پاکستان میں معاشی ترقی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک دلچسپ رجحان سامنے آ رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ماہرِ علمِ نجوم سامعہ خان سے منسوب ایسی پیشگوئیاں زیرِ گردش ہیں جن میں پاکستان میں آئندہ برسوں کے دوران سرمایہ کاری آنے اور معاشی حالات میں بہتری کی بات کی گئی ہے۔
یہاں سوال سامعہ خان کی ذات یا علمِ نجوم پر یقین رکھنے والوں سے نہیں۔ ہر شخص کو اپنی رائے اور اپنے عقیدے کے مطابق مستقبل کے بارے میں بات کرنے کا حق ہے۔ اصل سوال ریاست، حکومت اور ان اداروں سے ہے جنہیں پاکستان میں سرمایہ کاری لانے، معاشی منصوبہ بندی کرنے اور ترقی کی راہ ہموار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اگر اب ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آنے یا نہ آنے کا اندازہ بھی ماہرینِ علمِ نجوم کی پیشگوئیوں سے لگایا جانے لگا ہے تو پھر سوال بنتا ہے کہ SIFC کہاں ہے؟ بورڈ آف انویسٹمنٹ کہاں ہے؟ وزارتِ خزانہ، وزارتِ تجارت اور ہمارے معاشی ماہرین کہاں ہیں؟
ایس آئی ایف سی کہاں تک پہنچی؟
SIFC تو اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے راستے میں موجود رکاوٹیں دور کی جائیں، سرمایہ کاروں کو سہولت دی جائے اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو عملی شکل دی جائے۔
تو پھر قوم کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کتنی سرمایہ کاری حقیقت میں پاکستان پہنچی؟ کتنے منصوبے زمین پر نظر آ رہے ہیں؟ کتنی نئی صنعتیں قائم ہوئیں؟ کتنے روزگار پیدا ہوئے؟ کتنے معاہدے عملی منصوبوں میں تبدیل ہوئے اور کتنے صرف اعلانات، کانفرنسوں اور پریس ریلیز تک محدود رہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب کسی زائچے سے نہیں بلکہ اعداد و شمار اور زمینی حقیقت سے ملنے چاہئیں۔
دنیا کا کوئی سنجیدہ سرمایہ کار صرف یہ سن کر پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتا کہ آنے والے برس پاکستان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوں گے۔
سرمایہ کار سب سے پہلے ملک کی پالیسی دیکھتا ہے، ٹیکس نظام دیکھتا ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں دیکھتا ہے، سیاسی و معاشی استحکام دیکھتا ہے، کرنسی کے خطرات کو پرکھتا ہے، عدالتی نظام اور کاروباری ماحول کا جائزہ لیتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ دیکھتا ہے کہ حکومت کی پالیسی کتنی دیر تک برقرار رہ سکتی ہے۔
سرمایہ کاری اب ستاروں میں ہو گی
سرمایہ کار کو ستاروں کی پوزیشن نہیں، کاروبار کی پوزیشن دیکھنی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر حکومت واقعی پاکستان میں سرمایہ کاری لانا چاہتی ہے تو اسے پیشگوئیوں پر خوش ہونے کے بجائے ان عوامل پر توجہ دینی چاہیے جو سرمایہ کار کو پاکستان آنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
اگر کوئی ماہرِ نجوم کہتا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری آئے گی تو اسے ایک پیشگوئی کے طور پر سنا جا سکتا ہے، لیکن ریاست کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ اس پیشگوئی پر امید باندھ لے۔ ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ ایسی معاشی پالیسیاں بنائے کہ پیشگوئی غلط بھی ثابت ہو تو سرمایہ کار پھر بھی پاکستان آنے پر مجبور ہوں۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سرمایہ کاری آئے گی یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم سرمایہ کاری کے لیے ایسا ماحول بنا بھی رہے ہیں یا نہیں جہاں سرمایہ کار اپنا پیسہ محفوظ سمجھ سکے۔
کیونکہ حقیقی ترقی اس وقت نظر آئے گی جب سرمایہ کاری کی خبریں ٹی وی اسکرینوں اور سوشل میڈیا پوسٹس سے نکل کر کارخانوں، صنعتی زونز، نئی کمپنیوں، بڑھتی ہوئی برآمدات اور نوجوانوں کی ملازمتوں میں تبدیل ہوں گی۔
پاکستان کے ستارے کب عروج پر ہوں گے؟
ہمیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے ستارے کب عروج پر ہوں گے۔ ہمیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی معیشت کب اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگی۔
ہمیں مستقبل کی پیشگوئی نہیں، مستقبل کی منصوبہ بندی چاہیے۔
ہمیں یہ نہیں جاننا کہ اگلے دس سال میں کون کہاں ہوگا؛ ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ اگلے دس سال میں پاکستان کہاں کھڑا ہوگا۔
اور اس سوال کا جواب کسی زائچے میں نہیں، بلکہ آج کی معاشی پالیسی، اداروں کی کارکردگی، صنعتی ترقی، برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری کے حقیقی اعداد و شمار میں موجود ہے۔
ستارے راستہ دکھائیں یا نہ دکھائیں، ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سڑک بہرحال حکومت اور اداروں کو خود بنانا ہوگی۔
