پیرا فورس 9

جانوروں‌کے گلی میں‌باندھنے پر پابندی؟ پیرا فورس کی وضاحت آ‌گئی

عید الاضحیٰ کا تصور ان خوبصورت اور سجے دھجے قربانی کے جانوروں کے بغیر ادھورا ہے جو گلی محلوں کی رونق بڑھا دیتے ہیں۔ بچوں کا اپنے جانوروں کے ساتھ پیار، انہیں چارہ کھلانا اور گلیوں میں ٹہلانا اس تہوار کا وہ دلکش پہلو ہے جو عید کا مزہ دوبالا کر دیتا ہے۔

لیکن پچھلے چند روز سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ایک افواہ نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا تھا کہ شاید اس سال ‘پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی’ (PERA) گھروں کے باہر جانور باندھنے پر پابندی عائد کر رہی ہے۔

جانوروں کے گلی میں باندھنے پر پابندی؟ پیرا فورس کا مؤقف آ گیا

تاہم، شہریوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پیرا  فورس (PERA) نے ان تمام بے بنیاد افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ نوٹیفکیشن نے شہریوں کے دلوں میں موجود الجھنوں کو دور کر دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ عوام کی روایتی خوشیوں پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا رہی۔

نوٹیفکیشن میں عوام کی سہولت اور تحفظ کے پیشِ نظر تین اہم امور پر خصوصی توجہ دی گئی ہے:

  • شہریوں کی خوشیاں مقدم: پیرا فورس نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جانب سے اپنے گھروں کے باہر قربانی کے جانور باندھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
    کارروائی صرف ان افراد کے خلاف کی جائے گی جو رہائشی علاقوں کو غیر قانونی منڈیاں بنا کر باقاعدہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں شروع کر دیں گے۔ یعنی بچے اور بڑے بلا خوف و خطر اپنے گھروں کے باہر جانور باندھ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکتے ہیں۔

  • خرید و فروخت صرف منظور شدہ منڈیوں میں: گلی محلوں کے پرسکون ماحول کو برقرار رکھنے اور ٹریفک کے مسائل سے بچنے کے لیے یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ جانوروں کی خرید و فروخت صرف حکومت کی مقرر کردہ اور منظور شدہ منڈیوں تک محدود رہے گی۔ مقررہ مقامات کے علاوہ غیر قانونی سیل پوائنٹس یا منڈیاں قائم کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • صاف اور محفوظ ماحول کی فراہمی: عوام کو تعفن اور گندگی سے بچانے کے لیے رہائشی اور شہری علاقوں میں قائم غیر قانونی کیٹل منڈیوں اور کیٹل ہاؤسز کے خلاف پیرا (PERA) کی جانب سے بلا تفریق کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کا واحد مقصد شہریوں کو ایک بہتر، محفوظ اور منظم ماحول فراہم کرنا ہے۔

شہریوں کی ذمہ داری

پیرا کےٌ اس بروقت اور تفصیلی اعلامیے نے ثابت کیا ہے کہ قانون کا مقصد شہریوں کو پریشان کرنا نہیں، بلکہ ان کی سہولت اور صحت کا خیال رکھنا ہے۔ اب جبکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو چکے ہیں، شہری پورے جوش و خروش سے اپنے پسندیدہ جانور لا سکتے ہیں۔

 اس عید الاضحیٰ کو اپنے پیاروں اور بچوں کے ساتھ بھرپور روایتی انداز میں، مگر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے منائیں۔ آلائشیں کھلے میدانوں میں ڈالنے کی بجائے مناسب انداز سے تلف کریں۔ آلائشیں تعفن اور بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں