دوست فیل ہو جائے تو دکھ ہوتا ہے، لیکن اگر دوست فرسٹ آ جائے تو زیادہ دکھ ہوتا ہے۔ کیا آپ کو یہ ڈائیلاگ یاد ہے؟ بالکل یاد ہوگا! 2009 میں جب راجکمار ہیرانی نے ہمیں رانچو، فرحان اور راجو کی دنیا سے متعارف کروایا، تو کسے معلوم تھا کہ یہ محض ایک فلم نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کا ایک یادگار حصہ بن جائے گی۔
آپ نے بالکل درست سنا اور پڑھا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے انٹرنیٹ اور بالی ووڈ کے گلیاروں میں یہ خبریں پوری شدت سے گردش کر رہی ہیں کہ ‘تھری ایڈیٹس’ کے سیکوئل پر کام جاری ہے۔
اور جب یہ بات خود مسٹر پرفیکشنسٹ (عامر خان) کی طرف سے منسوب ہو کر آئے کہ "سکرپٹ آخری مراحل میں ہے”، تو مداحوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونا ایک فطری سی بات ہے۔
View this post on Instagram
آئیے اس خبر کے پیچھے چھپے جذبات اور اب تک کی صورتحال کا ایک دلچسپ جائزہ لیتے ہیں:
1. افواہوں کا بازار اور مداحوں کی بے تابی
یہ سب اس وقت زیادہ شدت اختیار کر گیا جب کچھ عرصہ قبل عامر خان، آر مادھون اور شرمن جوشی کو ایک ساتھ دیکھا گیا۔ اگرچہ وہ ایک اشتہاری مہم (Dream11) کا حصہ تھا، لیکن اس نے سوئے ہوئے مداحوں کو جگا دیا۔
اس پر کرینہ کپور، بومن ایرانی (وائرس) اور جاوید جعفری کے دلچسپ ری ایکشن ویڈیوز نے بھی آگ پر تیل کا کام کیا اور سب کو لگا کہ سیکوئل کا باقاعدہ اعلان ہونے والا ہے۔ اگر سکرپٹ واقعی فائنل ہو رہا ہے، تو یہ اس دہائی کی سب سے بڑی فلمی خبر ہو سکتی ہے۔
2. راجکمار ہیرانی کا اندازِ ہدایت کاری
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ راجکمار ہیرانی وہ ڈائریکٹر نہیں ہیں جو محض کیش کمانے کے لیے کسی ہٹ فلم کا پارٹ 2 بنا دیں۔ ‘منا بھائی’ سیریز اس کی واضح مثال ہے۔
اگر ہیرانی اور عامر خان واقعی ایک نئے سکرپٹ پر متفق ہو رہے ہیں، تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ انہیں ایک ایسی جاندار کہانی مل گئی ہے جو پہلی فلم کے معیار اور پیغام کے ساتھ انصاف کر سکے۔
3. تھری ایڈیٹس سیکوئل : اب کہانی کیا ہو سکتی ہے؟ (ایک دلچسپ تصور)
ذرا آنکھیں بند کریں اور سوچیں… آج کے دور میں یہ تھری ایڈیٹس کہاں ہوں گے؟
کیا رانچو (فنسکھ وانگڑو) اب لداخ میں اپنے سکول کی شاخیں پوری دنیا میں پھیلا چکا ہے؟
کیا فرحان ایک عالمی شہرت یافتہ وائلڈ لائف فوٹوگرافر بن کر اپنے بچوں کو وہی آزادی دے رہا ہے جس کے لیے وہ خود ترستا تھا؟
کیا راجو اب بھی انگوٹھیاں پہنتا ہے یا اس کا ڈر مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا یہ لوگ اب اپنے بچوں کے ایجوکیشن سسٹم اور کیریئر کے دباؤ سے اسی طرح الجھ رہے ہیں، جیسے کبھی ‘وائرس’ ان سے الجھا کرتا تھا؟
یہ سوچنا ہی کتنا پرلطف ہے کہ جو کردار کالج کے دنوں میں ہماری الجھنوں کی نمائندگی کرتے تھے، وہ اب درمیانی عمر کے مسائل کا سامنا کیسے کر رہے ہوں گے۔ اور ہاں، ‘چتر رام لنگم’ (سائلنسر) کا وہ بدلہ ابھی تک باقی ہے جو اس نے شملہ میں رانچو سے لینے کا دعویٰ کیا تھا۔
شائقین کو بے تابی سے فلم کے انتظار
بالی ووڈ میں جب تک کیمرہ رول ہونا شروع نہ ہو جائے اور آفیشل پوسٹر سامنے نہ آ جائے، تب تک ہم صرف امید ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن عامر خان کی طرف سے سکرپٹ کے آخری مراحل میں ہونے کی خبر نے لاکھوں چہروں پر وہ پرانی مسکراہٹ ضرور بکھیر دی ہے۔
جب تک ہمیں کوئی حتمی اور آفیشل اعلان سننے کو نہیں ملتا، ہم اپنی بے چینی کو کم کرنے کے لیے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بس ایک ہی بات کہہ سکتے ہیں: "آل از ویل!”