
پنجاب میں ایچ آئی وی/ایڈز کا حالیہ پھیلاؤ محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انتظامی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔
تونسہ میں سامنے آنے والا افسوسناک واقعہ، جہاں سینکڑوں بچے اس مہلک بیماری کا شکار ہوئے، نے پورے صحت کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس سے پہلے ملتان کے نشتر ہسپتال سے جڑے تنازعات بھی یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ سرکاری طبی اداروں میں نگرانی اور احتساب کا فقدان کوئی نئی بات نہیں۔
تونسہ میں ایڈز کا پھیلاؤ اور حکومتی نا اہلی
تونسہ کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میں ہونے والی تحقیقات نے ایک ہولناک حقیقت کو بے نقاب کیا۔ بچوں کے وارڈ میں بنیادی حفاظتی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی گئی جس سے ایڈز کا پھیلاؤ ہوا۔
استعمال شدہ سرنجوں کو بار بار استعمال کرنا، ایک ہی دوا کو متعدد بچوں میں لگانا، اور بغیر دستانوں کے طبی عملہ کام کرنا یہ سب ایسے عوامل ہیں جنہوں نے ایچ آئی وی جیسے خطرناک وائرس کو پھیلنے کا موقع دیا۔
تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے اسپتال میں خفیہ فلمنگ کے ذریعے سرنجیں ایک سے زیادہ بار استعمال کیے جانے کا انکشاف
بی بی سی کے مطابق، 2024 کے اواخر میں جب ایک نجی کلینک کے ڈاکٹر نے تونسہ کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کو ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے جوڑا تو مقامی حکام نے… pic.twitter.com/5BSBAaNcva— Nadir Baloch (@BalochNadir5) April 15, 2026
رپورٹس کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 331 بچے اس وائرس سے متاثر ہوئے، جبکہ بعد ازاں بھی نئے کیسز سامنے آتے رہے۔
یہ صورتحال محض ایک ہسپتال تک محدود نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ جب ایک سرکاری ہسپتال میں غیر تربیت یافتہ افراد مریضوں کو انجیکشن لگا رہے ہوں، جب طبی سامان کی کمی کے باعث آلودہ سرنجیں دوبارہ استعمال ہو رہی ہوں، تو یہ صرف غفلت نہیں بلکہ ایک اجتماعی جرم بن جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں محکمہ صحت کہاں تھا؟ نگرانی کا نظام کیوں ناکام رہا؟
پنجاب حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ فوری اقدامات کیے گئے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوئی اور آٹو ڈس ایبل سرنجیں فراہم کی گئیں۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد بھی وہی خطرناک طبی طریقے جاری رہے۔ یہ تضاد اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اقدامات زیادہ تر کاغذی تھے، عملی نہیں۔
ماضی کی غلطیوں سے بھی سبق نہ سیکھا گیا
اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو نشتر ہسپتال جیسے بڑے ادارے بھی بدانتظامی کی مثال بن چکے ہیں۔ ایسے واقعات بار بار یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسئلہ کسی ایک جگہ کا نہیں بلکہ پورے نظام میں سرایت کر چکا ہے۔ صحت جیسے حساس شعبے میں یہ لاپرواہی ناقابل قبول ہے، کیونکہ اس کی قیمت معصوم جانوں کو چکانی پڑتی ہے۔
پاکستان میں پہلے ہی غیر محفوظ انجیکشنز کا استعمال ایک بڑا مسئلہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ جب اس میں سرکاری سطح پر غفلت شامل ہو جائے تو صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ حکومت محض بیانات سے آگے بڑھے اور عملی اقدامات کرے۔ سخت نگرانی، شفاف تحقیقات، اور ذمہ داروں کو حقیقی سزا دیے بغیر اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔ ورنہ تونسہ جیسے سانحات دوبارہ جنم لیتے رہیں گے، اور عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
آخر میں سوال وہی ہے: کیا ہم اس المیے سے کچھ سیکھیں گے، یا اسے بھی وقت کے ساتھ بھلا دیا جائے گا؟



