عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے اور ہر طرف قربانی کے جانور اور منڈیوں کا ذکر چھڑا ہوا ہے۔ بچپن میں منڈی جانے کا جو بے تحاشا شوق ہوا کرتا تھا، وہ اب ایک انجانے سے خوف اور فکر میں بدل گیا ہے۔
آج کل جب کوئی عام آدمی منڈی کا رخ کرتا ہے یا سڑک کنارے بندھے کسی خوبصورت بکرے یا بچھڑے کی قیمت پوچھتا ہے، تو جواب سن کر قدم وہیں جم جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے قیمتیں نہیں، جانوروں کے مالک ہماری قوتِ خرید کا مذاق اڑا رہے ہوں۔
عام طور پر ہمارا پہلا ردعمل یہی ہوتا ہے: "یہ بیوپاری تو لٹیرے بن گئے ہیں، انہوں نے تو غریب سے سنتِ ابراہیمی ادا کرنے کا حق بھی چھین لیا ہے۔” غصہ اور مایوسی اپنی جگہ بالکل بجا ہے، کیونکہ ایک تنخواہ دار طبقے یا دیہاڑی دار مزدور کے لیے آج کے دور میں گھر کا چولہا جلانا مشکل ہو گیا ہے، تو وہ لاکھوں کے جانور کیسے خریدے؟
لیکن… کیا تصویر کا واقعی صرف یہی ایک رخ ہے؟ کیا سارا قصور صرف ان جانور پالنے والوں کا ہے؟ ذرا ایک لمحے کے لیے ٹھہر کر ان کسانوں اور بیوپاریوں کی جگہ کھڑے ہو کر سوچتے ہیں۔
قربانی کے جانور پالنے والے کا بوجھ: ایک ان کہی کہانی
ہم منڈی میں سجائے ، نہلائے دھلائے قربانی کے جانور دیکھتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپی مہینوں اور سالوں کی محنت ہمیں نظر نہیں آتی۔ آج کے اس ہوش ربا مہنگائی کے دور میں جانور پالنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں رہا۔
چارے اور خوراک کی قیمتیں: ذرا گندم کے بھوسے (توڑی)، ونڈے، کھل اور سبز چارے کی قیمتوں کا موازنہ پچھلے چند سالوں سے کریں۔ جو بوری کبھی چند سو روپے میں آتی تھی، اب ہزاروں میں چلی گئی ہے۔
علاج معالجہ اور ادویات: جانور بھی انسانوں کی طرح بیمار ہوتے ہیں۔ ویٹرنری ڈاکٹر کی فیس اور ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایک جانور کو بیماری سے بچانے کے لیے کسان اپنی جیب سے کتنا خرچ کرتا ہے، اس کا حساب منڈی میں کوئی نہیں لگاتا۔
ٹرانسپورٹ اور ٹیکس: گاؤں دیہات سے منڈی تک جانور لانے کا کرایہ، راستے کے ٹول ٹیکس اور منڈی کی پرچیاں—یہ سب اخراجات بھی اسی بیوپاری کی جیب سے جاتے ہیں۔
رات دن کی مشقت: یہ لوگ سخت سردی کی راتوں میں اور کڑکتی دھوپ میں ان جانوروں کو اپنے بچوں کی طرح پالتے ہیں۔ ان کی خدمت کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک کاروباری چیز نہیں ہوتی، ان کا ان جانوروں کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ بھی ہوتا ہے۔
مہنگائی کی چکی میں پستے دو انسان
حقیقت یہ ہے کہ آج خریدار اور بیچنے والا، دونوں ہی ایک ہی معاشی نظام اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ خریدار کی جیب اجازت نہیں دے رہی اور بیچنے والے کی مجبوری ہے کہ وہ اس سے کم پر بیچے گا تو وہ اپنا سارا سال کا خرچہ کیسے پورا کرے گا؟
وہ بھی تو کسی کا باپ ہے، اسے بھی تو اپنی بیٹیوں کی شادیاں کرنی ہیں اور اپنے گھر کا راشن لانا ہے۔
جب کسان ایک جانور کو منڈی لاتا ہے تو اس پر لاگت ہی اتنی آ چکی ہوتی ہے کہ وہ سستے داموں بیچ کر اپنا نقصان نہیں کر سکتا۔ یہ منافع خوری سے زیادہ بقا (survival) کی جنگ ہے۔
احساس اور ہمدردی کا رشتہ
اس بار جب آپ منڈی جائیں، تو قیمت سن کر غصہ کرنے یا بیوپاری کو برا بھلا کہنے کے بجائے تھوڑا سا احساس کریں۔ بھاؤ تاؤ کرنا سنت ہے اور آپ کا حق ہے، لیکن یہ بات چیت نرمی اور مسکراہٹ کے ساتھ بھی ہو سکتی ہے۔
انہیں یہ طعنہ نہ دیں کہ "تم لوگ لوٹ رہے ہو”، بلکہ یہ کہیں کہ "بھائی، آپ کی محنت اور خرچہ اپنی جگہ، لیکن ہماری جیب اتنی اجازت دے رہی ہے۔”
قربانی نام ہی اپنے نفس، اپنی خواہشات اور اپنی انا کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کا ہے۔ اگر اللہ نے آپ کو وسعت دی ہے، تو خوش دلی سے قربانی کریں اور یہ سوچ کر پیسے دیں کہ اس بہانے کسی غریب کسان کے گھر میں بھی عید کی خوشیاں آ جائیں گی۔
اور اگر آپ کی استطاعت نہیں ہے، تو یاد رکھیں کہ اللہ کو ہمارے جانوروں کا گوشت اور خون نہیں، بلکہ ہمارا تقویٰ اور نیت پہنچتی ہے۔
آئیے اس عید پر تلخیوں کو کم کریں، ایک دوسرے کی مجبوریوں کو سمجھیں اور روبوٹ بن کر صرف ہندسوں (قیمتوں) پر لڑنے کے بجائے، انسان بن کر ایک دوسرے کے دل کا حال سمجھیں۔ یہی اصل قربانی اور یہی اصل عید ہے۔