گریٹا تھنبرگ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 21

دنیا کو موسمیاتی بحران پر سوچنے پر مجبورکرنے والی گریٹا تھنبرگ

جب بھی دنیا میں موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات کے تحفظ اور نوجوانوں کی عالمی تحریکوں کا ذکر ہوتا ہے، تو ایک نام لازماً سامنے آتا ہے: گریٹا تھنبرگ۔

صرف پندرہ برس کی عمر میں ایک سادہ سے احتجاج سے آغاز کرنے والی یہ سویڈش طالبہ چند ہی برسوں میں دنیا کی سب سے معروف ماحولیاتی کارکنوں میں شمار ہونے لگی۔

آج گریٹا تھنبرگ صرف ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک ایسی علامت بن چکی ہیں جو اس سوال کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ زمین چھوڑ کر جا رہے ہیں؟

ایک عام طالبہ سے عالمی آواز تک

گریٹا تھنبرگ 3 جنوری 2003 کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پیدا ہوئیں۔ کم عمری ہی میں جب انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ اور کاربن کے بڑھتے ہوئے اخراج کے بارے میں جانا تو وہ اس بات سے حیران رہ گئیں کہ دنیا اس سنگین مسئلے کو اتنی سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی۔

اگست 2018 میں، جب وہ صرف پندرہ سال کی تھیں، انہوں نے سویڈن کی پارلیمنٹ کے سامنے ہر جمعہ احتجاج شروع کیا۔ ان کے ہاتھ میں ایک سادہ سا بورڈ تھا جس پر لکھا تھا:

“School Strike for Climate”

ابتدا میں وہ اکیلی تھیں، لیکن جلد ہی ان کا یہ خاموش احتجاج دنیا بھر میں ایک تحریک بن گیا۔ چند ہی ماہ میں ہزاروں، پھر لاکھوں طلبہ نے مختلف ممالک میں ہر جمعہ اسکول سے علامتی غیر حاضری اختیار کر کے ماحولیات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ یہ تحریک بعد میں “Fridays for Future” کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔

نوجوانوں کی عالمی تحریک

گریٹا کی سب سے بڑی کامیابی صرف احتجاج کرنا نہیں تھی، بلکہ انہوں نے نوجوان نسل کو یہ احساس دلایا کہ موسمیاتی تبدیلی صرف سائنس دانوں یا حکومتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔

ان کی اپیل پر دنیا کے مختلف شہروں میں لاکھوں نوجوان سڑکوں پر نکلے، موسمیاتی مارچ منعقد ہوئے، اور کئی ممالک میں حکومتوں پر دباؤ بڑھا کہ وہ کاربن کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی اور ماحولیاتی پالیسیوں پر زیادہ سنجیدگی سے کام کریں۔

اقوام متحدہ میں وہ تقریر جس نے دنیا کو چونکا دیا

2019 میں گریٹا تھنبرگ نے اقوام متحدہ کے کلائمیٹ ایکشن سمٹ میں وہ تاریخی تقریر کی جس نے دنیا بھر میں غیر معمولی توجہ حاصل کی۔

انہوں نے عالمی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“How dare you?”

ان کا مؤقف تھا کہ حکومتیں معاشی مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ یہ تقریر بعد میں جدید ماحولیاتی تحریک کی علامت بن گئی۔

عملی مثال بھی قائم کی

گریٹا نے صرف تقاریر پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اپنی زندگی میں بھی ماحول دوست طرزِ عمل اپنانے کی کوشش کی۔

2019 میں انہوں نے یورپ سے امریکہ فضائی سفر کے بجائے ایک سیل بوٹ کے ذریعے بحرِ اوقیانوس عبور کیا تاکہ فضائی سفر سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج سے بچا جا سکے۔ اس اقدام نے دنیا بھر میں ماحول دوست طرزِ زندگی پر نئی بحث چھیڑ دی۔

اعزازات اور عالمی شناخت

گریٹا تھنبرگ کو دنیا کے متعدد اداروں نے سراہا۔

2019 میں امریکی جریدے Time نے انہیں Person of the Year قرار دیا، اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بنیں۔

اس کے علاوہ انہیں کئی مرتبہ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا، جبکہ دنیا کی متعدد جامعات، تنظیموں اور ماحولیاتی اداروں نے بھی انہیں مختلف اعزازات سے نوازا۔

تنقید بھی، حمایت بھی

جتنی تیزی سے گریٹا کی مقبولیت بڑھی، اتنی ہی شدت سے ان پر تنقید بھی ہوئی۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عالمی رہنماؤں کو ان کی ذمہ داری یاد دلائی اور نوجوان نسل کو ایک مؤثر آواز دی۔

دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ بعض اوقات ان کی گفتگو جذباتی ہوتی ہے، مسائل کی پیچیدگی کو مکمل طور پر پیش نہیں کرتی، یا ان کی سرگرمیاں سیاسی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گریٹا ہمیشہ ایک متنازع مگر انتہائی بااثر عالمی شخصیت رہی ہیں۔

ماحولیات سے انسانی حقوق تک

حالیہ برسوں میں گریٹا نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ صرف موسمیاتی تبدیلی تک محدود نہیں رکھا بلکہ انسانی حقوق کے مختلف مسائل پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

2025 میں وہ Freedom Flotilla Coalition کے امدادی مشن کے تحت غزہ جانے والے جہاز Madleen میں شامل ہوئیں۔ اس مشن کا مقصد غزہ کے شہریوں تک انسانی امداد پہنچانا اور وہاں کے انسانی بحران کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانا تھا۔ تاہم اسرائیلی حکام نے بحیرۂ روم میں اس جہاز کو روک لیا، جس کے بعد جہاز پر موجود کارکنوں کو حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں مختلف مراحل میں رہا کر دیا گیا یا اپنے اپنے ممالک واپس بھیج دیا گیا۔

اس واقعے کے بعد بھی ان کے مؤقف پر دنیا بھر میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض حلقوں نے اسے انسانی حقوق کی حمایت قرار دیا جبکہ بعض نے اس پر تنقید کی۔

کیا گریٹا نے دنیا بدل دی؟

یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ ایک فرد نے موسمیاتی بحران حل کر دیا، لیکن یہ کہنا بالکل درست ہے کہ گریٹا تھنبرگ نے اس مسئلے کو دنیا کی روزمرہ گفتگو کا حصہ ضرور بنا دیا۔

آج موسمیاتی تبدیلی صرف سائنس دانوں کی کانفرنسوں کا موضوع نہیں رہی بلکہ اسکولوں، جامعات، پارلیمانوں، عدالتوں اور بین الاقوامی فورمز میں اس پر مسلسل بحث ہوتی ہے۔ نوجوان نسل پہلے سے کہیں زیادہ ماحولیات کے تحفظ، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، شجرکاری، قابلِ تجدید توانائی اور کاربن اخراج جیسے موضوعات سے آگاہ ہے، اور اس شعور میں گریٹا کی مہم کا نمایاں کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔

پاکستان کے لیے کیا سبق؟

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں، سیلاب، پانی کی قلت، فضائی آلودگی اور جنگلات میں کمی ہمارے لیے حقیقی چیلنج بن چکے ہیں۔

گریٹا تھنبرگ کی جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری، ہر طالب علم، ہر استاد، ہر ادارے اور ہر خاندان کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پانی کی بچت، درخت لگانا، پلاسٹک کے استعمال میں کمی، توانائی کی بچت اور ماحول دوست طرزِ زندگی جیسے چھوٹے اقدامات بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں