جسٹس محسن اختر کیانی 17

استعفیٰ سے قبل جسٹس محسن اختر کیانی کا آخری فیصلہ سامنے آگیا

لاہور ہائیکورٹ کے مستعفی ہونے والے جسٹس محسن اختر کیانی کا بچوں کے نان و نفقہ سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آگیا، جس میں عدالت نے دو کمسن بچوں کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی بچہ مقرر کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے بچوں کے خرچے میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا اطلاق بھی 28 نومبر 2019 سے کرنے کی ہدایت کی۔

صحافی وقاص اعوان کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ فیصلہ خاتون سائقہ اور ان کے دو کمسن بچوں کی درخواست پر جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری والد پر عائد ہوتی ہے اور بچوں کے والدہ کے پاس رہنے سے یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔

 

بچوں کے خرچے میں سالانہ اضافے کا اطلاق 2019 سے ہوگا

 

لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کے ماہانہ نان و نفقہ میں اضافے کے حوالے سے حکم دیا کہ سالانہ 10 فیصد اضافے کا حساب 28 نومبر 2019 سے کیا جائے۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ سابقہ مدت کے بقایاجات کا حساب بھی اسی بنیاد پر کیا جائے۔

عدالت کے اس حکم کا مقصد بچوں کے نان و نفقہ میں سالانہ اضافے کو مقررہ تاریخ سے شمار کرنا ہے، تاکہ واجب الادا رقم کا تعین عدالتی ہدایات کے مطابق کیا جاسکے۔

 

برطانیہ میں رہائش والد کی آمدن کا حتمی ثبوت نہیں

 

مقدمے میں درخواست گزار خاتون کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بچوں کے والد برطانوی شہری ہیں اور انگلینڈ میں مقیم ہیں، اس لیے وہ بچوں کے اخراجات کی زیادہ رقم ادا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

دوسری جانب بچوں کے والد نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ برطانیہ میں ان کی ماہانہ آمدن 500 سے 600 پاؤنڈ کے درمیان ہے۔

اس معاملے پر عدالت نے قرار دیا کہ محض برطانیہ میں رہائش کسی شخص کی حقیقی آمدن ثابت نہیں کرتی۔ والد کی مالی استطاعت کا تعین کرنے کے لیے اس کی ملازمت، کام کی نوعیت، اوقاتِ کار اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

عدالت کے مطابق، والد کی آمدن اور مالی وسائل کا تعین کیے بغیر صرف اس کی بیرون ملک رہائش کی بنیاد پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکتا۔

 

محدود آمدن کے دعوے کے لیے دستاویزی ثبوت ضروری

 

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ والد کی جانب سے محدود آمدن کا دعویٰ محض زبانی بیان کی بنیاد پر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے دعوے کی تائید کے لیے متعلقہ دستاویزی شواہد پیش کرنا ضروری ہے، جن میں تنخواہ کی سلپ اور آمدن سے متعلق دیگر قابلِ تصدیق دستاویزات شامل ہوسکتی ہیں۔

عدالت نے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کے ماہانہ خرچے کا تعین کرتے وقت ان کی ضروریات اور والد کی حقیقی مالی استطاعت، دونوں کو مدنظر رکھا جائے۔

فیصلے میں بچوں کی تعلیم، پرورش اور بنیادی ضروریات کو بھی نان و نفقہ کے تعین میں اہم قرار دیا گیا۔

 

شادی ختم ہونے کے باوجود بچوں کی کفالت کی ذمہ داری برقرار

 

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ والدین کی علیحدگی یا شادی ختم ہونے سے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ بچوں کے اخراجات پورے کرنا والد کی قانونی ذمہ داری ہے، جس کا تعین بچوں کی ضروریات اور والد کی مالی حیثیت کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے قانونی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے بھی واضح کیا کہ شادی ختم ہونے کے بعد بھی بچوں کی کفالت کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے۔

 

والدہ کے نان و نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلہ برقرار

 

عدالت نے مقدمے کے دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے والدہ کے حق میں 15 ہزار روپے ماہانہ نان و نفقہ سے متعلق سابقہ فیصلہ برقرار رکھا، جو عدالتی فیصلے کے مطابق عدت کی مدت تک ہوگا۔

اس کے علاوہ جہیز کے سامان کی متبادل قیمت 2 لاکھ 80 ہزار روپے برقرار رکھنے کا حکم بھی دیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے بچوں کے ماہانہ خرچے میں اضافے اور سالانہ اضافے کے اطلاق سے متعلق احکامات جاری کیے، جبکہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے دیگر حصے برقرار رکھے۔

 

استعفی سے پہلے بچوں کے حقوق سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ

 

جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 اکتوبر 2026 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ اپنے استعفے میں انہوں نے صحت کے مسائل اور ضمیر کے تقاضوں سمیت عدلیہ کی آزادی سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

اس فیصلے میں بچوں کی کفالت کی ذمہ داری، والد کی مالی استطاعت کے تعین اور نان و نفقہ میں سالانہ اضافے کے اطلاق سے متعلق اہم قانونی نکات سامنے آئے ہیں۔

فیصلے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بچوں کی کفالت کی ذمہ داری والد پر برقرار رہتی ہے، جبکہ نان و نفقہ کا تعین بچوں کی ضروریات اور والد کی حقیقی مالی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں