گوگل 38

وہ شخص جس نے 12 ڈالر میں‌گوگل خریدا

انٹرنیٹ کی تاریخ میں چند واقعات ایسے ہیں جو برسوں گزر جانے کے باوجود آج بھی حیرت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ ستمبر 2015 میں پیش آیا، جب دنیا کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہونے والی گوگل کا مرکزی ڈومین Google.com محض 12 ڈالر میں خرید لیا گیا۔

یہ کوئی افواہ نہیں تھی، نہ ہی کسی ہیکر نے گوگل کے سرور پر قبضہ کیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ خریداری گوگل کی اپنی ڈومین رجسٹریشن سروس کے ذریعے ہوئی، اور خریدار بھی گوگل کا سابق ملازم تھا۔

آخر یہ واقعہ ہوا کیسے؟

 

اس کہانی کے مرکزی کردار سنمے وید (Sanmay Ved) ہیں، جو ماضی میں گوگل میں ملازمت کر چکے تھے اور بعد ازاں امریکہ کی بابسن یونیورسٹی میں ایم بی اے کر رہے تھے۔

29 ستمبر 2015 کی رات وہ محض تجسس کے طور پر Google Domains پر مختلف ڈومینز تلاش کر رہے تھے۔ اسی دوران انہوں نے گوگل ڈاٹ کام سرچ کیا۔

عام حالات میں ایسا ڈومین "Unavailable” یا "Already Registered” ظاہر ہونا چاہیے تھا، لیکن حیرت انگیز طور پر اس کے سامنے Available لکھا ہوا تھا۔

ابتدا میں وید کو یقین نہیں آیا۔ انہوں نے سوچا شاید یہ سسٹم کی کوئی خرابی ہے، مگر جب انہوں نے خریدنے کا بٹن دبایا تو اگلا مرحلہ بھی کامیابی سے مکمل ہوگیا۔

صرف 12 ڈالر میں دنیا کی سب سے مشہور ویب سائٹ؟

 

سنمے وید نے تقریباً 12 امریکی ڈالر ادا کیے، اور ادائیگی مکمل ہونے کے بعد انہیں تصدیقی ای میل موصول ہوئی۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ان کے گوگل اکاؤنٹ میں یہ ڈومین ان کی ملکیت کے طور پر ظاہر ہونے لگا۔ بعض رپورٹس کے مطابق انہیں مختصر وقت کے لیے ڈومین مینجمنٹ سے متعلق کچھ انتظامی اختیارات بھی نظر آئے، جس سے واضح ہوا کہ معاملہ محض ظاہری خرابی نہیں بلکہ سسٹم کی ایک حقیقی خامی تھی۔

خوشی صرف ایک منٹ تک رہی

 

یہ صورتحال زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ تقریباً ایک منٹ بعد گوگل کے سسٹمز نے اس غیر معمولی لین دین کو شناخت کر لیا۔ خریداری منسوخ کر دی گئی، رقم واپس کر دی گئی اور Google.com دوبارہ گوگل کے کنٹرول میں آ گیا۔

اس مختصر لمحے نے تاہم دنیا بھر میں سائبر سکیورٹی ماہرین کو چونکا دیا، کیونکہ سوال یہ پیدا ہوا کہ آخر گوگل جیسی کمپنی کا بنیادی ڈومین فروخت کے لیے دستیاب کیسے ہو گیا؟

کیا گوگل واقعی اپنا ڈومین کھو بیٹھا تھا؟

 

اس واقعے کے بعد مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔

ابتدائی طور پر کچھ لوگوں نے سمجھا کہ شاید گوگل اپنے ڈومین کی تجدید (Renewal) کرنا بھول گیا تھا، لیکن بعد میں واضح ہوا کہ اصل مسئلہ گوگل کی Google Domains سروس میں موجود ایک تکنیکی خرابی تھی، جس نے غلطی سے Google.com کو خریداری کے لیے دستیاب ظاہر کر دیا تھا۔ یہ کسی روایتی ہیکنگ کا واقعہ نہیں تھا بلکہ اندرونی سسٹم کی خامی تھی۔

سنمے وید نے کیا کیا؟

 

اگر وہ چاہتے تو اس واقعے کو چھپا سکتے تھے یا سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے فوراً گوگل کی سکیورٹی ٹیم کو اس خامی سے آگاہ کیا تاکہ مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جا سکے۔

یہی وہ طرزِ عمل تھا جس نے انہیں سائبر سکیورٹی کمیونٹی میں عزت دلائی۔

گوگل نے انعام بھی دیا

 

گوگل نے سنمے وید کی ایمانداری اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے Vulnerability Reward Program کے تحت مالی انعام دینے کا فیصلہ کیا۔

ابتدا میں کمپنی نے 6,006.13 ڈالر دینے کی پیشکش کی۔ گوگل کے مطابق یہ رقم بھی ایک دلچسپ انداز میں منتخب کی گئی تھی کیونکہ اعداد کو مخصوص انداز سے دیکھنے پر یہ لفظ "Google” سے مشابہ محسوس ہوتے تھے۔

پھر رقم دگنی کیوں کر دی گئی؟

 

اصل کہانی یہاں مزید دلچسپ ہو جاتی ہے۔سنمے وید نے گوگل کو بتایا کہ وہ یہ رقم اپنے پاس رکھنے کے بجائے خیراتی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، خصوصاً بھارت میں بچوں کی تعلیم کے منصوبوں کے لیے۔

ان کے اس جذبے سے متاثر ہو کر گوگل نے انعام کی رقم دگنی کر دی اور مجموعی طور پر 12,012.26 ڈالر عطیہ کیے۔

اس واقعے سے کیا سبق ملا؟

 

یہ واقعہ صرف ایک دلچسپ کہانی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے لیے اہم سبق بھی ہے۔

دنیا کی بڑی سے بڑی کمپنی بھی سافٹ ویئر کی معمولی سی غلطی سے محفوظ نہیں۔ جدید نظام لاکھوں لائنوں کے کوڈ پر مشتمل ہوتے ہیں، اس لیے معمولی تکنیکی خامیاں بھی بعض اوقات غیر معمولی نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔

اسی لیے گوگل، مائیکروسافٹ، ایپل اور دیگر عالمی کمپنیاں آج "بگ باؤنٹی پروگرامز” چلاتی ہیں، جہاں سکیورٹی محققین کو خامیاں تلاش کرنے پر قانونی طور پر انعام دیا جاتا ہے تاکہ مسائل کو مجرموں سے پہلے درست کیا جا سکے۔

ایک منٹ جس نے تاریخ بنا دی

 

سنمے وید شاید صرف ایک منٹ کے لیے Google.com کے مالک رہے، لیکن ان کا نام انٹرنیٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا۔

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اعتماد صرف طاقتور سسٹمز سے نہیں بلکہ ذمہ دار انسانوں سے قائم رہتا ہے۔ اگر سنمے وید اس خامی کا غلط استعمال کرتے تو شاید یہ انٹرنیٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے سکیورٹی بحرانوں میں شمار ہوتا، مگر انہوں نے ایمانداری کا راستہ اختیار کیا اور ایک ممکنہ بحران کو ایک مثبت مثال میں بدل دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں