کاکڑ فارمولا 21

کاکڑ فارمولا: جب صدر اور وزیرِاعظم کی لڑائی کا انجام دونوں کی رخصتی بنا

پاکستان کی سیاست میں حکومتوں کی برطرفی کوئی نئی بات نہیں تھی، لیکن 18 جولائی 1993 کو جو ہوا، اس کا نتیجہ مختلف تھا۔ وزیرِاعظم نواز شریف کو اقتدار چھوڑنا پڑا تو انھیں برطرف کرنے والے صدر غلام اسحاق خان بھی اپنے عہدے پر برقرار نہ رہ سکے۔ دونوں کی رخصتی کے ساتھ نئے انتخابات کی راہ کھلی۔ اس انتظام کے پیچھے فوجی قیادت کی ثالثی تھی۔

یہی سمجھوتہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’کاکڑ فارمولا‘ کہلایا۔

سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی 26 اکتوبر 2026 کو وفات نے ان کے نام سے منسوب اس واقعے کی یاد تازہ کردی ہے۔ ان کی فوجی زندگی سے الگ، یہ واقعہ اس سوال کی وجہ سے اہم ہے کہ جب صدر، وزیرِاعظم اور حزبِ اختلاف ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوجائیں تو فیصلے کا اختیار بالآخر کس کے پاس جاتا ہے؟

 

اصل تنازع کن کے درمیان تھا؟

 

اس بحران کو سمجھنے کے لیے ایک فرق واضح کرنا ضروری ہے: یہ محض نواز شریف کی مسلم لیگ اور بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی مقابلہ نہیں تھا۔ اس کے مرکز میں وزیرِاعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان کے درمیان اختیارات کی کشمکش تھی، جبکہ بے نظیر بھٹو ایک مؤثر حزبِ اختلاف کی قیادت کررہی تھیں۔

غلام اسحاق خان اس سے پہلے 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت بھی برطرف کر چکے تھے۔ اس کے بعد نواز شریف وزیرِاعظم بنے، لیکن ان کی حکومت بھی اسی صدارتی اختیار کی زد میں آگئی۔

اس وقت آئین کی دفعہ 58(2)(ب) صدر کو مخصوص حالات میں قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتی تھی۔ اس اختیار کے استعمال اور اس کی حدود ہی نے 1993 میں ایوانِ صدر اور وزیرِاعظم کے درمیان تنازع کو آئینی مقدمے میں بدل دیا۔

 

18 اپریل: صدر نے حکومت ختم کردی

 

18 اپریل 1993 کو غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت برطرف کرکے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ حکومت کے خلاف بدعنوانی اور ناقص حکمرانی سمیت الزامات پیش کیے گئے۔

بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیرِاعظم بنایا گیا اور انتخابات کی تیاری شروع ہوگئی۔ بظاہر نواز شریف کی پہلی حکومت ختم ہوچکی تھی، لیکن انھوں نے برطرفی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔

اب تنازع کا بنیادی سوال یہ تھا: کیا صدر نے اپنے آئینی اختیار کا درست استعمال کیا تھا، یا ایک منتخب حکومت کو ہٹانے کے لیے اس اختیار کی حدود سے تجاوز کیا گیا تھا؟

سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بحال کیا، بحران پھر بھی کیوں برقرار رہا؟

 

26 مئی 1993 کو سپریم کورٹ نے دس کے مقابلے میں ایک کی اکثریت سے صدارتی اقدام کو غیر مؤثر قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی، وزیرِاعظم اور کابینہ بحال ہوگئے۔

عدالت کا فیصلہ تھا کہ 18 اپریل کا حکم صدر کو حاصل متعلقہ آئینی اختیارات کے دائرے میں نہیں آتا تھا۔ نواز شریف کے لیے یہ ایک بڑی قانونی کامیابی تھی: وہ اسی حکومت کی سربراہی میں واپس آگئے جسے چند ہفتے پہلے ختم کردیا گیا تھا۔

لیکن عدالتی بحالی سے صدر اور وزیرِاعظم کے تعلقات بحال نہیں ہوئے۔ غلام اسحاق خان ایوانِ صدر میں موجود رہے اور دونوں کے درمیان کشیدگی جاری رہی۔

یوں قانونی سوال کا جواب مل گیا تھا، مگر سیاسی مسئلہ برقرار تھا: ایک دوسرے پر اعتماد کھو دینے والے صدر اور وزیرِاعظم حکومت کیسے چلاتے؟

 

بے نظیر بھٹو کا کردار کیا تھا؟

 

بے نظیر بھٹو اس بحران میں محض تماشائی نہیں تھیں۔ وہ نواز شریف کی حکومت کے خاتمے اور نئے انتخابات کے لیے دباؤ ڈال رہی تھیں۔

مئی 1993 کی معاصر رپورٹنگ کے مطابق، وہ حکومت کی عدالتی بحالی کے بجائے انتخابات کے ذریعے فیصلہ چاہتی تھیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ عوام کو نئی حکومت منتخب کرنے دی جائے۔

بعد میں اسلام آباد کی جانب بڑے احتجاجی مارچ کی دھمکی نے سیاسی دباؤ مزید بڑھایا۔ اس وقت کی رپورٹنگ میں اس مجوزہ احتجاج کو ان عوامل میں شمار کیا گیا جنھوں نے فوجی قیادت کو بحران کے حل کے لیے مداخلت کی طرف دھکیلا۔

یوں حکومت کو بیک وقت ایوانِ صدر کی مخالفت اور حزبِ اختلاف کی احتجاجی سیاست کا سامنا تھا۔ سپریم کورٹ کی فتح اسے اس محاصرے سے نہیں نکال سکی تھی۔

 

کاکڑ فارمولا دراصل کیا تھا؟

 

جنرل عبدالوحید کاکڑ کی ثالثی سے سامنے آنے والے سمجھوتے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ صرف وزیرِاعظم نہیں جائیں گے؛ صدر بھی اپنا عہدہ چھوڑیں گے، اور ملک نئے انتخابات کی طرف بڑھے گا۔

اس انتظام کے تحت نواز شریف اور غلام اسحاق خان کی رخصتی، اسمبلیوں کی تحلیل، نگراں انتظام اور نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ کسی آئینی دفعہ کا نام نہیں تھا، بلکہ سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے طے پانے والے سمجھوتے کی معروف اصطلاح بن گیا۔

اس کی سیاسی منطق واضح تھی۔ نواز شریف کی تنہا روانگی صدر کی کامیابی دکھائی دیتی، جبکہ غلام اسحاق خان کی تنہا رخصتی وزیرِاعظم کی فتح ہوتی۔ دونوں کے ہٹنے سے اقتدار کی جاری کشمکش ختم کرنے اور فیصلہ دوبارہ ووٹروں کے سامنے رکھنے کی گنجائش پیدا ہوئی۔

تاہم یہ سمجھوتہ فوجی دباؤ کے ماحول میں ہوا۔ معاصر رپورٹنگ نے بھی اسے فوج کی ثالثی میں طے پانے والا معاہدہ قرار دیا۔

 

18 جولائی کے بعد کس کو فائدہ ہوا؟

 

18 جولائی 1993 کو صدر اور وزیرِاعظم دونوں رخصت ہوگئے۔ معین قریشی نگراں وزیرِاعظم بنے، جبکہ چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

چھ اکتوبر کو عام انتخابات ہوئے۔ پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی، اور بے نظیر بھٹو اکتوبر میں دوسری مرتبہ وزیرِاعظم بن گئیں۔

اس طرح بحران کے دو مرکزی فریق اقتدار سے باہر ہوگئے، جبکہ حزبِ اختلاف کی رہنما کو حکومت بنانے کا موقع ملا۔ نواز شریف کی عدالتی کامیابی ان کی پہلی وزارتِ عظمیٰ کو برقرار نہ رکھ سکی۔

 

سیاسی بحران کا حل یا فوجی ثالثی کی مثال؟

 

کاکڑ فارمولا کے نتائج کو دو زاویوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ایک زاویہ یہ ہے کہ شدید تعطل کے بعد نگراں حکومت اور انتخابات کا راستہ کھلا۔ فوجی سربراہ خود صدر یا وزیرِاعظم نہیں بنے، اور حکومت منتخب نمائندوں کو منتقل ہوئی۔

دوسرا زاویہ اس طریقۂ کار سے متعلق ہے جس کے ذریعے یہ نتیجہ حاصل ہوا۔ صدر اور وزیرِاعظم کے اختلاف کا آخری تصفیہ سیاسی اداروں کے اندر نہیں ہوسکا؛ فوجی قیادت کا دباؤ فیصلہ کن ثابت ہوا۔ اس اعتبار سے یہ واقعہ پاکستان میں سول اور فوجی اختیارات کے تعلق کی ایک نمایاں مثال بھی ہے۔

کاکڑ فارمولا نے 1993 کا تعطل ختم کردیا، لیکن ایک بنیادی سوال باقی چھوڑا: جب منتخب حکومت عدالت سے بحال ہونے کے باوجود اپنا اقتدار برقرار نہ رکھ سکے، تو سیاسی اختیار کی اصل حد کہاں متعین ہوتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں