اہم خبریںدنیا

مانع حمل مکئی فنڈنگ سے ایپسٹین فائلز تک: بل گیٹس کے کردار کا تحقیقاتی جائزہ

وہ باتیں جو کبھی ان پڑھ لوگوں کی گھڑی ہوئی سازشی تھیوریاں سمجھی جاتی تھیں، اب پڑھے لکھے لوگوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات بن چکے ہیں۔

مانع حمل مکئی منصوبے پر تحقیق کرنے والی کمپنی کو فنڈنگ اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے باعث بل گیٹس کے فلاحی اقدامات کو شک کی ںظر سے دیکھا جانا لگا ہے۔

وہ باتیں جو کبھی ان پڑھ لوگوں کی گھڑی ہوئی سازشی تھیوریاں سمجھی جاتی تھیں، اب پڑھے لکھے لوگوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالات بن چکے ہیں۔

 ایپی سائٹ کی مانعِ حمل مکئی

 

سن 2001 میں سان ڈیاگو کی بائیوٹیکنالوجی کمپنی ایپی سائٹ فارماسیوٹیکل نے ایک ایسا اعلان کیا جس نے آنے والے برسوں میں بے شمار قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔

کمپنی کے صدر مچ ہین نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے مکئی کے پودے موجود ہیں جو اینٹی اسپرم اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں۔ یہ بیان سائنسی حلقوں میں دلچسپی کا باعث بنا، مگر عوامی سطح پر اس نے خوف اور شکوک کو جنم دیا۔

 

سائنسی بنیاد کیا تھی؟

 

 ایپی سائٹ کی تحقیق دراصل انسانی مدافعتی نظام سے متعلق ایک سائنسی مشاہدے پر مبنی تھی۔ بعض خواتین میں پائی جانے والی مخصوص اینٹی باڈیز اسپرم پر حملہ کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں حمل ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔

سائنسدانوں نے ان اینٹی باڈیز بنانے والے جینز کو شناخت کیا اور انہیں مکئی کے پودوں میں منتقل کیا، تاکہ پودے ان اینٹی باڈیز کو پیدا کر سکیں۔

یہ مکئی عام خوراک کے لیے نہیں بلکہ دواسازی مقاصد کے لیے تیار کی جا رہی تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ بیجوں سے اینٹی باڈیز نکال کر لیبارٹری میں خالص کی جائیں اور پھر انہیں مانعِ حمل جل یا لبریکینٹ میں شامل کیا جائے۔

یہ طریقہ کار ویسا ہی تھا جیسے آج انسولین جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بیکٹیریا کے ذریعے تیار کی جاتی ہے۔

 

خوراک میں شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا

 

اہم بات یہ ہے کہ اس مکئی کو کبھی بھی انسانی خوراک کا حصہ بنانے کا ارادہ نہیں تھا۔ نہ اسے غذائی سپلائی میں شامل کرنے کا منصوبہ تھا، نہ ہی اسے آبادی کنٹرول کے خفیہ ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی اسکیم موجود تھی۔

یہ تمام دعوے بعد میں سامنے آنے والے سازشی نظریات کا حصہ تھے، جن کی تائید میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔

 

افریقہ میں بل گیٹس کی جی ایم او مکئی فنڈنگ

 

اگرچہ گیٹس کا ایپی سائٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا، تاہم انہوں نے افریقہ میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی۔

2008 میں گیٹس فاؤنڈیشن اور وارن بافیٹ نے "واٹر ایفیشنٹ مائز فار افریقہ” (WEMA) پروگرام کے لیے 47 ملین ڈالر فراہم کیے۔ اس منصوبے میں مونسانٹو جیسی بڑی زرعی کمپنی شریک تھی اور اس کے تحت مختلف افریقی ممالک میں آزمائشی کاشت کی گئی۔

بعض افریقی تنظیموں اور کارکنوں نے اس شراکت کو کارپوریٹ مفادات کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا اور خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے ذریعے مقامی زرعی منڈیوں تک کثیرالقومی کمپنیوں کی رسائی بڑھے گی۔

تاہم مانع حمل مکئی کے منصوبے کو فنڈنگ کے الزامات نے بل گیٹس کو ایک بار پھر تنازع کی شکل میں لا کھڑا کیا۔

بل گیٹس اور ایپسٹین — ساکھ کو نقصان پہنچانے والا تعلق

 

جنوری 2026 میں امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں بتایا گیا کہ 2008 میں جنسی جرائم کی سزا کے بعد بھی جیفری ایپسٹین اور بل گیٹس کے درمیان ملاقاتیں ہوئیں۔

2013 اور 2014 کے دوران دونوں کے درمیان خیراتی عطیات کے طریقہ کار پر گفتگو اور ای میلز کا تبادلہ ہوا۔

یہ انکشافات گیٹس کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے، کیونکہ ایپسٹین کی مجرمانہ تاریخ پہلے ہی سامنے آ چکی تھی۔

 

کیا آپس میں جڑا ہوا ہے اور کیا نہیں؟

 

ان مسائل کے سامنے انے کے بعد فارمنگ اور بالخصوص میڈیکل کے شعبے میں بل گیٹس کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

اب کی باریہ عوامی سطح کی سازشی تھیوری کے طور پر سامنے نہیں آئی، بلکہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال جیسے بڑے نام بھی بل گیٹس کے کردار پر سوال اٹھانے لگے۔

اصل مسائل کیا ہیں؟

 

اہم سوالات سازشی نظریات سے ہٹ کر سامنے آتے ہیں۔ کیا نجی دولت کو لاکھوں افراد کی زرعی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کا اختیار ہونا چاہیے؟ کیا متاثرہ کمیونٹیز کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جا رہا ہے؟ کیا فلاحی اداروں کو ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جن کی مصنوعات وہ فروغ دے رہے ہوں؟ اور اگر اچھے ارادوں کے باوجود نتائج منفی نکلیں تو اس کی ذمہ داری کیسے طے کی جائے؟

 

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button