کرکٹ پاکستانیوں کے لیے محض ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسا جذبہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پچھلے کچھ عرصے سے شائقینِ کرکٹ کے دل مسلسل ٹوٹ رہے ہیں۔
سلہٹ میں کھیلے جا رہے دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن کے اختتام پر قومی ٹیم ایک بار پھر شکست اور سیریز میں وائٹ واش کے دہانے پر کھڑی ہے۔
بنگلہ دیش کی جانب سے دیے گئے 437 رنز کے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے 7 وکٹوں کے نقصان پر 316 رنز بنا لیے ہیں۔ جیت کے لیے اب بھی 121 رنز درکار ہیں جبکہ صرف 3 وکٹیں باقی ہیں۔
میچ کے اہم لمحات اور صورتحال
سلہٹ ٹیسٹ چوتھے دن کے کھیل کا اختتام ہو چکا ہے اور میچ مکمل طور پر بنگلہ دیش کی گرفت میں ہے۔ میچ میں اب تک ہونے والے اہم واقعات کچھ یوں ہیں:
بنگلہ دیش کی پہلی اننگز: میچ کے آغاز میں بنگلہ دیش نے 278 رنز بنائے۔ لٹن داس نے مشکل وقت میں 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے خرم شہزاد نے 4 اور محمد عباس نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی پہلی اننگز: پاکستانی بلے بازوں نے حسبِ روایت مایوس کیا اور پوری ٹیم صرف 232 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔ بابر اعظم نے 68 رنز بنائے، لیکن بنگلہ دیش نے 46 رنز کی اہم برتری حاصل کر لی۔
بنگلہ دیش کی دوسری اننگز: دوسری اننگز میں تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم کی 137 رنز کی شاندار سنچری اور لٹن داس کی نصف سنچری کی بدولت بنگلہ دیش نے 390 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا۔
ہدف کا تعاقب اور چوتھا دن: 437 رنز کے ناممکن نظر آنے والے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن روایتی عدم استحکام کا شکار رہی۔ کپتان شان مسعود (71)، سلمان علی آغا (71) اور بابر اعظم (47) نے کچھ مزاحمت کی لیکن اپنی اننگز کو بڑی باری میں تبدیل نہ کر سکے۔ دن کے اختتام پر محمد رضوان 75 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں، تاہم دوسرے اینڈ سے ٹاپ آرڈر کے پویلین لوٹنے کے بعد اب صرف ٹیل اینڈرز (ساجد خان) ہی کریز پر ان کا ساتھ دینے کے لیے موجود ہیں۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اور قومی کرکٹ کا زوال
یہ سیریز آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (2025-2027) کا حصہ ہے، اور اس کارکردگی نے پاکستان کے فائنل تک رسائی کے امکانات کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ڈھاکہ میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو 104 رنز سے شکست ہوئی تھی۔
شائقین کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلی ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں بھی پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں ایسی ہی ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے اور یہ کھلے دل سے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ اس وقت اپنے آل ٹائم لو (All-time low) پر ہے۔
وہ ٹیم جو کبھی دنیا کی بہترین ٹیسٹ ٹیموں میں شمار ہوتی تھی اور جسے اس کے ہوم گراؤنڈ یا ایشین کنڈیشنز میں ہرانا ناممکن سمجھا جاتا تھا، آج مسلسل حکمتِ عملی اور مستقل مزاجی کے فقدان کا شکار ہے۔ ایک مداح کی حیثیت سے یہ دیکھنا انتہائی دلخراش ہے کہ کھلاڑیوں میں وہ روایتی لڑنے کا جذبہ اور ٹیسٹ کرکٹ کا مزاج نظر نہیں آ رہا جو کبھی ہماری پہچان تھا۔
کل سلہٹ ٹیسٹ کے پانچویں اور آخری دن کا کھیل شروع ہوگا تو پاکستان کو میچ بچانے کے لیے ایک ایسے معجزے کی ضرورت ہوگی جس کی امید اب شاید ہی کسی پاکستانی مداح کے دل میں باقی ہو۔