آج 21 مئی 2026 کا دن سفارتی تاریخ کے اوراق میں ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹھیک 75 سال قبل، 21 مئی 1951 کو، پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین نے باقاعدہ سفارتی تعلقات کا آغاز کیا تھا۔
یہ محض دو پڑوسیوں کے درمیان تعلق کی شروعات نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے رشتے کی بنیاد تھی جسے آج دنیا "آہنی بھائی چارے” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ سفارتی تاریخ کا ایک انوکھا اور بے مثال واقعہ ہے جہاں دو مختلف نظامِ حکومت اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے ممالک وقت کے ساتھ ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بن گئے۔
پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر، جب ہم اس طویل سفر پر نظر دوڑاتے ہیں، تو یہ دوستی محض کاغذوں، معاہدوں یا سرکاری اعلانات تک محدود نظر نہیں آتی، بلکہ اس میں ایک گہرا انسانی اور جذباتی پہلو شامل ہے جس نے نسل در نسل دونوں قوموں کے دلوں کو جوڑ رکھا ہے۔
بنیاد اور ایک دوسرے پر اعتماد کا آغاز
جب 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا، تو پاکستان ان اولین ممالک میں سے ایک تھا جس نے اسے تسلیم کیا۔
اس وقت کی عالمی سیاست میں، جب چین کو سرد جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا تھا، پاکستان نے ایک سچے دوست کا کردار ادا کیا۔
1970 کی دہائی میں چین اور امریکہ کے درمیان برف پگھلانے اور رابطے کا پل بننے میں پاکستان کا تاریخی کردار آج بھی چینی قیادت اور عوام کے ذہنوں میں نقش ہے۔
چین کا پاکستان کے لیے کردار: ایک بے لوث اور شانہ بشانہ کھڑا ساتھی
عالمی برادری میں اکثر دوستیاں مفادات کی مرہونِ منت ہوتی ہیں، لیکن چین نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان کے لیے اس کی حمایت غیر مشروط ہے۔
اقتصادی اور ڈھانچہ جاتی ترقی (CPEC):
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے کا ایک دیرینہ خواب ہے۔ گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیر ہو، ملک بھر میں سڑکوں اور موٹرویز کا وسیع جال بچھانا ہو، یا بدترین لوڈشیڈنگ کے دور میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بڑے پاور پلانٹس کی تنصیب ہو؛ چین نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پاکستان کے بوسیدہ انفراسٹرکچر میں نئی جان ڈالی ہے۔
دفاعی اور عسکری تعاون کی معراج:
جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی شعبے میں چین کی شراکت داری بے مثال ہے۔ جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) لڑاکا طیاروں کی مشترکہ تیاری اس دفاعی دوستی کا سب سے بڑا اور فخر سے پیش کیا جانے والا ثبوت ہے۔
اس کے علاوہ الخالد ٹینک، جدید جنگی بحری جہازوں، اور فضائی دفاعی نظام کی فراہمی سے چین نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ خطے میں پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر رہے۔قدرتی آفات اور بحرانوں میں عوامی ریلیف:
جب بھی پاکستان پر کوئی کڑا وقت آیا، چین کا ردعمل سرکاری سطح سے زیادہ ایک ہمدرد پڑوسی جیسا رہا ہے۔ 2010 اور حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلاب ہوں، جس نے ملک کے وسیع رقبے کو پانی میں ڈبو دیا تھا، چین کی جانب سے امدادی سامان، خیمے اور ریلیف فنڈز فوری طور پر پہنچے۔
کووڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران، جب دنیا بھر میں ویکسین کی قلت تھی، چین وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو طبی آلات، ماہرین کی ٹیمیں اور لاکھوں ویکسینز ہنگامی بنیادوں پر فراہم کیں تاکہ قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔
پاکستان کی غیر متزلزل حمایت
یہ تعلق کبھی یکطرفہ نہیں رہا۔ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ ایک ڈھال بن کر چین کا دفاع کیا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا کوئی اور عالمی پلیٹ فارم، پاکستان نے ‘ون چائنا پالیسی’ (One China Policy) کی غیر متزلزل حمایت کی ہے۔
تائیوان، ہانگ کانگ، اور سنکیانگ کے معاملات پر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ یہ چین کے اندرونی معاملات ہیں، اور اس نے عالمی دباؤ کے باوجود ہمیشہ چین کا ساتھ دیا ہے۔
دوستی عوام کے دلوں تک
حکومتی ایوانوں سے نکل کر اس دوستی نے عوامی سطح پر بھی گہری جڑیں بنائی ہیں۔ آج ہزاروں پاکستانی طلباء، خاص طور پر سائنس، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں، چینی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
چین میں پاکستانی ثقافت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور پاکستان میں چینی کارکنان اور انجینئرز کو مقامی آبادی کی طرف سے بے پناہ احترام اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
پاک چین دوستی باہمی احترام اور خلوص کا رشتہ
پاک چین دوستی کے ان 75 برسوں نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ جب دو قومیں باہمی احترام، خلوص اور برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتی ہیں تو عالمی سیاست کے نشیب و فراز اور جغرافیائی طوفان بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ شاہراہِ قراقرم کی بلندیوں پر خون پسینہ ایک کرنے والے کارکنوں سے لے کر بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کی پشت پناہی کرنے تک، یہ دوستی ایک ایسا سایہ دار درخت بن چکی ہے جس کی چھاؤں آنے والی نسلوں کے لیے بھی اتنی ہی گھنی اور پرسکون رہے گی۔
آج، اس 75 ویں سالگرہ پر، بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاک چین دوستی واقعی "ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔”