شاداب خان 30

شاداب خان کی ناقابلِ شکست سنچری نے انگلینڈ سے فتح چھین لی

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں اتوار، 25 اکتوبر کو پاکستان نے کرکٹ شائقین کو ایسا مقابلہ دکھایا جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سہ ملکی سیریز میں شکست کے انتہائی قریب پہنچنے والی پاکستانی ٹیم نے ایک وکٹ سے فتح حاصل کرلی۔

انگلینڈ کے 241 رنز کے جواب میں پاکستان نے 47.1 اوورز میں نو وکٹوں پر 243 رنز بنائے۔ اس غیرمعمولی کامیابی کے مرکزی کردار شاداب خان تھے، جنہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

نو وکٹیں گر گئیں، مگر امید باقی تھی

 

242 رنز کے تعاقب میں پاکستان کا اسکور جب 154 رنز پر نو وکٹیں ہوا تو جیت کے لیے مزید 88 رنز درکار تھے۔ انگلینڈ کو صرف ایک اچھی گیند چاہیے تھی، جبکہ پاکستان کو ایک طویل، محتاط اور دلیرانہ شراکت کی ضرورت تھی۔

یہیں سے شاداب خان اور حارث رؤف نے میچ کی کہانی بدل دی۔ دونوں نے آخری وکٹ کے لیے ناقابلِ شکست 89 رنز جوڑے۔ اسکائی اسپورٹس کے مطابق یہ ون ڈے کرکٹ میں کامیاب ہدف کے تعاقب کے دوران دسویں وکٹ کی سب سے بڑی شراکت ہے۔ اسی کامیابی کے ساتھ پاکستان نے سہ ملکی سیریز کے فائنل میں بھی جگہ بنالی۔

96 گیندیں، 113 رنز اور پانچ چھکے!

 

شاداب خان نے 96 گیندوں پر ناقابلِ شکست 113 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 13 چوکے اور پانچ چھکے شامل تھے۔ آٹھویں نمبر پر آکر ایسی صورتِ حال میں سنچری بنانا اس کارکردگی کو مزید خاص بناتا ہے۔

یہ محض تیز بیٹنگ کا مظاہرہ نہیں تھا۔ شاداب کو رنز بھی بنانے تھے اور آخری وکٹ بھی بچانی تھی۔ انہوں نے زیادہ گیندیں خود کھیلنے کی کوشش کی، مناسب موقع پر باؤنڈری لگائی اور حارث کو ساتھ لے کر ہدف کی طرف بڑھتے رہے۔ دباؤ میں ان کی یہی منصوبہ بندی پاکستان کی واپسی کی بنیاد بنی۔

97 رنز پر وہ لمحہ جب سانسیں رک گئیں

 

میچ میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب شاداب 97 رنز پر ایل بی ڈبلیو قرار دے دیے گئے۔ بظاہر پاکستان کی مزاحمت ختم ہوچکی تھی، لیکن ریویو نے مقابلے کو دوبارہ زندہ کردیا۔ الٹرا ایج پر بلے کا ہلکا سا کنارہ ظاہر ہوا اور فیصلہ تبدیل ہوگیا۔

شاداب نے اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دیا۔ وہ اپنی پہلی ون ڈے سنچری تک پہنچے اور پاکستان کو فتح کے قریب لے گئے۔

 

حارث کے سات رنز، مگر کردار بہت بڑا

 

اس جیت میں حارث رؤف کی ثابت قدمی بھی یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے 19 گیندوں پر ناقابلِ شکست سات رنز بنائے اور شاداب کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ آخرکار ہنری کروکومب کی گیند پر حارث کے چوکے نے پاکستان کی فتح مکمل کردی۔ میچ کے بعد شاداب نے بھی اپنے ساتھی کو بھرپور کریڈٹ دیا۔

کبھی کبھی اسکور کارڈ میں سات رنز چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر میچ میں ان کی اہمیت بہت بڑی ہوتی ہے۔ حارث کی اننگز ایسی ہی تھی۔

 

شاہین کی بولنگ نے بنیاد رکھی

 

اس سے پہلے شاہین شاہ آفریدی نے 46 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔ انگلینڈ کی ٹیم 46.4 اوورز میں 241 رنز پر آؤٹ ہوئی۔ بین ڈکٹ نے 111 گیندوں پر 105 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی، لیکن ان کی سنچری انگلینڈ کو فتح نہ دلاسکی۔

پاکستان کے لیے یہ جشن منانے والی شام تھی۔ شاداب کی سنچری، حارث کا ساتھ اور آخری وکٹ تک جاری رہنے والی جدوجہد نے ایک مشکل مقابلے کو یادگار کامیابی میں بدل دیا۔

قذافی اسٹیڈیم میں آخری وکٹ باقی تھی—اور پاکستان کے لیے اتنی امید ہی کافی ثابت ہوئی!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں