اہم خبریںپاکستان

پاکستان میں پورا ہفتہ انٹرنیٹ کی سست روی کا شیڈول جاری

خوش قسمتی سے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند نہیں ہوگا۔ پی ٹی سی ایل (PTCL) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل کیبلز پر موڑ (Re-route) دیا ہے۔

آج، 14 اپریل 2026 سے، پاکستان بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو ایک ہفتے تک طویل سست روی اور کنکشن کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پی ٹی سی ایل (PTCL) اور دیگر ٹیلی کام ذرائع کی جانب سے کی گئی باقاعدہ تصدیق کے مطابق، یہ کوئی عام تکنیکی خرابی یا مقامی بلیک آؤٹ نہیں ہے، بلکہ انٹرنیٹ کی فراہمی کے بین الاقوامی انفراسٹرکچر کی مرمت کا ایک طے شدہ عمل ہے۔

انٹرنیٹ کی سست روی کی اصل وجہ کیا ہے؟

 

پاکستان کا انٹرنیٹ بین الاقوامی سطح پر زیرِ سمندر بچھی ہوئی آپٹیکل فائبر کیبلز (Submarine Cables) کے ذریعے دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ موجودہ سست روی کی بنیادی وجہ SMW4 (South East Asia–Middle East–Western Europe 4) نامی کیبل سسٹم میں خرابی اور اس کی جاری مرمت ہے۔

 ایک بین الاقوامی کنسورشیم اس کیبل پر 14 اپریل سے مینٹیننس کا کام کر رہا ہے، جس کے 20 اپریل 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

کیا انٹرنیٹ مکمل بند رہے گا؟

 

خوش قسمتی سے انٹرنیٹ مکمل طور پر بند نہیں ہوگا۔ پی ٹی سی ایل (PTCL) اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل کیبلز پر موڑ (Re-route) دیا ہے۔

تاہم، مین ہائی وے (بنیادی کیبل) کی عدم دستیابی کی وجہ سے دیگر راستوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں براؤزنگ اور ڈاؤن لوڈنگ کی رفتار انتہائی سست محسوس ہو رہی ہے، بالخصوص شام کے اوقات میں۔

 

فری لانسرز اور دیگر کمیونٹیز پر پڑنے والے اثرات

 

پاکستان دنیا کے ان سرکردہ ممالک میں شامل ہے جہاں ایک بہت بڑی آبادی فری لانسنگ، ریموٹ ورک اور ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ ہے۔ انٹرنیٹ کی یہ سست روی مختلف طبقات کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہی ہے:

1. فری لانسرز اور ریموٹ ورکرز

 

انٹرنیٹ فری لانسرز کے لیے ان کی روزی روٹی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ موجودہ صورتحال نے ان کے لیے کئی سنجیدہ چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں:

  • پراجیکٹ کی ڈیلیوری میں تاخیر: گرافک ڈیزائنرز، ویڈیو ایڈیٹرز اور ویب ڈیویلپرز کو بڑی فائلیں (جیسے گیگا بائٹس پر مشتمل ڈیٹا) کلائنٹس کو بھیجنی ہوتی ہیں۔ اپ لوڈنگ اسپیڈ کم ہونے کی وجہ سے گھنٹوں کا کام دنوں پر محیط ہو رہا ہے، جس سے ڈیڈلائنزمس ہونے کا خطرہ ہے۔

  • پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان: زوم (Zoom)، اپ ورک (Upwork) اور گوگل میٹ (Google Meet) پر غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ میٹنگز کے دوران بار بار کنکشن ٹوٹنا یا آواز کا کٹنا ایک غیر پیشہ ورانہ تاثر چھوڑتا ہے، جس سے مستقبل کے پراجیکٹس اور کلائنٹس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

  • معاشی نقصان: انٹرنیٹ کی عدم دستیابی سے پیدا ہونے والی تاخیر براہِ راست مالی نقصان اور پروفائل کی ریٹنگ گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

انٹرنیٹ کی سست روی اور مسائل

 

انٹرنیٹ کی اس ایک ہفتے کی سست روی نے واضح کر دیا ہے کہ ہمارا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر زیرِ سمندر کیبلز پر کس حد تک انحصار کرتا ہے۔

اگرچہ موجودہ مرمت ایک ناگزیر تکنیکی عمل ہے، لیکن حکومت اور ٹیلی کام کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ متبادل روٹس اور مزید انٹرنیشنل کیبلز کے قیام کو تیز کریں تاکہ مستقبل میں ایک کیبل کٹنے یا مینٹیننس پر جانے کی صورت میں فری لانسرز اور عام عوام کے معاشی اور روزمرہ کے معاملات اس حد تک متاثر نہ ہوں۔

امید کی جارہی ہے کہ  21 اپریل کی صبح تک تمام صارفین کو انٹرنیٹ کی مکمل اور تیز رفتار بحال مل سکے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button