انتخابات کا موسم ہو اور سیاسی دعوؤں کی بہار نہ آئے، ایسا تو ممکن ہی نہیں۔ گلگت بلتستان کی ٹھنڈی، شفاف اور مسحور کن فضاؤں میں جب ملکی سیاست کے بڑے نام پہنچتے ہیں تو عوام کو سہانے خواب دکھانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
حالیہ انتخابی مہم میں بھی حسبِ روایت بڑے جوش و خروش سے یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ اگر موقع ملا تو گلگت کو بالترتیب "سندھ” اور "پنجاب” جیسا بنا دیا جائے گا۔
یہ دلفریب نعرے سن کر جلسوں میں بیٹھے جیالوں اور متوالوں نے تو شاید خوب تالیاں بجائی ہوں گی، لیکن ایک عام، باشعور اور حقائق پر نظر رکھنے والے شہری کے ذہن میں فوراً خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔
سندھ ماڈل: ترقی یا تنزلی کا استعارہ؟
اگر خدانخواستہ گلگت بلتستان واقعی سندھ بن گیا تو اس کا مطلب کیا ہوگا؟ کیا دیوسائی کے سرسبز میدانوں اور ہنزہ کی وادیوں میں بھی تعلیم کا وہ ماڈل نافذ ہوگا جہاں سکولوں میں بچوں کی بجائے مقامی وڈیروں کی گائے اور بھینسیں بندھی نظر آتی ہیں؟
گلگت وہ خطہ ہے جہاں کے محنتی عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت تعلیم میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، کیا انہیں اس "سندھ ماڈل” کی ضرورت ہے؟
صاف چشموں اور گلیشیئرز کے وارث گلگتی عوام جب یہ سوچتے ہیں کہ انہیں بھی کراچی کی طرح پینے کا پانی ٹینکر مافیا سے خریدنا پڑے گا، تو ان کی روح کانپ جاتی ہے۔
اس ترقی کا تصور ذہن میں آتے ہی گلی محلوں میں غلاظت اور کچرے کے وہ پہاڑ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں جنہیں ہٹانے کے لیے شاید کسی معجزے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ گٹروں کے غائب ڈھکن، گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ (جس کی بدترین مثال کے الیکٹرک ہے)، اور سڑکوں پر ٹارگٹ کلنگ کا خوف… یہ سب وہ "تحفے” ہیں جو اس ترقی یافتہ ماڈل کا حصہ ہیں۔
گلگت کے خوددار اور محنت کش لوگوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے نام پر چند ہزار روپوں کے لیے قطاروں میں کھڑا کر کے دستِ نگر (منگتا) بنانے کا خواب کوئی باشعور انسان نہیں دیکھ سکتا۔
اور جب سب کچھ تباہ ہو جائے تو آخر میں تسلی کے لیے محض ایک ہی نعرہ گونجتا ہے: "کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے!”
پنجاب ماڈل: تشہیر، ٹیکس اور ٹک ٹاک
دوسری جانب پنجاب ماڈل کی پیشکش ہے۔ اگر گلگت کو پنجاب بنایا گیا تو ڈر ہے کہ ترقی کا سارا بجٹ عوام کی فلاح کے بجائے محض تشہیر، سوشل میڈیا کیمپینز اور ذاتی پی آر (PR) پر خرچ ہو جائے گا۔
موجودہ پنجاب ماڈل، جس کی قیادت ایک خاتونِ اعلیٰ کر رہی ہیں، اس بات کی زندہ مثال بنتا جا رہا ہے کہ کیمرے کے سامنے "سب اچھا” دکھانا زمینی حقائق سے کتنا مختلف ہے۔
کیا گلگت کے غریب اور محنت کش عوام جو چھوٹی موٹی ریڑھیاں لگا کر، پھل یا خشک میوہ جات بیچ کر رزقِ حلال کماتے ہیں، ان پر بھی کوئی نئی اور چمکدار وردیوں والی "فورس” چڑھ دوڑے گی تاکہ سڑکیں وی آئی پیز کی گاڑیوں کے لیے صاف رکھی جا سکیں؟
پنجاب کا موجودہ گورننس ماڈل یہ ہے کہ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی اور آئینی سہولیات کو بہتر بنانے کے بجائے انہیں آؤٹ سورس کر کے نجکاری کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے بند کر کے لاکھوں سرکاری نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں۔ آئے روز نت نئے ٹیکسوں کا بوجھ غریب کی کمر توڑ رہا ہے، لیکن حکمرانوں کی شاہ خرچیوں اور شان و شوکت میں کوئی کمی نہیں۔
عوام روٹی کو ترس رہے ہیں اور نمائندوں کے لیے مبینہ طور پر اربوں روپے کے نئے ہیلی کاپٹر اور جہازوں کی خریداریاں زیرِ غور رہتی ہیں۔ کیا گلگت کے عوام اس "ترقی” کے متحمل ہو سکتے ہیں؟
گلگت بلتستان کو سندھ پنجاب نہ بنائیں
گلگت بلتستان کے عوام اپنی سادگی، محنت، اور قدرتی ماحول کے باعث پورے ملک میں ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ سیاسی جلسوں کی تقریریں اور دعوے اپنی جگہ، لیکن منطقی اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں صوبوں کا ماڈل کاپی کرنے کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت کو بس گلگت ہی رہنے دیا جائے۔
عوام کو ان کے بنیادی حقوق، صاف ستھرا نظامِ حکومت، میرٹ پر نوکریاں، اور مقامی ضروریات کے مطابق صحت و تعلیم دی جائیں۔
انہیں نہ تو کھنڈر بنتے سکولوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی اربوں روپے کی تشہیری مہمات کی۔ ہنزہ، سکردو اور چلاس کے باسیوں کے لیے پورے پاکستان کی طرف سے فی الحال ایک ہی دعا نکلتی ہے:
"یا اللہ! ان کے حال پر رحم فرما اور ان کی خوبصورت وادیوں کو سندھ اور پنجاب بننے سے محفوظ رکھ۔”