سہاگ رات میں کشتہ کھانا نوجوان کی جان لے گای
پاکستانی معاشرے میں سہاگ رات کو ایک "کارکردگی" کے امتحان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

پنجاب کے ضلع لیہ کی تحصیل چوک اعظم میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ بن گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نوبیاہتا نوجوان، جس کی شادی ابھی چند دن پہلے ہوئی تھی، اپنی ہی شادی کے اگلے دن یعنی ولیمہ کے روز جان کی بازی ہار گیا۔ لواحقین کے مطابق اس نوجوان نے ایک مقامی نیم حکیم سے حاصل کردہ "کشتہ” یا طاقت کے کیپسول استعمال کیے تھے، جو اس کی موت کا سبب بنے۔
اطلاعات کے مطابق یہ ادویات ایک پنسار اسٹور سے خریدی گئی تھیں اور سہاگ رات کے دوران استعمال کی گئیں۔ ان کے مضر اثرات نے فوری طور پر نوجوان کے گردوں کو متاثر کیا، جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور طبی بحران کی نشاندہی کرتا ہے، جو پاکستان کے کئی علاقوں میں خاموشی سے پھیل رہا ہے۔
نیم حکیم اور جعلی کشتہ: ایک خطرناک کاروبار
پاکستان کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں "نیم حکیم” یا غیر مستند معالجین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ افراد خود کو ماہر طب یا حکیم ظاہر کرتے ہیں اور مختلف بیماریوں، خاص طور پر مردانہ کمزوری، کے علاج کے نام پر ادویات فروخت کرتے ہیں۔
"کشتہ” ایک روایتی اصطلاح ہے، جو عام طور پر دھاتوں یا دیگر اجزاء سے تیار کی گئی دوا کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اصل حکمت میں یہ ادویات نہایت احتیاط، تحقیق اور مناسب مقدار کے ساتھ تیار کی جاتی ہیں۔ لیکن نیم حکیم حضرات اکثر ان اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے خطرناک اور غیر معیاری کیمیکل ملا دیتے ہیں۔
ایسی ادویات میں بھاری دھاتیں، سٹیرائیڈز، یا دیگر زہریلے اجزاء شامل ہو سکتے ہیں، جو فوری یا بتدریج جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں—خاص طور پر گردے، جگر اور دل کو۔
سہاگ رات کا دباؤ: نوجوانوں کو کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟
اس واقعے کا سب سے اہم اور تشویشناک پہلو وہ سماجی دباؤ ہے، جو نوجوانوں پر خاص طور پر شادی کی پہلی رات کے حوالے سے ڈالا جاتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں سہاگ رات کو ایک "کارکردگی” کے امتحان کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ دوست، رشتہ دار اور سوشل میڈیا پر پھیلی غلط معلومات نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہیں کہ انہیں غیر معمولی جسمانی طاقت اور کارکردگی دکھانی ہے۔
اسی دباؤ کے باعث بہت سے نوجوان بغیر کسی طبی ضرورت کے "طاقت کی دوائیں” استعمال کرتے ہیں۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے: آخر کیوں سہاگ رات کو ایک غیر حقیقی معیار بنا دیا گیا ہے؟
اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں:
- جنسی تعلیم کی کمی
- غلط توقعات اور افواہیں
- مردانگی کے بارے میں مسخ شدہ تصورات
- دوستوں اور سوشل حلقوں کا دباؤ
یہ تمام عوامل مل کر نوجوانوں کو ایسے فیصلے کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جو ان کی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کی نظر میں "طاقت کی ادویات”
طبی ماہرین کے مطابق اگر کسی فرد کو واقعی کسی جسمانی مسئلے کا سامنا ہو تو اس کا علاج صرف مستند ڈاکٹر کے ذریعے ہونا چاہیے۔
بازار میں دستیاب غیر رجسٹرڈ "طاقت کی ادویات” اکثر درج ذیل خطرات رکھتی ہیں:
- بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ
- دل کے دورے کا خطرہ
- گردوں اور جگر کو شدید نقصان
- ذہنی بے چینی اور ڈپریشن
لیہ کے واقعے میں بھی یہی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ استعمال کی گئی دوا نے گردوں کو شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں موت واقع ہوئی۔
ریاستی نگرانی کی ناکامی یا لاپرواہی؟
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسی خطرناک ادویات بازار میں کھلے عام کیسے فروخت ہو رہی ہیں؟
پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور محکمہ صحت کا نظام موجود ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ چھوٹے شہروں اور دیہات میں اس کی نگرانی انتہائی کمزور ہے۔
پنسار اسٹورز، عطائی کلینکس اور غیر رجسٹرڈ حکیم بغیر کسی چیک کے ادویات فروخت کر رہے ہیں۔
لیہ کے واقعے کے بعد شہریوں نے بھی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
سوشل میڈیا اور جھوٹی امیدوں کا جال
آج کل سوشل میڈیا پر "مردانہ طاقت بڑھانے” کے اشتہارات کی بھرمار ہے۔
- "100% قدرتی علاج”
- "ایک رات میں اثر”
- "ڈاکٹروں کی ناکامی کے بعد کامیاب نسخہ”
ایسے دعوے نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، حالانکہ ان کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہوتا۔
یہ اشتہارات نہ صرف گمراہ کن ہوتے ہیں بلکہ براہ راست انسانی جانوں کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔
معاشرتی اصلاح: کہاں سے آغاز ہو؟
یہ مسئلہ صرف طبی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے، اور اس کا حل بھی دونوں سطحوں پر ہونا چاہیے۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو درست معلومات فراہم کی جائیں۔ جنسی تعلیم کو ایک ممنوع موضوع کے بجائے ایک صحت مند گفتگو کا حصہ بنایا جائے۔
والدین، اساتذہ اور مذہبی و سماجی رہنما اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، حکومت کو چاہیے کہ:
- غیر رجسٹرڈ حکیموں کے خلاف سخت کارروائی کرے
- ادویات کی فروخت کو کنٹرول کرے
- عوامی آگاہی مہم چلائے
ایک جان نہیں، ایک سبق
لیہ کا یہ واقعہ صرف ایک نوجوان کی موت نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ لاعلمی جان لے سکتی ہے, سماجی دباؤ مہلک ہو سکتا ہے اور غیر ذمہ دارانہ کاروبار قتل کے مترادف ہو سکتا ہے۔ جب تک ہم ان مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، ایسے سانحات دوبارہ ہوتے رہیں گے۔



