سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے پاکستانی فاسٹ بولر حسن علی سے منسوب ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں بھارت کی ایک ٹرین میں جیب تراشی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور بعد ازاں مشتعل افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ویڈیو کے ساتھ مختلف زبانوں میں ایسی پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں حسن علی کی شناخت کا دعویٰ کیا گیا، جس کے بعد یہ معاملہ دونوں ممالک کے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
تاہم جب اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے مختلف فیکٹ چیک اداروں، میڈیا رپورٹس اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ وائرل دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں، بلکہ ایک گمراہ کن بیانیے کے ذریعے ویڈیو کو پاکستانی کرکٹر حسن علی سے جوڑ دیا گیا۔
حسن علی سے متعلق کیادعویٰ کیا کیا گیا؟
وائرل پوسٹس میں کہا گیا کہ حسن علی بھارت میں موجود تھے جہاں انہیں ایک ٹرین میں مبینہ طور پر جیب تراشی کرتے ہوئے پکڑا گیا۔
بعض پوسٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مسافروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ صارفین نے اس واقعے کو حسن علی کی ذاتی زندگی سے بھی جوڑنے کی کوشش کی۔ ان دعوؤں کے ساتھ ویڈیو کو لاکھوں بار دیکھا اور شیئر کیا گیا، حالانکہ کسی پوسٹ میں اس دعوے کے حق میں کوئی مستند ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟
فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق وائرل ویڈیو کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تو کہیں بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ ویڈیو میں موجود شخص پاکستانی کرکٹر حسن علی ہیں۔
مزید تحقیقات کے دوران ویڈیو کا طویل ورژن بھی سامنے آیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ کسی اور شخص کا واقعہ ہے جسے مبینہ طور پر ٹرین میں چوری کے شبہے میں پکڑا گیا تھا۔ ویڈیو میں موجود شخص کی شناخت حسن علی کے طور پر ثابت نہیں ہو سکی۔
بھارتی میڈیا کی فیکٹ چیک رپورٹس کے مطابق متعلقہ ریلوے پولیس حکام نے بھی واضح کیا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والا شخص پاکستانی کرکٹر حسن علی نہیں ہے، جبکہ اس واقعے کا حسن علی یا پاکستان کرکٹ سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
حسن علی کی اہلیہ کا ردعمل
افواہوں کے زور پکڑنے کے بعد حسن علی کی اہلیہ سمیعہ خان نے بھی اس معاملے پر خاموشی توڑ دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ان کا خاندان گزشتہ تین برس سے بھارت نہیں گیا، لہٰذا وائرل دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔
حسن علی کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی عوام اتنی معصوم ہے جو جھوٹی خبر پر یقین کر کے اسے آگے پروموٹ کری ہے۔
حسن علی کہاں موجود تھے؟
رپورٹس کے مطابق حسن علی ان دنوں اپنی کرکٹ سرگرمیوں میں مصروف تھے اور انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے تھے۔ ان کی حالیہ مصروفیات بھی اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتیں کہ وہ اسی دوران بھارت میں موجود تھے۔
کرکٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بین الاقوامی کرکٹر کے ساتھ ایسا کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB)، متعلقہ کرکٹ کلب یا بین الاقوامی میڈیا ضرور اس کی رپورٹنگ کرتا، مگر ایسا کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔
سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات کیوں تیزی سے پھیلتی ہیں؟
ماہرین کے مطابق مشہور شخصیات سے متعلق جھوٹے دعوے اکثر چند سیکنڈ کی ویڈیوز یا تصاویر کے ذریعے پھیلائے جاتے ہیں۔ صارفین سنسنی خیز عنوان دیکھ کر بغیر تصدیق مواد آگے شیئر کر دیتے ہیں، جس سے غلط معلومات لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔
اسی لیے فیکٹ چیکنگ ادارے بارہا یہ مشورہ دیتے ہیں کہ کسی بھی وائرل ویڈیو یا خبر پر یقین کرنے سے پہلے معتبر ذرائع سے اس کی تصدیق ضرور کی جائے۔
