عدم اعتماد 35

حکومت کے بدلے حکومت؟ پی ٹی آئی کے عدم اعتماد کے اشارے

پاکستان کی سیاست میں ایک مرتبہ پھر نمبر گیم، عدم اعتماد اور نئی سیاسی صف بندیوں کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

ایک طرف پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خلاف اپنے آئینی و سیاسی آپشنز استعمال کرنے کی بات کر رہی ہے، تو دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان اختلافات اس سطح تک پہنچ گئے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے حالیہ دنوں میں حکومت کے ساتھ قانون سازی میں تعاون روکنے کا اعلان بھی کیا۔

اسی دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا اپوزیشن رہنماؤں، بالخصوص محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس، سے رابطہ اور ملاقات سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے یا آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان پارلیمانی تعاون کسی بڑے سیاسی فارمولے کی بنیاد بن سکتا ہے؟

 

شفیع جان کا اشارہ، عدم اعتماد کا آپشن پھر زیرِ بحث

 

خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان کی حالیہ گفتگو نے حکومت کے خلاف سیاسی کارروائی کے امکانات کو ایک مرتبہ پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

پی ٹی آئی کی قیادت مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ اس نے حکومت کے خلاف قانونی اور آئینی راستے اختیار کیے ہیں اور اب سیاسی دباؤ بڑھایا جائے گا۔

شفیع جان اس سے قبل بھی پیپلز پارٹی کو حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی دعوت دے چکے ہیں۔ 8 اگست کو انہوں نے پیپلز پارٹی سے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر وہ حکومت سے آزاد ہونا چاہتی ہے تو اسے حکومت چھوڑ کر اپوزیشن میں شامل ہونا چاہیے۔

اسی سیاسی مہم کے تحت پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا ہے، جسے شفیع جان نے پارٹی کے آئینی و قانونی راستے استعمال کرنے کے بعد باقی رہ جانے والا راستہ قرار دیا۔

تاہم اگر عدم اعتماد کا معاملہ واقعی پارلیمان تک پہنچتا ہے تو سڑکوں کی سیاست سے زیادہ اہم سوال ایوان کے اندر نمبرز کا ہوگا۔

 صرف اعلان سے نہیں، نمبر گیم سے کامیاب ہوگا

 

وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 95 کے تحت لائی جا سکتی ہے۔

آئین کے مطابق عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی کل رکنیت کے کم از کم 20 فیصد ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، جبکہ قرارداد کی منظوری کے لیے کل رکنیت کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ آئینی ڈھانچے کے مطابق قومی اسمبلی کی کل رکنیت 342 ہے، اس لیے سادہ حساب سے حکومت کو ہٹانے کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پیپلز پارٹی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

کیونکہ اگر حکومتی اتحاد میں دراڑ پڑتی ہے اور پیپلز پارٹی اپنے ارکان کو حکومتی امیدوار یا حکومت کے حق میں ووٹ دینے سے روک دیتی ہے، تو موجودہ نمبر گیم تبدیل ہوسکتی ہے۔

لیکن صرف حکومت سے ناراضی اور عدم اعتماد میں ووٹ دینا دو مختلف سیاسی فیصلے ہیں۔

 

اصل کہانی پیپلز پارٹی کے بدلتے رویے میں ہے

 

حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ اہم پیش رفت پیپلز پارٹی اور حکومت کے تعلقات میں سامنے آئی ہے۔

19 اگست کو بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی حکومت کی قانون سازی میں اس وقت تک تعاون نہیں کرے گی جب تک اس کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔

بلاول کا مؤقف تھا کہ اگر حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی کرسکتی ہے تو اسے ایسا کرنے دیا جائے، لیکن پیپلز پارٹی اپنے ارکان کو حکومتی قانون سازی کے حق میں ووٹ دینے کی اجازت نہیں دے گی۔

یہ بیان اس لیے اہم تھا کیونکہ پیپلز پارٹی محض ایک عام اتحادی جماعت نہیں بلکہ پارلیمان میں ایسی سیاسی قوت ہے جس کے ووٹ کئی اہم معاملات میں حکومت کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔

 

بلاول کی اپوزیشن سے ملاقات، کیا نئی صف بندی شروع ہوگئی؟

 

19 اگست کو بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اپوزیشن چیمبر میں محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، عامر ڈوگر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

ملاقات میں پارلیمانی امور، قانون سازی، انتخابی اصلاحات اور ملک کی سیاسی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمانی کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کرنے کی دعوت بھی دی گئی۔

یہ ملاقات اس لحاظ سے غیر معمولی تھی کہ پیپلز پارٹی ایک طرف حکومت کی اتحادی ہے، جبکہ دوسری طرف اس کی قیادت براہ راست اپوزیشن جماعتوں سے پارلیمانی تعاون پر بات کر رہی تھی۔

تاہم یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔

اپوزیشن سے رابطہ کرنا اور حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن کا حصہ بن جانا ایک ہی بات نہیں۔

 

پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی: کیا واقعی ہاتھ مل سکتا ہے؟

 

یہ سوال اس وقت پاکستانی سیاست کا سب سے دلچسپ سوال بن چکا ہے۔

پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت سے علیحدہ ہو اور اپوزیشن کا ساتھ دے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کے ساتھ پارلیمانی رابطے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

لیکن ابھی تک ایسی کوئی واضح اور حتمی سیاسی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ پیپلز پارٹی نے حکومت گرانے کے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کرلیا ہے۔

بلکہ دستیاب شواہد اس وقت ایک بارگیننگ اور دباؤ کی سیاست کی طرف زیادہ اشارہ کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی حکومت کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اس کے ووٹ کو معمولی نہ سمجھا جائے، جبکہ پی ٹی آئی اس موقع کو حکومت کے خلاف سیاسی محاذ وسیع کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں