
پاکستان میں حالیہ چند برسوں کے دوران ایچ آئی وی (HIV) اور ایڈز (AIDS) کے کیسز میں انتہائی تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ بیماری صرف مخصوص خطرات کا شکار گروہوں تک محدود ہے، لیکن آج یہ خاموش طوفان عام آبادی، بشمول خواتین اور بچوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے ایڈز (UNAIDS) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، پاکستان ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی شرح میں کمی کے بجائے تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، جن میں سے اکثریت کو اپنے مرض کا علم ہی نہیں ہے۔
اس موذی مرض کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجوہات کو سمجھنا اور ان سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ایڈز کا پھیلاؤ اور وجوہات
ریسرچ اور طبی ماہرین کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان میں ایڈز کا پھیلاؤ کی سب سے بڑی وجہ غیر اخلاقی سرگرمیاں نہیں، بلکہ صحت و صفائی کے ناقص انتظامات اور طبی غفلت ہے۔ اس کی چند بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. سرکاری ہسپتالوں اور عطائی ڈاکٹروں کی غفلت (سرنجوں کا دوبارہ استعمال)
پاکستان میں ایچ آئی وی پھیلنے کی سب سے بڑی اور خطرناک وجہ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال ہے۔ حالیہ دنوں میں تونسہ میں ایسے انکشاف نے سب کو چونکا کر رکھ دیا۔
اسی طرح گلی محلوں میں بیٹھے عطائی ڈاکٹرز (Quacks) چند روپے بچانے کے لیے ایک ہی سرنج سے کئی مریضوں کو انجیکشن لگاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض سرکاری ہسپتالوں اور دیہی مراکزِ صحت میں بھی عملے کی غفلت اور طبی آلات کی کمی کی وجہ سے استعمال شدہ سرنجوں اور ڈرپس کا استعمال کیا جاتا ہے۔
2019 میں سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں ایچ آئی وی کا جو ہولناک بریک آؤٹ ہوا، جس میں سینکڑوں معصوم بچے اس مرض کا شکار ہوئے، اس کی بنیادی وجہ بھی ایک عطائی ڈاکٹر کی جانب سے استعمال شدہ سرنجوں کا بے دریغ استعمال تھا۔
2. حجام کی دکانوں پر غیر محفوظ آلات کا استعمال
پاکستان میں گلی گلی موجود حجام کی دکانیں اس وائرس کے پھیلاؤ کا ایک اور بڑا گڑھ ہیں۔ بال کٹوانے یا شیو بنوانے کے دوران اگر استرے میں پرانا بلیڈ استعمال کیا جائے جس پر کسی ایچ آئی وی متاثرہ شخص کا خون لگا ہو، تو یہ وائرس فوراً دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ، کٹ لگنے کی صورت میں خون روکنے کے لیے ایک ہی پھٹکڑی کو بار بار مختلف گاہکوں کے چہروں پر رگڑنا بھی انتہائی خطرناک ہے۔
3. غیر محفوظ انتقالِ خون
ایمرجنسی یا سرجری کی صورت میں جب مریض کو خون کی ضرورت پڑتی ہے، تو اکثر بغیر کسی سکریننگ کے خون چڑھا دیا جاتا ہے۔ غیر مستند بلڈ بینکس میں خون دینے والے کے مکمل ٹیسٹ نہیں کیے جاتے، جس کی وجہ سے ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی جیسے وائرس بآسانی صحت مند افراد میں منتقل ہو جاتے ہیں۔
4. ڈینٹل کلینکس اور جراحی کے آلات
دانتوں کے علاج کے دوران استعمال ہونے والے آلات اگر مناسب طریقے سے جراثیم سے پاک (Sterilize) نہ کیے گئے ہوں، تو وہ بھی اس وائرس کی منتقلی کا ایک بڑا ذریعہ بنتے ہیں۔
ایچ آئی وی سے بچاؤ کے عملی طریقے
ایڈز کا فی الحال کوئی حتمی علاج موجود نہیں ہے، لیکن احتیاطی تدابیر اپنا کر اس سے 100 فیصد بچا جا سکتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے:
حجام کی دکان پر احتیاطی تدابیر:
جب بھی شیو بنوائیں یا بال کٹوائیں، حجام کو سختی سے ہدایت کریں کہ وہ آپ کے سامنے استرے (Razor) میں نیا بلیڈ ڈالے۔
استعمال شدہ تولیے کے بجائے ٹشو پیپر یا اپنا ذاتی تولیہ استعمال کرنے کو ترجیح دیں۔
کٹ لگنے کی صورت میں حجام کو وہ پھٹکڑی استعمال نہ کرنے دیں جو وہ سب پر استعمال کرتا ہے۔ اس کے بجائے نیا اینٹی سیپٹک لوشن یا مائع (Liquid) دوائی لگوائیں۔
بہترین عمل یہ ہے کہ اپنا ذاتی استرہ، بلیڈ اور قینچی کا سیٹ بنا کر دکان پر ساتھ لے جائیں۔
ہسپتالوں اور کلینکس میں چوکسی:
سرکاری یا نجی ہسپتال میں انجیکشن لگواتے وقت یا خون کا ٹیسٹ دیتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ میڈیکل سٹاف آپ کے سامنے نئی اور پیک شدہ سرنج (Auto-disable syringe) کھولے۔
ڈرپ لگواتے وقت بھی نئی کینولا اور ڈرپ سیٹ کا مطالبہ کریں۔
دانتوں کے علاج (Dental procedures) کے لیے ہمیشہ کسی مستند اور کوالیفائیڈ ڈینٹسٹ کے پاس جائیں جس کے کلینک میں آلات کو سٹرلائز (جراثیم کش) کرنے کا جدید نظام (Autoclave) موجود ہو۔
گلی محلوں کے عطائی ڈاکٹروں اور ڈسپنسروں سے علاج کروانے سے مکمل گریز کریں۔
محفوظ انتقالِ خون:
خون کا عطیہ دیتے یا لیتے وقت ہمیشہ کسی مستند اور رجسٹرڈ بلڈ بینک کا انتخاب کریں۔
اس بات کو یقینی بنائیں کہ خون چڑھانے سے پہلے اس کی ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر خطرناک بیماریوں کے لیے مناسب لیبارٹری سکریننگ کی گئی ہو۔
ذاتی اور اخلاقی احتیاط:
ٹیٹو (Tattoos) بنوانے یا کان/ناک چھدوانے کے لیے ہمیشہ ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں سوئیاں اور آلات ہر گاہک کے لیے نئے استعمال کیے جاتے ہوں۔
کسی دوسرے شخص کا ٹوتھ برش، ریزر، یا ناخن تراش (Nail clipper) استعمال نہ کریں۔
پاکستان میں ایڈز کا پھیلاؤ لمحہ فکریہ
پاکستان میں ایچ آئی وی/ایڈز کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عطائی ڈاکٹروں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کرے اور سرکاری ہسپتالوں میں آٹو ڈس ایبل سرنجوں کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
تاہم، بحیثیت شہری ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی صحت کے معاملے میں خود غرض بنیں، اپنے حقوق جانیں اور علاج یا روزمرہ کاموں کے دوران کسی قسم کی صفائی کی غفلت کو برداشت نہ کریں۔
یاد رکھیں، ذرا سی احتیاط آپ کو اور آپ کی نسلوں کو اس لاعلاج مرض سے بچا سکتی ہے۔



