پھلوں کا بادشاہ آم ان دنوں بڑی آب و تاب کے ساتھ بازاروں کی زینت بنا ہوا ہے۔ ہر طرف مینگو پارٹی چل رہی ہے کیونکہ پھلوں کے بادشاہ سلامت کے دورِ اقتدار کے ختم ہونے کا پتا بھی نہیں چلتا۔
آم کھاتے ہوئے یہ بحث بے معنی ہو جاتی ہے کہ آم لنگڑا ہے، چونسہ ہے یا سندھڑی، بات وہی معنی رکھتی ہے جو مرزا غالب کہہ گئے تھے کہ "آم میٹھے ہوں اور بہت ہوں”۔
آپ اکیلے کھا رہے ہوں یا محفل میں، گھر میں ہوں یا کسی دعو ت پر ہمیشہ یہی بات کہی جاتی ہے کہ کھانا تمیز سے کھانا چاہیے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ کھانے کے آداب ہوتے ہیں۔ لیکن جب آم کھانا ہو تو انسان کو تھوڑی دیر کیلئے یہ تمیز سائیڈ پر رکھ دینی چاہئے۔
وہ شخص جو آم سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا
نفاست سے آم کھانا لطف اندوز ہوئے بغیر ہی آم کی باقیات کچرے کی نظر کرنے کے مترادف ہے۔ یہ رزق کی ناقدری کی ایک مثال ہے۔ چھری کانٹے سے آم کھانے والا شخص اکثر آم کی گھٹلی جس پر اصل گودا لگا ہوتا ہےسے محروم ہو کر اسے کچرے کی نذر کر دیتا ہے۔
بات جب چونسے یا انور رٹول آم کی ہو رہی ہو تو کپڑوں اور ہاتھوں کے گندے ہونے کو تھوڑی دیر کیلئے سائیڈ پر رکھ دیں۔
آپ لاکھ ٹشو اپنے پاس رکھ لیں جب تک آم کا رس ہاتھوں سے ہوتا ہوا کہنیوں تک نہیں آجاتا، آم کا اصل حق ادا نہیں ہوتا۔ اگر کپڑے خراب ہونے کا زیادہ ہی مسئلے ہو تو آم کھانے کیلئے الگ سے کپڑے رکھ لیں۔
آم کھانے کا اصول بچوں سے سیکھیں
دنیاکا اصول یہ ہے کہ بچے ہمیشہ بڑو ں سے سیکھتے ہیں لیکن آم کھاتے ہوئے بڑوں کو بچوں سے سیکھنا چاہیے۔ ہوسکتا ہے بچے کی ماں جسے وہ کپڑے دھونے پڑتے ہیں وہ اس بات پر غصہ ہوں لیکن اگر تھوڑے وقت کیلئے غصہ سائیڈ پر رکھ دیا جائے تو آم کے رس میں لتھڑا چھوٹا بچہ بہت ہی پیارا لگتا ہے۔
پاکستان میں آم صرف پھل نہیں یہ ایک جذبے کا نام ہے ۔ پھلوں کا بادشاہ وہ واحد پھل ہے جس کی پارٹی بھی ممکن ہے۔ وگرنہ تکہ بوٹی اور کڑاہی گوشت کے بغیر کسی پارٹی کا وجود ممکن نہیں ہوتا۔
آج کل موسمیاتی تبدیلی پاکستان میں بہت نقصان کررہی ہے جس میں سے ایک نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ آم کی فصل متاثرہورہی ہے۔ حکومت کوچاہیے کہ آم کے باغات کو سیکورٹی دی جائے، میٹھے آم اگانے والے کسان کو تمغہ او ر مراعا ت دی جائیں۔
آپ اکثر سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز دیکھتے ہوئے گے جس میں اوورسیز پاکستان بیرون ملک پاکستانی آم کے ریٹ بتا کر ہمیں حیران کر رہے ہوتے ہیں۔ اس قیمت میں پاکستا ن میں آم کا پورا کلو مل جائے جس میں بیرون ملک اسے آم کا ایک دانہ ملتا ہے۔
اس لئے اگر آپ کو اس نعمت سے مستفید ہونے کا موقع ملے تو اسے تمیز سے کھانے کی بجائے لطف اندوز ہو کر کھائیں ۔ ساتھ ہی اس پھل کے حقوق کیلئے بھی آواز اٹھائیں تا کہ یہ پھل ہمیشہ ہمارے گھروں کی زینت بنتا رہے۔
