اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سوشل میڈیا انفلوئنسر ثناء یوسف کے قاتل عمر حیات کو سزائے موت تو سنا دی ہے، قانون نے اپنا راستہ بنایا اور مجرم کو اس کے انجام تک بھی پہنچا دیا، لیکن آج جب یہ خبر سامنے آئی تو دل ایک عجیب سی اداسی اور بوجھل پن کا شکار ہے۔
ایک طرف انصاف ملنے کا اطمینان ہے، تو دوسری طرف یہ تلخ حقیقت کہ جو زندگی چھین لی گئی، وہ عدالت کے کسی بھی فیصلے سے واپس نہیں آ سکتی۔
سکرین پر بکھرتی مسکراہٹیں اور ایک بھیانک انجام
ثناء یوسف، جس کی عمر اپنی موت سے محض ایک ہفتہ قبل 17 سال ہوئی تھی، زندگی سے بھرپور ایک کمسن لڑکی تھی۔ ٹک ٹاک پر اس کے 8 لاکھ سے زائد اور تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز تھے۔
وہ لپ سنک ویڈیوز بناتی، سکن کیئر کے مشورے دیتی اور اپنی معصوم مسکراہٹ سے سکرین کی دوسری طرف بیٹھے لاکھوں لوگوں سے جڑی ہوئی تھی۔
2 جون 2025 کا وہ سیاہ دن انتہائی افسوسناک تھا جب اس ہنستے مسکراتے چہرے کو اسلام آباد میں اس کے اپنے ہی گھر میں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔ ایک ایسا چہرہ جس نے ابھی زندگی کی شروعات ہی کی تھی، اس کے تمام خواب ایک ہی پل میں چھین لیے گئے۔
11 مہینوں کا کرب اور والدین کی آہ
ان والدین کی ذہنی و قلبی کیفیت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے جن کی جوان بیٹی ان کے سامنے سے یوں بے دردی سے چھین لی جائے۔ مسلسل 11 مہینوں تک انصاف کے دروازوں پر دستک دیتے ثناء کے والدین آج جب عدالت سے باہر آئے تو ان کی آنکھوں میں دکھ کے ساتھ ایک سکون تھا۔
ثناء کے والد کا یہ جملہ سیدھا دل پر لگتا ہے:
"ہم 11 ماہ سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ صرف ہمارے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر کوئی ایسا گھناؤنا فعل کرے گا، تو اس کا انجام بھی یہی ہوگا۔”
ثناء کی والدہ کا یہ کہنا کہ وہ پاکستانی عدالت سے انصاف ملنے پر خوش ہیں، اس بات کی گواہی ہے کہ انہوں نے یہ جنگ کتنی ہمت سے لڑی۔
قانون کی گرفت اور شواہد کی گواہی
عدالت کے جج افضل مجوکا کی جانب سے مجرم عمر حیات کو نہ صرف سزائے موت سنائی گئی ہے، بلکہ مختلف دفعات (بشمول سیکشن 392، 499، اور 411) کے تحت مجموعی طور پر 21 سال قید اور 25 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی دی گئی ہے۔
پراسیکیوشن نے انتہائی مضبوط کیس پیش کیا:
27 گواہان نے عدالت کے روبرو بیانات ریکارڈ کرائے۔
کال ریکارڈز اور چیٹ کے سکرین شاٹس نے مجرم کو براہ راست اس کیس سے جوڑا۔
مقتولہ کا موبائل فون اور ڈیجیٹل شواہد نے مجرم کے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا کہ وہ قتل کے وقت فیصل آباد میں تھا۔
ایک اداس کر دینے والا سچ
بے شک، عدالت کا یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور درندوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ قانون انہیں کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔ مگر آج دل پھر بھی افسردہ ہے۔
یہ فیصلہ ثناء یوسف کے قاتل کو اس کے انجام تک تو لے آیا، لیکن اس مسکراتی ہوئی 17 سالہ بچی کو واپس نہیں لا سکتا۔ انصاف کا ترازو برابر ضرور ہوا ہے، مگر اس ترازو کے ایک پلڑے میں رکھی وہ ہنستی کھیلتی زندگی اب صرف یادوں، تصویروں اور ویڈیوز کے آرکائیوز میں ہی باقی رہ گئی ہے۔
سزائے موت ایک مجرم کا خاتمہ تو کر سکتی ہے، لیکن اس خلا کو کبھی پر نہیں کر سکتی جو ثناء کے جانے سے اس کے گھر والوں کی زندگی میں پیدا ہو گیا ہے۔