نعیم بخاری 25

نعیم بخاری کا بیمار والدین بارے افسوسناک بیان

پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار وصول ہوتے ہی اسے کھول کر پڑھنے لگا۔ صفحہ در صفحہ پلٹتا گیا۔ اچانک ایک بیان پر آکر آنکھیں رک سی گئیں۔

یہ بیان انتہائی سادہ سے انگریزی زبان میں لکھا تھا لیکن یہ بیان جس شخصیت سے منسوب تھا اور اس میں جو الفاظ لکھے گئے تھے وہ ناقابل یقین تھے۔

انگریزی میں سمجھ آنے کے باوجود بھی  ترجمہ  کیا تو اردو میں آنے کے بعد یہ بیان مزید بری طرح چبھنے لگا۔

 

نعیم بخاری کا بیمار والدین بارے افسوسناک بیان

یہ بیان عمران خان کے دیرینہ ساتھی اور وکیل رہنما نعیم بخاری کا تھا۔ نعیم بخاری نے والدین کے بے لوث رشتے پر ایسی بات کر دی تھی جس پر غم و غصہ محسوس ہوا۔

اپنے بیان میں نعیم بخاری نے کہا کہ  "جب میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں نہیں رویا۔ وہ ایک طویل عرصے تک بیمار رہی تھیں۔ میں سوچا کرتا تھا کہ انہیں یا تو ٹھیک ہو جانا چاہیے یا پھر دنیا سے چلے جانا چاہیے۔ ایک بیمار انسان، چاہے وہ آپ کا باپ ہو یا ماں، ایک بوجھ ہوتا ہے۔”

یہ بیان اخبار کی بجائے کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پوسٹ ہوتا تو شدید رد عمل ہوتا لیکن اخبار میں نعیم بخاری کے بیان سے بالکل نیچے دیکھا تو حیران ہوا کہ اس بیان پر کمنٹس بھی دیئے گئے تھے۔

اداکارہ مشی خان کا سخت رد عمل

یہ رائے اداکارہ مشی خان کی جانب سے دی گئی تھی جو ایک مکمل جواب معلوم ہو رہی تھی۔ اداکارہ مشی خان نے کہا کہ  "نعیم بخاری نے بیمار لوگوں کے بوجھ ہونے کے بارے میں جو کچھ کہا، اس پر انہیں شرم آنی چاہیے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنے بیمار والدین کا سہارا بنتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی اولڈ ہومز بھر رہے ہیں۔ انہیں کسی ماہرِ نفسیات کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ بوڑھے والدین کے بارے میں ان کی کہی ہوئی بات سے مجھے سخت صدمہ ہوا ہے۔”

یہ بیان دیکھ کر صدمہ صرف اداکارہ مشی خان کو نہیں بلکہ ہر اس انسان کو ہوا ہے  جو اللہ کی عطاء کردہ نعمت یعنیٰ کے والدین کی قدر کو جانتا ہے۔

عمران خان کی جدو جہد سے متضاد بیان

بانی پی ٹی آئی عمران خان اگر یہ بیان دیکھتے تو ان کا رد عمل بھی انتہائی سخت ہوتا۔ خود عمران خان کی زندگی کی جدو جہد ان کے وکیل دوست کے اس بیان سے مختلف ہے۔

عمران خان نے اپنی بیمار ماں کو کینسر سے مرتے دیکھے تو وہ زندگی کے چند لمحات میں سے ایک لمحہ ہو گا جب عمران خان روئے ہوں گے۔

عمران خان نے والدہ کو بیماری میں بوجھ سمجھنے کی بجائے انہیں اپنی طاقت بنا لیا۔ یہی طاقت عمران خان کو بعد میں اپنی والدہ کے نام پر شوکت خانم کینسر ہاسپٹل بنانے میں مددگار ثابت ہوئی۔

لاہور ، پشاور کے بعد اب کراچی میں بھی شوکت خانم ہسپتال پر کام جاری ہے۔ اگر عمران خان جیل سے باہر ہوں اور انہیں یہ موقع ملے کہ وہ کام جاری رکھیں تو عمران خان یقیناً بلوچستان میں بھی ایک کینسر ہسپتال بنائیں گے۔

عمران خان نے اپنے اس عمل سے بہت پہلے ہی نعیم بخاری کو جواب دے دیا تھا کہ وہ بیماری جس پر انسان خود اپنے آپ سے تنگ آ کر موت کی تمنا کرنا لگتاہے ، اسے بیماری کے علاج کیلئے بھی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ؎

نعیم بخاری کو چاہیے کہ وہ اس بیان کو نہ صرف واپس لیں بلکہ شہریوں سے دل آزاری پر بھی معافی مانگیں۔ ان کا یہ بیان اس ناخلف اولاد کو طاقت دے گا جو بزرگ والدین اور اپنے گھر میں موجود بیماروں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں