و اداکار علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا۔ اس پوسٹ نے پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں ایک طوفان برپا کردیا۔
سوشل میڈیا پر "#MeToo” کی لہر چل نکلی، میڈیا پر مباحثے چھڑ گئے اور عوام نے علی ظفر کو مجرم قرار دے دیا — عدالت کا انتظار کیے بغیر۔
علی ظفر نے ان الزامات کو فوری طور پر رد کیا اور 2018 میں ایک ارب روپے کا ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیا۔ یہ مقدمہ 8 طویل سالوں تک چلا، جس میں 280 سے زائد پیشیاں ہوئیں، 9 جج تبدیل ہوئے، اور 20 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے۔
آج 31 مارچ 2026 کو اضافی سیشن جج آصف حیات نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ میشا شفیع کے الزامات نہ صرف بے بنیاد تھے بلکہ ان سے علی ظفر کی شہرت، وقار اور کاروبار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور انہیں سوشل میڈیا پر اس موضوع پر پوسٹ کرنے سے روک دیا گیا۔
جب الزام لگا تو شور مچا — جب جھوٹا ثابت ہوا تو خاموشی
2018 میں جب میشا شفیع نے الزام لگایا تو نسوانیت پسند تنظیموں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹوں اور میڈیا ایک ہی لائن یں آکھڑا ہو ۔ گویا علی ظفر بنا کسی ٹرائل کے مجرم قرار دیئے جانے کا مشن۔
مگر آج جب عدالت نے ان الزامات کو "جھوٹا اور تذلیل آمیز” قرار دے دیا تو وہی آوازیں کہاں ہیں؟ کیا کوئی نسوانیت پسند گروہ اب آگے آئے گا اور کہے گا: "ہم نے غلطی کی”؟ کیا سوشل میڈیا پر جنہوں نے علی ظفربارے بیانات دیئے وہ معافی مانگیں گے؟
𝗔𝗹𝗶 𝗭𝗮𝗳𝗮𝗿 𝗪𝗜𝗡𝗦 𝗟𝗲𝗴𝗮𝗹 𝗕𝗮𝘁𝘁𝗹𝗲:
The legal battle between Ali Zafar and Meesha Shafi, which defined Pakistan’s #MeToo movement, has reached a definitive conclusion. Following a final hearing yesterday, Additional Sessions Judge Asif Hayat issued the verdict… pic.twitter.com/cs83DptPzw
— Dr Ahmad Rehan Khan (@AhmadRehanKhan) March 31, 2026
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں جب ایک مرد پر جھوٹا الزام لگا کر اسے برباد کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر ہر بار نتیجہ ایک جیسا ہوتا ہے الزام لگانے والے کی واہ واہ، مرد کی تباہی، اور جب سچ سامنے آئے تو گہری خاموشی۔
کیا فیمنزم یا نسوانیت پسندی صرف ایک جانب کی ڈھال ہے؟ جب الزام لگایا جائے تو فوری مجرم ٹھہرانا، اور جب سچ سامنے آئے تو چپ سادھ لینا — کیا یہی انصاف ہے؟
کیا 50 لاکھ کا جرمانہ کافی ہے؟
علی ظفر نے ایک ارب روپے کا دعویٰ کیا تھا۔ عدالت نے 50 لاکھ دلوائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آٹھ سال کی ذہنی اذیت، کیریئر کو پہنچنے والا نقصان، خاندان کی بے عزتی، اور معاشرے میں جو رسوائی ہوئی — اس کا کوئی مالی ہرجانہ ممکن ہے؟
پاکستان کے Defamation Ordinance 2002 کے تحت ہتکِ عزت پر مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے، مگر قانون کمزور ہے۔ مغربی ممالک میں جھوٹے الزام لگانے پر سخت سزائیں ہیں، جن میں قید اور بھاری جرمانے شامل ہیں۔ پاکستان میں یہ نظام ابھی بھی ناقص ہے۔
علی ظفر کے 8 سال ضائع ہوئے۔ فیملی نے درد برداشت کیا۔ صرف 50 لاکھ روپے کیا یہ ہرجانہ کافی ہے اس سب کے بدلے میں؟
سماج کا دوہرا معیار
ہمارے سماج نے یہ فرض کر لیا ہے کہ مرد ہمیشہ مجرم ہے اور عورت ہمیشہ سچ بول رہی ہے۔ "اس کا یقین کرو” ایک نیک نیتی والا نعرہ ہو سکتا ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر الزام بغیر ثبوت کے تسلیم کر لیا جائے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر فریق کو سنا جائے — چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔
جو نسوانیت پسند تنظیمیں اور افراد 2018 میں سڑکوں پر آئے تھے، وہ آج چپ کیوں ہیں؟ کیا ان کا مقصد واقعی انصاف تھا، یا صرف ایک مردِ کامیاب کو نیچا دکھانا؟ اگر وہ واقعی انصاف کے علمبردار ہیں تو انہیں آج بھی آواز اٹھانی چاہیے اور علی ظفر سے معافی مانگنی چاہیے۔



