اہم خبریںپاکستان

مفت بجلی دینے سے بدترین لوڈشیڈنگ تک حکومتی وعدے

عوام کو ریلیف ملنا تو دور کی بات، نیپرا (NEPRA) کی جانب سے آئے روز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے نے غریب کی کمر توڑ دی ہے۔

ملک بھر میں عوام کو ریلیف دینے اور ‘مفت بجلی’ فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والی حکومت نے گرمیوں کی شروعات کے ساتھ ہی عوام پر مہنگائی اور اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نیا بم گرا دیا ہے۔

ہوشربا بل ادا کرنے کے باوجود شہری شدید گرمی میں گھنٹوں اندھیرے میں بیٹھنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جس نے حکومتی دعوؤں اور کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مفت یونٹس کا سراب اور بلوں میں ہوشربا اضافہ

 

حکومتی نمائندوں کی جانب سے انتخابی مہم  میں ایک مخصوص حد (عموماً 200 یونٹس) تک مفت بجلی فراہم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے۔

تاہم، زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ عوام کو ریلیف ملنا تو دور کی بات، نیپرا (NEPRA) کی جانب سے آئے روز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے نے غریب کی کمر توڑ دی ہے۔

اپریل کے مہینے میں ہی فی یونٹ 1.42 روپے کے مزید اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔ آج ایک عام شہری کے بل میں استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے زیادہ مختلف قسم کے ٹیکسز اور سرچارجز شامل ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اشرافیہ اور سرکاری افسران کے لیے مفت بجلی کا کوٹہ بدستور جاری ہے۔

 ریلیف اسٹریٹجی کے نام پر عوام سے دھوکہ

 

عوام کے لیے سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ بلوں کی مد میں ادا کرنے کے باوجود انہیں بجلی میسر نہیں۔ پاور ڈویژن کی جانب سے 14 اپریل کو جاری کردہ نئی پالیسی کے تحت ملک بھر میں روزانہ سوا دو گھنٹے (2.25 گھنٹے) کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ بجلی شام 5 بجے سے رات 1 بجے کے درمیان کاٹی جا رہی ہے جب بجلی کی طلب سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ حیرت انگیز طور پر حکام نے اپنی اس نااہلی اور کٹوتی کو لوڈشیڈنگ کا نام دینے کے بجائے "پیک ریلیف اسٹریٹجی” کا دلفریب نام دیا ہے، جسے عوامی حلقوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

حکومتی جواز: ‘بجلی بند نہ کی تو بل مزید بڑھ جائیں گے’

 

وزارتِ توانائی نے اس بدترین صورتحال کا ملبہ عالمی حالات پر ڈال دیا ہے۔ حکومتی موقف کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایل این جی (LNG) کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر شام کے پیک آورز میں مہنگے فرنس آئل یا ڈیزل سے بجلی بنائی گئی تو صارفین کے بلوں میں فی یونٹ مزید 3 روپے کا اضافہ کرنا پڑے گا، لہٰذا اس اضافے سے بچنے کے لیے بجلی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عوامی ردعمل اور شدید تنقید

 

حکومت کے اس جواز نے عوام کے غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں اور معاشی ماہرین کی جانب سے اس پالیسی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے:

  • پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان: گرمیوں میں بجلی کی طلب کا بڑھنا کوئی نیا واقعہ نہیں، لیکن وزارت توانائی کی جانب سے متبادل انتظامات نہ کرنا اور آخری وقت میں لوڈشیڈنگ کا سہارا لینا کھلی نااہلی ہے۔

  • دہرا معیار: عوام کا سوال ہے کہ اگر خزانے پر بوجھ ہے تو اربوں روپے کی مفت سرکاری بجلی کیوں ختم نہیں کی جاتی؟ سارا بوجھ صرف عام صارف کیوں اٹھائے؟

  • وعدہ خلافی: جو حکومت ریلیف کا نعرہ لگا کر آئی تھی، وہ آج عوام کو یہ دھمکی دے رہی ہے کہ "بجلی نہیں کاٹیں گے تو بل مزید مہنگا کر دیں گے”۔

نظام کی خرابیاں اور عوام پر بوجھ

 

سول سوسائٹی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک لائن لاسز (چوری اور ترسیلی نظام کی خرابیاں) کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور غیر منصفانہ آئی پی پیز (IPPs) معاہدوں پر نظر ثانی نہیں ہوتی، توانائی کا یہ بحران حل نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کرنے کے بجائے فوری اور ٹھوس ساختی اصلاحات کی طرف قدم بڑھائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button