کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ جس ہوا میں ہم سانس لیتے ہیں، اسی سے ہماری گاڑیاں اور ہوائی جہاز چل سکیں؟ یہ کسی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کی ایک ایسی حیرت انگیز جدوجہد ہے جو اب لیبارٹریوں سے نکل کر حقیقت کا روپ دھار رہی ہے۔
زمین کا سینہ چیر کر تیل نکالنے کی صدیوں پرانی روایت کو چیلنج کرتے ہوئے، جاپان کی سب سے بڑی توانائی کمپنی اینیوس ہولڈنگز (ENEOS Holdings) نے ہوا، پانی اور سورج کی روشنی سے ایندھن تیار کرنے کا ایک کامیاب تجربہ کیا ہے۔
ایک انقلابی قدم: کاربن کا زہر اب بنے گا توانائی
صنعتی انقلاب کے بعد سے ہم نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بے تحاشا زہر گھولا ہے جس نے موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) جیسے عفریت کو جنم دیا۔
لیکن اینیوس کی اس ٹیکنالوجی کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ اسی کاربن کو فضا سے کھینچ کر، پانی سے نکالی گئی ہائیڈروجن (جسے قابلِ تجدید توانائی سے حاصل کیا جاتا ہے) کے ساتھ ملاتی ہے، اور ایک ایسا مائع ایندھن (e-fuel) تیار کرتی ہے جو بالکل روایتی پیٹرول یا ڈیزل جیسا ہوتا ہے۔
جاپان کے شہر یوکوہاما کی ایک تجرباتی لیبارٹری (Pilot Facility) میں اس وقت یہ جادوئی عمل جاری ہے، جہاں روزانہ تقریباً ایک بیرل (160 لیٹر) ایندھن تیار کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ مقدار ایک سمندر میں قطرے کے مترادف ہے، لیکن سائنس کی دنیا میں یہ ‘ایک قطرہ’ اس بات کا ثبوت ہے کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا چکا ہے۔
سب سے بڑی کامیابی: پرانی مشینوں کے لیے نیا امرت
ہوا سے ایندھن کی تیاری کے اس منصوبے کا سب سے بڑا اور جادوئی پہلو یہ ہے کہ اسے استعمال کرنے کے لیے ہمیں اپنی موجودہ گاڑیوں، ٹرکوں یا ہوائی جہازوں کے انجنوں کو تبدیل کرنے کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔ اسے تکنیکی زبان میں "Drop-in fuel” کہا جاتا ہے۔
ذرا سوچیں! الیکٹرک گاڑیاں (EVs) یقیناً ماحول دوست ہیں، لیکن دنیا بھر میں سڑکوں پر دوڑتی اربوں پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں، اور آسمان کا سینہ چیرتے ہوائی جہازوں کو راتوں رات بجلی پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ‘ای-فیول’ ان تمام موجودہ سواریوں کے لیے ایک امید کی کرن ہے، جو بغیر کسی اضافی خرچ کے انہیں ماحول دوست بنا سکتا ہے۔
حقیقت کا سامنا: کٹھن راستے اور بھاری قیمت
ہر عظیم خواب کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور اس وقت ای-فیول کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ابھی اپنے ابتدائی دور میں ہے۔ فضا سے کاربن کھینچنے کی مشینیں اور پانی سے ہائیڈروجن الگ کرنے کا عمل (Electrolysis) بے تحاشا مہنگا ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ بجلی درکار ہوتی ہے۔
جب تک اس پورے عمل کو سستا اور عام نہیں کیا جاتا، اسے بڑے پیمانے پر تجارتی بنیادوں (Commercial Scale) پر تیار کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لاگت کے ان پہاڑ جیسے مسائل کو دیکھتے ہوئے، حالیہ مہینوں میں کمپنی کو اپنے منصوبوں کی رفتار پر نظرِ ثانی کرنی پڑی ہے تاکہ معاشی حقائق اور ماحولیاتی مقاصد کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔
ہوا سے ایندھن کی تیاری کا منصوبہ اور مستقبل کی امید
یہ سفر آسان نہیں ہے، لیکن اینیوس کا ہوا سے ایندھن کی تیاری کا یہ قدم محض ایک سائنسی تجربہ نہیں، بلکہ بنی نوع انسان کی بقا کی ایک کوشش ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان اپنی غلطیوں (آلودگی) کو سدھارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں شاید مستقبل میں پٹرول پمپس پر زمین سے نکالا گیا کالا سونا نہیں، بلکہ ہوا سے کشید کیا گیا شفاف ایندھن بکا کرے گا۔
یوکوہاما کے پلانٹ سے ٹپکنے والا روزانہ ایک بیرل ایندھن دراصل اس سرسبز مستقبل کی پہلی بوند ہے، جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف ستھری اور محفوظ دنیا کی نوید ہے۔