جیسے جیسے 7 جون 2026 کو گلگت بلتستان میں ہونے والے عام انتخابات کی تاریخ قریب آ رہی ہے، خطے کی سیاسی فضا میں گہما گہمی کے ساتھ ساتھ ایک گہری تشویش بھی جنم لے رہی ہے۔
گلگت بلتستان الیکشن 2026 کی سیاسی بساط بچھ چکی ہے، لیکن اس پر کھیلے جانے والے مہرے اور چالیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں کہ کیا وفاق گلگت بلتستان میں ایک بار پھر وہی "پلے بک” آزمانے جا رہا ہے جو 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں پورے پاکستان نے دیکھا؟
ایک طرف مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو کھلے عام مہم چلانے، جلسے کرنے اور ریاستی پروٹوکول کے ساتھ سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی مکمل آزادی ہے، تو دوسری جانب پی ٹی آئی کی راہ میں ہر ممکنہ انتظامی اور قانونی رکاوٹ کھڑی کی جا رہی ہے۔
ماضی کا سایہ: پچھلی اسمبلی کا سیاسی کھیل
موجودہ صورتحال کی کڑیاں پچھلی اسمبلی کے اس کھیل سے جا ملتی ہیں جس نے گلگت بلتستان کی سیاست کو گہری چوٹ پہنچائی۔
نومبر 2020 کے انتخابات میں پی ٹی آئی نے خطے کی تاریخ میں پہلی بار دوتہائی اکثریت حاصل کر کے واضح حکومت بنائی تھی۔ لیکن جولائی 2023 میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس وقت کے وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو ایک متنازعہ ڈگری کیس میں نااہل قرار دے دیا گیا۔
یہ نااہلی محض ایک فرد کی چھٹی نہیں تھی، بلکہ گلگت بلتستان میں ‘سیاسی انجینئرنگ’ کا ایک واضح نمونہ تھی۔ خالد خورشید کو ہٹانے کے فوراً بعد پی ٹی آئی کے اندر ایک فارورڈ بلاک تشکیل دیا گیا، اور حاجی گلبر خان کو (جو کہ اسی بلاک کا حصہ تھے) مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی مکمل حمایت کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا گیا۔
ایک ایسی جماعت جس کے پاس واضح اکثریت تھی، اسے اقتدار سے بے دخل کر کے اقلیتی جماعتوں کے گٹھ جوڑ سے حکومت بنانا عوام کے دیے گئے مینڈیٹ پر کھلم کھلا ڈاکہ تھا۔
گلگت بلتستان الیکشن 2026 اور "لیول پلیئنگ فیلڈ” کا فقدان
اب جبکہ نگران حکومت کی زیرِ نگرانی گلگت بلتستان الیکشن 2026 6 جون کو ہونے جا رہے ہیں، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو انتخابی مہم سے دور رکھنے کے لیے دباؤ اور خوف کی فضا قائم کی جا رہی ہے۔
گرفتاریاں اور کریک ڈاؤن: حال ہی میں پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن (جس کی تازہ مثال مئی 2026 میں گلگت پولیس کے ہاتھوں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کی گرفتاری ہے) اس بات کا ثبوت ہے کہ مقابلے کی فضا یکطرفہ ہے۔
انتخابی نشان اور آزاد حیثیت: 2024 کی طرح، امیدواروں کو جماعتی شناخت سے محروم کر کے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
دوہرا معیار: وفاق میں اتحادی جماعتیں (ن لیگ اور پیپلز پارٹی) گلگت بلتستان میں تمام تر انتظامی سہولتوں کا فائدہ اٹھا رہی ہیں، جبکہ مدِ مقابل جماعت کو اپنا بیانیہ عوام تک پہنچانے کے لیے دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
مینڈیٹ کی چوری اور سیاسی انجینئرنگ وقتی طور پر تو من پسند نتائج دے سکتی ہے، لیکن اس کے دیرپا اثرات ریاست اور عوام کے رشتے کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں پائیدار امن، ترقی اور وفاق سے جڑت کا واحد راستہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہیں۔
7 جون 2026 کو ہونے والے الیکشن محض چند نشستوں کا فیصلہ نہیں کریں گے، بلکہ یہ طے کریں گے کہ وفاق اس خطے کے عوام کے جمہوری حقوق کا کتنا احترام کرتا ہے۔
اگر ریاست نے واقعی خطے کو عدم استحکام سے بچانا ہے، تو اسے فوری طور پر اس "خطرناک کھیل” کو روک کر تمام سیاسی جماعتوں کو مساوی مواقع (Level playing field) فراہم کرنے ہوں گے۔ طاقت اور فیصلے کا سرچشمہ عوام کو ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ اسی میں خطے اور ملک کی بقا ہے۔