اہم خبریںدنیا

مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری میں امریکہ کیلئے پیغام اور جنگ پر اثرات

یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ کہہ چکے تھے کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر واشنگٹن کی منظوری کے بغیر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

9 مارچ 2026 کو ایران کی خبررساں ایجنسی نے اعلان کیا کہ آیت اللہ سید  مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، جو سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں، ایران کے تیسرے سپریم لیڈر منتخب ہوئے ہیں۔

ایران‑امریکہ‑اسرائیل جنگ کے دوران ان کے والد کی ہلاکت کے صرف چند دن بعد یہ اعلان ہوا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ اور بھی زیادہ معنی رکھتا ہے۔  یہ  منصب ایرانی آئین میں غیر منتخب اور طاقتور ترین پوزیشن ہے۔ یہ نہ صرف مذہبی اتھارٹی بلکہ خارجہ پالیسی، مسلح افواج، جوہری پروگرام اور مقننہ و مجلس پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔

ایرانی عوام کیلئے معنی

مجتبیٰ خامنہ ای  نے اب تک عوامی سطح پر بہت کم نظر آئے ہیں؛ نہ انہوں نے کوئی الیکشن لڑا اور نہ ہی انہیں مجتہد کا درجہ حاصل ہے۔ اُن کی شناخت زیادہ تر پس منظر میں رہ کر اپنے والد کے دفتر میں کام کرنے، انٹیلی جنس اور پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) سے روابط اور 2009 کی سبز تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن میں کردار سے وابستہ ہے۔

اسی وجہ سے ان کی مقبولیت محدود ہے۔ وہ تسلسل کے امیدوار ہیں اور ان کی تعیناتی تبدیلی کے خواہاں حلقوں کیلئے غیر مقبول رہے گی۔

دوسری جانب کچھ طبقات انہیں متقی، انقلابی اور شجاع قرار دیتے ہیں اور ان کی نوجوانی میں ایران‑عراق جنگ میں شرکت کو ایک کارنامہ سمجھتے ہیں۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری اور امریکہ کیلئے پیغام

 

یہ تقرری ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا یہ کہہ چکے تھے کہ ایران کا نیا سپریم لیڈر واشنگٹن کی منظوری کے بغیر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ مجلس خبرگان نے انہی شخصیت کو منتخب کیا جسے ٹرمپ ناقابل قبول قرار دے چکے تھے۔

ق علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مصالحت کی بجائے مقابلہ کی علامت ہے اور ایران کی قیادت نے کسی قسم کی مصالحت کو رد کیا ہے۔ تجریہ کاروں کے مطابق  یہ تقرری امریکی دباؤ کے سامنے کھلی بغاوت کا پیغام ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے سخت گیر راستے سے نہیں ہٹے گی۔

امریکہ کی جانب سے ردِعمل قدرے محتاط رہا۔ سابق صدر ٹرمپ نے تیل کی قیمتوں پر عارضی اثرات کو معمولی بتایا اور کھلے فوجی حملے کی دھمکی نہیں دی، البتہ انہوں نے یہ بات دہرائی کہ واشنگٹن کو نئے رہبر پر اثرانداز ہونے کا حق ہونا چاہئے۔

اسی دوران اسرائیل نے اعلان کیا کہ کسی بھی نئے رہبر کو ہدف بنایا جا سکتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران اور یروشلم کے درمیان کشیدگی بڑھے گی۔

والد کے ورثے کو آگے بڑھانے کی مشکلات

 

مجتبیٰ خامنہ ای کیلئے سب سے بڑا چیلنج اپنے والد کے دور کی حکومتی یکجہتی کو برقرار رکھنا ہے۔ ان کے والد نے نہ صرف 1980 کی دہائی میں دو بار صدارت سنبھالی تھی بلکہ طویل عرصے تک سپریم لیڈر کے طور پر سیاسی و مذہبی حلقوں کو آپس میں توازن دے کر حکومت کی۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے  پاس نہ ایسی سیاسی تجربہ کاری ہے اور نہ ہی مذہبی مرتبہ جسے ایران کے مذہبی حلقے سپریم لیڈر کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار (ISW) کی ایک رپورٹ کے مطابق، موجتبا کی نامزدگی سخت گیر دھڑوں کی جیت ہے اور وہ غالباً اپنے والد جیسی داخلی و خارجی پالیسی اختیار کریں گے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ انہیں جوازیت قائم کرنے اور مختلف دھڑوں کو ایک ساتھ رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔

اگرچہ ان کے پاسداران انقلاب اور سپریم لیڈر کے دفتر سے تعلقات کچھ مسائل حل کر سکتے ہیں۔ چند میڈیا  رپورٹ نے متنبہ کیا ہے کہ وہ کئی عوامی احتجاجوں کی سختی سے کچلنے میں ملوث رہے ہیں، اس لئے ان کی تعیناتی اصلاح پسندوں کیلئے حوصلہ شکن ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب، مبصرین نے نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ایران کو شدید اقتصادی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور بگڑتی ہوئی جنگی صورتِ حال کا سامنا ہے۔اندرونِ ملک بڑھتے ہوئے عوامی غصے اور جنگی دباؤ کے دوران آئرن فِسٹ سے حکومت کرنا ان کی مجبوری ہوسکتی ہے۔

جنگ پر اثرات

 

ایران‑امریکہ‑اسرائیل جنگ میں یہ تقرری غیر معمولی علامت ہے۔ اس فیصلے سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی سخت گیر دھڑے ایک استمراری پیغام دینا چاہتے ہیں اور کسی بنیادی اصلاح یا مفاہمت کے امکان کو رد کر رہے ہیں۔  نئے رہبر کے تحت ایران فوری طور پر امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا بلکہ جنگ کو طول دینے اور خطے میں اس کے اثرات کو وسیع کرنے کی کوشش کرے گا۔

جنگ کے جاری رہنے سے ایران کے اندرونی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ معاشی تباہی، بین الاقوامی پابندیاں اور فضائی حملے عوامی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی لیے بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ سخت گیر حلقے اس تقرری کو مزاحمت کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں، لیکن طویل جنگ اور سخت کنٹرول ملک کے اندر عدم استحکام کو بڑھا سکتے ہیں۔

نتیجہ

 

مجتبیٰ خامنہ ای کی تعیناتی ایران کے مستقبل کیلئے فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہ انتخاب ایک طرف انقلاب کے بنیادی اصولوں کو خاندان کی میراث میں تبدیل کرنے پر تنقید کا باعث بنا ہے تو دوسری طرف اس نے قدامت پسند حلقوں کو متحد کیا ہے۔ اب نیا سپریم لیڈر نہ صرف اپنے والد کی سخت گیر نظریاتی سیاست کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا بلکہ اندرونی و بیرونی محاذوں پر زبردست دباؤ کا سامنا بھی کرے گا۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کیلئے یہ پیغام واضح ہے کہ ایران نے پسپائی اختیار کرنے کی بجائے اپنے سخت موقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔

اندرونِ ملک عوامی امیدیں اور عالمی سفارت کاری دونوں اس بات پر منحصر ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے سائے سے نکل کر اداروں کی اصلاح، جنگ کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کوئی نئی راہ نکالنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال اُن کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کا نظام مسلسل مزاحمت اور سخت گیر حکمرانی کو اپنا راہِ عمل سمجھتا ہے

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button